آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سانپ کو اس کی ہیئت کی بنا پر دہشت کی علامت اور بدی و شیطانیت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ اہرام مصر میں سانپوں کو جا بجا انسانوں کے ساتھ نقش کیا گیاہے۔ چین میں یہ مختلف رنگوں کا حامل ڈریگون کی صورت تو انڈیا میں کئی منہ رکھنے و الا سانپ ملتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہندوئوں کی کثیر تعداد اسے ناگ دیوتا مان کر اس کی پوجا کرتی ہے۔ جب کہ انڈونیشیا میں سر انسان کااور دھڑ سانپ کی طرح تصویر دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب زمین کے اس حشرات سے انسان کی ناپسندیدگی اور خوف کی وجہ اس کا زہر ہے اور اسی صورت حال کاسامنا جانوروں کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس خوف میں مزید پراسراریت کا تڑکا جوگیوں، سادھوئوں اور ہندو دیومالائی داستانوں نے بھی لگایا۔ بہ ظاہر پر اسرار، ہیبت ناک دکھائی دینے والےسانپ ہمیشہ انسان اور آبادی سےخاصے دور بھاگتے ہیں لیکن یہ کسی بھی نوعیت کاخطرہ محسوس کرتے ہیں تو یہی شرمیلے سانپ انسانوں اور جانوروں کے لئے جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ چونکہ سانپوں کے ہاتھ پیر نہیں ہوتے کہ وہ اپنے مطلوبہ شکار کو پکڑ سکیں، اس لئے یہ اپنے دفاع کے لئے منہ کا استعمال کرتے ہیں ان کے منہ میں باریک انجکشن کی سوئی کی مانند دانتوں کے اوپر موجود زہر اس کےدفاع کے لئے کارآمد ثابت ہوتاہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تین ہزار سےزائد سانپوں کی نسلیں ہیں، جب کہ پاکستان میں تقریباً 3؍ سو سانپوں کی نسلیں موجود ہیں۔ ایسے زہریلے سانپوں کی مجموعی تعداد 170؍ ہے۔ ان سانپوں کی بہ نسبت دیگر سانپ زہریلے نہیں ہیں۔ یعنی ان کا زہر اس نوعیت کا ہوتا ہے کہ وہ انسان و جانور کے لیے مہلک نہیں ہوتا۔ پاکستان میں صحرائی، خشکی، پہاڑی اور میدانی علاقوں میں عموماً 4؍ اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں جن میں کوڈیالہ، سنگچور، کالا ناگ (کوبرا) اور جلیبہ شامل ہیں۔ یہ سانپوں میں انتہائی درجے کے زہریلے سانپ ہیں۔ ان کے زہر اور اثرات کا جائزہ لیں تو کوڈیالہ سانپ میدانی علاقوںاور اس کی کچھ اقسام پہاڑوں پر ملتی ہے۔ اس سانپ کو سندھ میں ’’ کرار‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سانپ کی خاصیت یہ ہے کہ اس کے کاٹے سے انسان چند گھنٹوں ہی میں مر جاتا ہے ۔ اسی طرح سنگ چور سانپ سندھ میں ھٹ کھٹ یا لنڈی کے نام سے معروف ہے۔ یہ سانپ کئی فٹ دور اور قدرے اونچی جگہ پر اچھل کر مطلوبہ شکار کو اپنے پھن کا نشانہ اس طرح بنالیتا ہے کہ مطلوبہ شکار کو سنبھلنے کاموقع تک نہیں دیتا۔

کالے ناگ سمیت سندھ اور پاکستان کے دیگر علاقوں سمیت اس کی تعداد مداریوں، حکیموں، جوگیوں، بیرون ملک اسمگلنگ اور مار دیئے جانے کے سبب قلیل رہ گئی ہے۔ تقریباً 8؍ سے 16؍ فٹ تک لمبائی رکھنے والے اس سانپ کااصل مسکن ہمالیہ کے پہاڑ ہیں مگر یہ ٹھٹھہ اور مکلی کے پہاڑوں کے علاوہ سندھ کے قدرتی جنگلات اور سرسبز علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ سندھ سمیت پاکستان میں زہریلے سانپوں کے ڈسنے کی شرح میں اضافے کا سبب ماہرین بتاتے ہیں کہ ’’چونکہ سندھ ایک زرعی، میدانی، صحرائی اور پہاڑی خطہ ہے اور اس کی زیادہ تر دیہی آبادی زرعی علاقوں میں رہائش پذیر ہے اس لئے عموماً بارشوں کے دوران یا سیلاب کے آجانے کے سبب سانپوں کو جہاں محفوظ پناہ گاہ ملتی ہے یہ وہیں اپنا ٹھکانہ بنالیتے ہیں ا ور جب انہیں شکار نہ ملے تو یہ بھوک سے نڈھال ہو کر انسانوں اور جانوروں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ سندھ میں فصلوں کی کٹائی کے دوران بھی ان زہریلے سانپوں کے سبب زیادہ نقصان کسانوں اور ہاریوں ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ سانپ کے کاٹے سے متاثرہ شخص سستی، کمزوری اور سوجن میں مبتلا ہوجاتا ہے اس دوران اگر متاثرہ فرد کو فوری طور پر طبی امداد کے ساتھ ساتھ سانپ کے کاٹے کی ویکسین نہ ملے تو اس کی موت یقینی ہوتی ہے۔ لیکن یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ سندھ کے اسپتالوں میں سانپ کے کاٹے کی ویکسین دستیاب ہو اور ڈاکٹروں کے لئے یہ پتہ چلانا بھی ذرا مشکل ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص کو زہریلے سانپ نے ڈسا ہے یا کسی بے ضرر سانپ کاشکار بنا۔ 

عموماً دونوں صورتوں میں زہریلے سانپ کے ڈسنے کی ہی ویکسین متاثرہ شخص کو دی جاتی ہے۔ یہ ویکسین پاکستان میں انڈیا، امریکا، جرمنی و دیگر ممالک سے مہنگے داموں منگوائی جاتی ہے لیکن اسپتالوں میں یہ ویکسین اکثر ناپید ہوتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سندھ سمیت پاکستان کے سانپوں کی بہ نسبت دیگر ممالک کے سانپوں کی نسلوں                      ا ور ان کے زہر میں نمایاں فرق ہے اور ان کے زہر سے تیار ہونے والی ویکسین سندھ یا پاکستان میں زیادہ موثر نہیں ہے۔ جس کی بنا پر ہمیشہ اس امر کی ضرورت رہی ہے کہ سانپ کے کاٹے کی بیرونی ممالک سے مہنگی اور غیر موثر ثابت ہونے والی ویکسین منگوانے کے بجائے پاکستان ہی میں اس کی تیاری کو ممکن بنایا جائے اور اس تریاق میں مقامی سانپوں کے زہر حاصل کرنے کےلئے اقدامات کئے جانے کے علاوہ جوگیوں و مختلف ذرائع سے بھی مدد لی جائے۔

زندگی اور زندگی کے حسین رنگوں سے مزین دنیا کا9؍ واں بڑا صحرا، تھر سے منتخب ہونے والے سندھ اسمبلی کے سابق رکن ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے 2004ء کے دوران وزیرا علی سندھ کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس وقت تھرپارکر میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیاتھا چنانچہ اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے تھرپارکرکے ایک جلسہ عام میںخطاب کےدوران انہوں نے مٹھی میں سانپ کے کاٹے کے علاج کا مرکز بنانے کا اعلان کیا۔ چنانچہ وہ 2؍ سال تک مختلف شخصیات، ماہرین اور متعلقہ اداروں سے رابطے ہی کرتے رہے اور جدید آلات پر مشتمل لیبارٹری کے قیام کا وعدہ محض خواب و خیال ہی بنارہا۔ بعد ازاں وزیراعلی سندھ نے آرمی میڈیکل کور کے بریگیڈیئر انوارالاسلام سے مذکورہ لیبارٹری کے قیام کے لئےتعاون کرنے پر زور دیا۔ چنانچہ اس ضمن میں پہلا اجلاس چھورچھائونی میں منعقد ہوا جس میں محکمہ صحت سندھ کے سیکریٹری ڈاکٹر نوشاد شیخ، ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ہادی بخش جتوئی اور آزاد جموں کشمیر میں بہ حیثیت ایڈوائزر یورپین کمیشن فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر نعیم قریشی شامل تھے۔ 

اس مشترکہ اجلاس کے دوران مٹھی میں اینٹی اسنیک وینم و اینٹی ربیز سیرولوجی لیبارٹری قائم کئے جانے سے متعلق غور و خوص کیا گیا۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر نعیم قریشی نے اعتراض کیا کہ لیبارٹری کے قیام کے لئے تھرپارکر زیادہ موزوں مقام نہیں ہے چنانچہ یہ دوسرے شہر میں بنائی جائے تاکہ سانپوں کو سازگار ماحول اور ان کے زہر سے سانپ ڈسنے کا تریاق تیار کرنےمیں آسانی حاصل ہوسکے۔ 

چنانچہ مذکورہ لیبارٹری کےقیام کے سلسلے میں باقاعدہ پی سی ون تیار کی گئی جسے 2008ء کے دوران منظور کرلیا گیا لیکن اس کا بجٹ 2012ء کے دوران 203؍ ملین روپے بعد ازاں 551؍ ملین روپے مختص کیا گیا۔ اس دوران جو لیبارٹری لیاقت میڈیکل یونیورسٹی و ہیلتھ سائنسز جام شورو میں قائم ہوئی تھی اسے اس وقت کے وزیر صحت مظفر حسین شجرہ نے نواب شاہ ضلع کی تحصیل سکرنڈ میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے جس کی بنا پر 2015ء کے دوران سکرنڈ میں 3؍ ایکڑ 12؍ گھنٹے اراضی پر امریکا اورجرمنی کے بعد دنیا کی تیسری، ایشیا کی دوسری اور پاکستان کی پہلی لیبارٹری قائم کئے جانے کی سمری منظور کی گئی۔ 2016ء کے دوران اس لیبارٹری کا فنڈ روک دیا گیا جسے بعد ازاں مقامی عدالت کےحکم پر دوبارہ جاری کردیا گیا۔ 2019-20ء کے دوران اس لیبارٹری کے قیام اور عمارت کی تعمیر کے لئے حکومت سندھ نے 16؍ کروڑ روپے کا فنڈجاری کیا جس میں 5؍ کروڑ روپےعمارت کی تعمیر، لیبارٹری کے آلات کے لئے ڈھائی کروڑ روپے، سانپوں، گھوڑوں، اونٹوں و دیگر جانوروں کی خریداری کے لئے 40؍ لاکھ روپے، گاڑیوں کے لئے 60؍ لاکھ روپے، سائنسی کیمیکل کے لئے 20؍ لاکھ روپے، تحقیق میں معاون ثابت ہونے والی کتابوںپر مشتمل کتب خانے کے لئے 20؍ لاکھ روپے شامل تھے۔ 

عمارت میں شعبہ انتظامی امور،سانپوں، بھیڑوں، اونٹوں و دیگر جانوروں کی افزائش، نگہداشت کا شعبہ، زہر نکالنے، تریاق بنانے اور معیار کو جانچنے کے شعبہ جات کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہاں تیار ہونے والے زہرکے تریاق کا شعبہ مارکیٹنگ قائم کیاگیاہے۔ لیبارٹری میں ایک پروجیکٹ ڈائریکٹر، 2 سائنٹیفک آفیسر اور لیبارٹری کے عملہ کے 6 افراڈسمیت مجموعی طور پر 24؍ افراد مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

زمانہ قدیم ہی سے ویدوں، جراحوں، جوگیوں حتی کہ عام لوگوں میں سانپ کے کاٹے کا علاج منہ سےزہر چوس کر نکالنا، متاثرہ حصے کو کاٹ دینا، جلا دینا، نمک مرچ بھر دینا و دیگر لاتعداد طریقے مروج ہیں۔ اس طریقہ علاج میں ہمیشہ متاثرہ شخص کے ساتھ ساتھ زہر کو چوس کر نکالنے والے شخص کی جان کو خطرات لاحق ہوتے ہیں جب کہ دوسری جانب سائنسی بنیادوں پر صحافیوں کو زہر سے تریاق بنانے والے کئی ممالک آج بھی فرسودہ ٹیکنالوجی ایمونیم سلفیٹ پر اسٹی بٹیشن کا استعمال کررہے ہیں۔ حالانکہ دنیا میں اس حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کیلاٹرالک ایسڈ فریکشی نیشن متعارف ہوچکی ہے مگر تھائی لینڈ، کوسٹاریکا کے علاوہ پاکستان میں صرف اسی لیبارٹری کو یہ سہولت حاصل ہے۔ 

سکرنڈ میں قائم اینٹی اسنیک وینم و اینٹی ربیز سیرولوجی لیبارٹری میں بہ حیثیت پروجیکٹ ڈائریکٹرخدمات انجام دینے والے ڈاکٹر نعیم قریشی بتاتے ہیں کہ ’’سندھ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہےکہ یہاں اداروں کے قیام کا اعلان تو کردیا جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد کے لئےخاصی تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ یہاں سرکاری فنڈز کو سیاسی مقاصد، شہرت اور ذاتی وقار و نام و نمود کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس امر سے بھی بہ خوبی لگایا جاسکتاہے کہ تھرپارکر میں 9؍ ارب روپے کی لاگت سے 20؍ آر او پلانٹ لگائے گئے جن میں زیادہ تر استعمال ہوئے بغیر ہی خراب ہیں یا بند پڑے ہیں۔

سانپ کے کاٹے یا سگ گزیدگی سے ہونے والی ہلاکتوں کی روک تھام کے لئے ویکسین کی تیاری کے فنڈز کا اجراء وقت پر نہیں کیا جاتا شاید اس امر میں وہ کمیشن مافیا رکاوٹ ثابت ہوتی ہوگی جو انڈیاو دیگر ممالک کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے یہ ویکسین پاکستان میں درآمد کرتی ہے۔ یہ بات بھی واضح کردوں کہ اگر پاکستان میں بھاری تعداد میں یہ ویکسین تیار کی جائے تو یہ انڈیا یا دیگر ممالک کے مقابلے میں کم قیمت میںنہ صرف مقامی لوگوں کو دستیاب ہوگی بلکہ دنیا بھر سے اس کے ذریعے زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ تریاق کی تیاری ملک و ملت کے لئے انتہائی سنجیدہ تحقیق ہے اور اس تحقیق کے کامیاب تجربے کے اعلان کے باوجود تحقیق کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔ 

چونکہ اس لیبارٹری کے قیام کے سلسلےمیں منعقد ہونے والے پہلے اجلاس میں یہ انکشاف ہوا تھاکہ اجلاس میں موجود بعض شخصیات اس لیبارٹری کےقیام اور اینٹی اسنیک وینم ویکسین کی تیاری کے مراحل و طریقہ کار سے لاعلم تھیں۔ اس لئے مجھے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں لیبارٹری کےقیام کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے مکمل ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے یونیورسٹی میں 5؍ لیبارٹریاں قائم کیں جس کے نتیجے میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی پاکستان میں دوسرے اور پبلک سیکٹر میں پہلے نمبر پر آگئی۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر غلام ارباب رحیم یہ لیبارٹری مٹھی میںقائم کرنا چاہتے ہیںمگر اس ضمن میں مناسب دلائل پیش کئے جانے کے سبب، میںیہ لیبارٹری لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں قائم کرانے میں کامیاب ہوگیا، مگر بعد ازاں وزیر صحت عذرا پیچوہو نے اس لیبارٹری کے لئے سکرنڈ شہر کا انتخاب کیا۔

بہ ظاہر پرسکون محسوس ہونے والی یہ خوب صورت عمارت اندرونی طور پر خوف ناک محسوس ہوتی ہے۔ اس لیبارٹری میں سانپ کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا لیکن مستقبل میں یہ عمارت کم زور دل لوگوں کے لئے نہیںہوگی۔ لیکن اس کے باوجود دل چسپ بات یہ ہے کہ انسانوں کے لئے خطرہ بننے والے انہی سانپوں کےپھن انسانی جانوں کو بچانے کے لئے مددگارثابت ہوں گے۔ اس لیبارٹری میں زہریلے سانپوں سےزہر حاصل کرکے ایساتریاق تیار کرلیا گیا ہے جو تمام اقسام کے سانپوں کے زہر کاتوڑ ہے۔ یہاں محققین زہر کی مختلف اقسام سے پروٹین حاصل کرکے ویکسین تیار کررہے ہیں اور اس امر کی جستجو و کوششوں میں مصروف ہیں کہ درکار دوا کو ریفریجریٹر کے بغیر طویل عرصے تک محفوظ رکھا جاسکے۔ اس مقصد کے حصول اور کسی بھی زہر کا اینٹی ڈوٹ بنانے کے لئے ڈاکٹر نعیم قریشی کے مطابق سب سے پہلے سانپوں کو ٹھٹھہ میں موجود ایک اسنیک ہائوس سے منگوایا جاتا ہے۔ 

ان سانپوں کی کم سے کم 6؍ ماہ کے لئے دیکھ بھال کی جاتی ہے اور ان کی صحت کو یہاں لاکر ازسرنو مانیٹر کیا جاتاہے۔ اس کے بعد مطلوبہ سانپ کو پکڑ کر اسے اس شیشے کے جار کےاوپر لگے کپڑے پر بائٹ کرایا جاتا ہے اس طرح زہر کی مقدار اکٹھا کی جاتی ہے۔ زہر اکٹھا کرنے کایہ عمل کئی بار کیاجاتا ہے بعض سانپوںمیںز ہر کی مقدار نسبتاً زیادہ اور بعض میںانتہائی قلیل ہوتی ہے حتی کہ ایسےسانپوں کے زہرکی مقدار ایک یا دو بار ہی لی جاسکتی ہے اور اس زہر کو 20؍ ڈگری درجہ حرارت تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ مناسب مقدار میں مطلوبہ سانپوں سے زہر نکال کراس کو مختلف مراحل سےگزارا جاتا ہے۔ 

سانپوں کے زہر کو پتلا اورخشک کرنے ے بعد اس کے ٹیکے لیبارٹری میں پہلے سےموجود صحت مندگھوڑوں کی گردن میں لگائے جاتے ہیں، یہ ٹیکے لگتےہیں گھوڑے سے اس کے مدافعتی نظام کو اس زہر کے اثرات ختم کرنے کےلئے اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے جو گھوڑے کے خون میں شامل ہوجاتی ہے۔ (واضح رہے کہ انسانوں کی بہ نسبت گھوڑوں میں قوت مدافعت کہیں زیادہ ہوتی ہے) گھوڑوں میں ایک مقررہ حد تک اینٹی باڈیز پیدا ہونے کے بعد ان کے جسم سے خون نکالا جاتا ہے۔ اس خون سے پلازمہ علیحدہ کرکے اس سے اینٹی وینم سیریم بنائی جاتی ہے جوانجکشن کی صورت میں اسپتالوں، طبی اداروں، میڈیکل اسٹوروںکوفراہم کی جاتی ہیں مگر اس لیبارٹری میں اتنی تعداد میں ویکسین تیار کی جاتی ہے کہ اسے باقاعدہ مارکیٹ میں لایا جاسکے۔

سانپ کے کاٹے سے بچائو کی ویکسین کو عالمی ادارہ صحت نے عالمی معیار کی دواقرار دیتے ہوئے سانپ کے کاٹنے کی 99.9 فیصد موثر دوائی بھی قرار دیاہے اور اس امر کی تصدیق ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جن سانپوں سے زہر نکالا جاتا ہے ان میں 20/30 دن کے دوران دوبارہ زہر پیدا ہوجاتا ہے اگر کسی شخص کو سانپ کاٹ لے تو کاٹے جانے کی جگہ پر دو یا تین باریک نوک دار نشان ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ کسی زہریلے سانپ نے کاٹا ہے لیکن اگرسانپ کے کاٹنے کے بعد نوک دار دانتوں کے نشان عضو پر نہ قائے جائیں تو ایسا سانپ زہریلا نہیں ہوتا۔

دنیا میں سانپ کے کاٹنے کا تریاق بنانے اور تحقیق کے دوران استعمال ہونے والے گھوڑوں، اونٹوں، بھیڑوں و دیگر جانوروں کی اموات معمول ہے لیکن خوش قسمتی سے سکرنڈ میںقائم اس لیبارٹری میں تریاق کی تیاری کے دوران نہ صرف جانوروں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا گیا بلکہ اس تریاق کو انسانوں پر آزمانے اور اس کے مثبت نتائج حاصل کرنے کی بھی صلاحیت حاصل کی۔ پاکستان کی اس کاوش کو دنیا بھر کے محققین قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نائیجریا کی فیڈرل یونیورسٹی برنین کیبی میں بائیو کیمسٹری اینڈ مالیکیولز بائیلوجی کے عنوان سے 2015ء کےدوران منعقد ہونے والی دو روزہ عالمی کانفرنس میں نائیجیریا کے صدر مملکت پروفیسر یوسف سیرو نے کھڑے ہو کر پاکستان کو اس کاوش پر خراج تحسین پیش کیا۔ 

یہ نائیجیریا کی تاریخ کا پہلاواقعہ ہےکہ صدر مملکت نے اس طرح داد و تحسین سے نوازا ہو۔ پاکستان میں اس کامیاب تجربے کو پہلی بار اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کے سامنے لانے کےساتھ ساتھ درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا گیا تاکہ پاکستان کو اس تریاق کی تیاری سے کثیر زرمبادلہ حاصل ہوسکے۔ لیکن اس لیبارٹری کو رواں دواں رکھنے سے متعلق کبھی سنجیدہ اقدام نہیں کئے گئے حتی کہ سانپ کے کاٹے سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح میں کمی میں ممکنہ معاون ثابت ہونے والی اس لیبارٹری کے سالانہ بجٹ میں وقتاً فوقتاً غیر ضروری طور پر کمی کی گئی یا یہ فنڈز روک دیئے گئے۔ پاکستان میں یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ انتہائی نوعیت کے اس موضوع کو میڈیکل یونیورسٹیوں کے نصاب میں کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔یہی وجہ ہے کہ طلباکو سانپ کے کاٹے سے متعلق محض ابتدائی طور پر معمولی نوعیت کی معلومات فراہم ہوتی ہیں۔ 

لیاقت میڈیکل اسپتال حیدرآباد کے ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راجا احسان الہی کہتے ہیں کہ دنیا میں پہلی بار سانپ کے کاٹے کی ویکسین 1896ء کے دوران پہلی بار متعارف ہوئی اور اس کا سہرا معروف سائنس دان لوئس پاسچر کے سر جاتا ہے۔ ان کی اس ایجاد سے میڈیکل سائنس میں نئی تاریخ رقم ہوئی اور سسکتی، دم توڑتے انسانوں کو زندگی کی نئی خوشیاں ملیں۔ پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے یوں تو کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئےجاتے ہیں اور جنگلات نہ ہونے کے سبب یہ دریائوں، جھیلوں، تالابوں کے کنارے رہنا پسند کرتے ہیں۔

سندھ میں انڈس ڈیلٹا کے قریب اور تھرپارکر و ہالیجی جھیل پر اس کی کھال حاصل کرنے کے لئے سانپوں کا شکار کیا جاتا ہے جس سے ان کی نسلیں معدوم ہورہی ہیں۔ سکرنڈ میں واقع اینٹی اسنیک وینم لیبارٹری پاکستان کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا اور باعث اعزاز ہے۔ اس میں یقیناً حکومت سندھ کے ساتھ لیبارٹری کا متعلقہ عملہ بھی باعث خراج تحسین ہیں لیکن انتہائی افسوس ناک امر یہ ہےکہ یہ لیبارٹری روز افزوں موثر ثابت ہونے کے بجائے اس کی راہ میں مسائل پیدا کرکے اسے دم توڑنے پر مجبور کیا جارہاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ کی اس لیبارٹری کو فعال بنانے کے لئے متعلقہ افسران کو اہم اقدامات کرنا ہوں گے۔

کہتے ہیں کہ عمارتیں بولتی ہیں، یہ لیبارٹری بھی چیخ چیخ کر نوحہ کناں ہے کہ کثیر سرمائے سے قائم ہونے والی یہ عمارت اور لیبارٹری متعلقہ وزارت، افسران یا کمیشن مافیا کے ہاتھوں افتتاح سے پہلے ہی ویران ہوجائےگی۔ حالانکہ یہ شہر سابق صدر، آصف علی زرداری، فریال تالپور اور پیپلزپارٹی کا سیاسی گڑھ رہا ہے اور اب بھی سندھ میں اس جماعت کی حکومت ہے۔ تو کون ہے جو اس کی فریاد سنے گا۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید