آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پی ڈی ایم، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا پہلا سیاسی اتحاد ہے

لاہور(تجمل گرمانی ) پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان پہلا سیاسی اتحاد ہے. نیا سیاسی اتحاد عمران خان کے بجائےاسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنا کر ملک میں صاف شفاف انتخابات کے لئے دباؤ ڈالے گا. لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا پیپلزپارٹی سندھ حکومت توڑنے ،اتحاد میں شامل پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں اسمبلیوں سے استعفے دینے پر رضامند ہوں گی۔

سیاسی حلقوں کے مطابق پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اس سے قبل نوابزدہ نصر اللہ خان کی قیادت میں اے آر ڈی، میثاق جمہوریت ،اعلان مری، پرویز مشرف حکومت کیخلاف اور عدلیہ بحالی تحریک میں اکٹھی ہوئیں لیکن کوئی باقاعدہ اتحاد قائم نہ ہوا اور معاملہ مشترکہ جد و جہد تک محدود تھا، یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں جماعتیں ایک پلیٹ فارم سے مشترکہ احتجاجی تحریک چلانے پر آمادہ ہوئیں ہیں. اے پی سی کے جاری اعلامیہ میں عمران خان کےفوری مستعفی نہ ہونے پر اکتوبر میں جلسے، دسمبر میں احتجاجی مظاہرے، جنوری میں اسلام آباد لانگ مارچ کے علاوہ عدم اعتماد اور اجتماعی استعفوں کے لئے کمیٹی قائم کی گئی ہے،ان اہداف کے لئے پاکستان جمہوری تحریک قائم کی گئی ہےجس کی تنظیم کی بجائے کمیٹی قائم ہو گی جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہو گی۔

پیپلزپارٹی کے سابق مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سنیئر رہنما الطاف قریشی نےکہا کہ دونوں جماعتوں کا انتخابی اتحاد قائم ہونا قبل ازوقت ہے، ابھی تو اہم سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم نئے الیکشن کرانے میں کامیاب ہو گا، اپوزیشن اتحاد تحریک انصاف نہیں اس کے پیچھے قوتوں کے خلاف سرگرم ہو گا۔

احتجاجی تحریک کے دوران مقدمے ، گرفتاریاں ہو ئیں تو اسٹیلشمنٹ کمزور ہو گی ، اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی تحریک کامیاب ہو گی کیونکہ عوام کو دو وقت کی روٹی نہیں مل رہی ، بے روزگاری ، معیشت کی تباہی سےعوام تنگ آ چکے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید