آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اب سمندری پانی آدھے گھنٹے میں پینے لائق بن جائے گا

ایمان صغیر

سمندرے پانی کو پینے کے لائق بنانے کے لیے عالمی تحقیقاتی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک فلٹر تیار کیا ہےجو 30 منٹ سے بھی کم وقت میں سمندری پانی کی بڑی مقدار کو پینے کے قابل بناسکتا ہے ۔یہ شمسی توانائی سے چلتا ہے ۔اس فلٹر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ماحول دوست طر یقے سے کام کرتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے دنیا کے لاکھوں افراد کو پینے کے لیے صاف پانی مل سکےگا اور اس توانائی کو موجودہ صفائی کے طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر انداز میں استعمال کیا جا ئے گا۔

اس منصوبے کی قیادت کرنے والے پروفیسر ہنٹنگ وانگ کے مطابق دور دراز میں رہنے والے لوگ اس سے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ خصوصی طور پر تیار کیا گیا یہ فلٹر روزانہ سیکڑوں لیٹر پینے کا پانی پیدا کرسکتا ہے اور اس کو صاف کرنے کے لیے صرف سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس عمل کو کم توانائی، کم لاگت والا اور پائیدار بناتا ہے۔

فلٹر کی تیاری کے لیے آرگینو میٹیلک مرکبات یا ایم او ایفس استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں دھات شامل ہوتا ہے جن سے کرسٹل کا مواد تیار ہوتا ہے۔صاف کرنے کے عمل کے دوران فلٹر، جس کا نام پی ایس پی، ایم آئی ایل 53 ہے، پہلے نمک کو جذب کرتا ہے اور پھر اسے سورج کی روشنی میں رکھا جاتا ہے، تاکہ اسے دوبارہ تخلیق کیا جاسکے۔اس عمل میں چار منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔اس دوران فلٹر دوبارہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس سے پانی میں موجود نمک کو جذب کیا جاسکے۔

عالمی ادارہ صحت نے تجویز دی ہے کہ اچھے معیار کے پینے کے پانی میں 600 ملی گرام فی لیٹر سے بھی کم کل تحلیل شدہ ٹھوس مادّے (ٹی ڈی ایس) ہونا چاہیے۔محققین صرف آدھے گھنٹے میں 500 ملی گرام سے بھی کم ٹی ڈی ایس حاصل کرنے اور سورج کی روشنی میں استعمال کے لیے ایم او ایف فلٹر کو تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔یہ عمل پانی سے نقصان دہ ذرات کو فلٹر کرنے اور روزانہ ایک کلوگرام ایم او ایف 139.5 لیٹر صاف پانی پیدا کرنے میں کامیاب رہا ۔موناش یونیورسٹی کے شعبہ کیمیکل انجینئرنگ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر وانگ دنیا میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے اس کی صفائی کو ایک قابل عمل راستہ سمجھتے ہیں۔

نیم کھارے پانی میں تازہ پانیوں سے کہیں زیادہ اور سمندری پانی سے کم گھل جانے والے نمکیات ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کا صاف کرنے کا عمل قابل اعتماد ہے۔اس ٹیکنالوجی میں کم توانائی کی کھپت اور اس عمل کے دوران کیمیکلز کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے وانگ کا کہنا ہے کہ یہ نئی شمسی توانائی والی ٹیکنالوجی مستقبل میں صاف پانی کے مسئلے کو حل کر نے میں مدد گار ثابت ہوگی۔

فلٹرنگ کے لیے شمسی توانائی کا استعمال طویل عرصے سے ہوتا رہا ہے، جہاں پانی کے بخارات بنتے ہیں اور تازہ پانی پیدا ہوتا ہے۔ لیکن گھریلو استعمال کے لیے زیادہ پانی چاہیے ہوتا ہے تو اس میں کئی گھنٹے لگتے ہیں۔ہم اپنے مواد کو ری سائیکل کرنے کے لیے سورج کی روشنی کا استعمال کرتے ہیں اور اس میں صرف چند منٹ لگتے ہیں۔فی الحال اس کی قیمت مقرر نہیں کی گئی ہے ۔ماہرین کواُمید ہے کہ اس پر مزید تحقیق کرنے کے بعد یہ کم قیمت میں دستیاب ہوگا۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید