پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ میزبان و کامیڈین تابش ہاشمی کا کہنا ہے کہ کراچی کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں گل پلازا سے لائی گئی کوئی چیز موجود نہ ہو، بچپن سے جوانی اور اب جب پکی عمر میں ہیں تو جو ایسوسی ایشنز کراچی میں تھیں وہ ایک ایک کر کے ختم ہو رہی ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’رپورٹ کارڈ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے تابش ہاشمی نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس سنی جس میں انہوں نے کہا کہ میں جوابدہ ہوں لیکن یہ سب صرف باتوں سے نہیں ہوتا، عمل کرنا پڑتا ہے۔
تابش ہاشمی نے کہا کہ یہ کراچی میں کوئی پہلا واقعہ نہیں، کئی مرتبہ آگ لگ چکی ہیں اور کئی ڈمپروں کے نیچے بچے آکر مرچکے ہیں، اگر وزیراعلیٰ جوابدہ ہیں تو مجھے بتائیں کیا ان کا عہدہ گیا؟ کیا ان کی تنخواہ کٹی؟ متاثرہ افراد کو جو ہرجانے دیے جاتے ہیں وہ بھی یہ اپنی جیب سے ادا نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں کہوں گا جیسے حکومت کو احساس ہوا کہ ان سے پی آئی اے نہیں چل پارہا تو انہوں نے وہ پرائیوٹائز کردیا، آپ اسی طرح کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی والے پٹھان، بلوچ، سندھی، مہاجر، پنجابی جتنے بھی لوگ ہیں ہم سب مل کر شہر خرید لیں گے۔ مجھے یقین ہے بہت اچھا شہر چلا لیں گے، اگر اسی طرح چلنا ہے تو، کیونکہ ان سے برا تو نہیں چلا پائیں گے ہم شہر کوشش کے باوجود چلائیں گے۔