اپنے خیالات کا بےباکی سے اظہار کرنے والی معروف پاکستانی اداکارہ و میزبان مشی خان نے سانحہ گل پلازا کے بعد غیر حساس رویہ اختیار کرنے پر سول سوسائٹی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
ان دنوں مشی خان گل پلازا سانحے پر نہایت متحرک نظر آ رہی ہیں اور مسلسل ویڈیوز کے ذریعے عوام اور حکام کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اداکارہ نے حالیہ ویڈیو میں کراچی کی سول سوسائٹی کے اُس غیر حساس رویّے پر سخت تنقید کی جو گل پلازا سانحے کے متاثرین کے لیے کسی ہمدردی کا اظہار کیے بغیر اپنی سماجی تقریبات میں مصروف رہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم گل پلازا سانحے، حکومتی غفلت اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر تو بات کر رہے ہیں، مگر آج میں سول سوسائٹی کی بات کروں گی۔ ہم بطور پاکستانی شہری، اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں آگ لگنے کا واقعہ 17 جنوری کو پیش آیا، مگر 18 جنوری کو طے شدہ تقریبات منسوخ نہیں کی گئیں۔ کراچی میں ایک چیریٹی برنچ اپنے شیڈول کے مطابق منعقد ہوا۔ خالق دینا ہال میں ایک بڑے ڈیزائنر کا فیشن شو ہوا، جو گل پلازا سے چند منٹ کی دوری پر ہے۔ اس کے فوراً بعد اسکن کیئر لانچ کی تقریب بھی منعقد کی گئی، جن میں نامور شخصیات نے شرکت کی۔
مشی خان نے کہا کہ ایک طرف لوگ سانحے میں پھنسے ہوئے تھے اور دوسری طرف تقریبات سے لطف اندوز ہوا جا رہا تھا۔ ایسی بےحس اور افسوسناک سوچ رکھنے والے لوگوں پر شرم آنی چاہیے۔ اب آپ کہیں گے کہ تقریبات اس لیے منسوخ نہیں کی جا سکتیں کیونکہ پیسہ لگ چکا تھا، کیوں؟ جب جنگلات میں آگ لگی تو آسکرز کی نامزدگی کی تقریب سمیت تمام ایونٹس منسوخ کر دیے گئے۔ شرم کریں، ہمدرد بنیں، اور درد میں مبتلا لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔
انہوں نے مذکورہ ویڈیو پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ گل پلازا سے چند منٹ کے فاصلے پر واقع خالق دینا ہال میں ہونے والے فیشن شو، چیریٹی برنچ یا اسکن کیئر لانچ کو منسوخ یا مؤخر نہ کرنے والی پوری سول سوسائٹی پر شرم ہے۔ ایسے بے حس اور قابلِ افسوس لوگوں پر واقعی لعنت ہے۔
اداکارہ کی پوسٹ پر کمنٹس میں تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین ان سے متفق دکھائی دیے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک بےحس معاشرہ بنتا جا رہا ہے۔