آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مودی کو بااثرافراد کی فہرست میں شامل کیوں کیا گیا؟

امریکی جریدے کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو دنیا کے 100 با اثر افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکی جریدے ’ٹائم‘ نے گزشتہ دن دنیا کے 100 با اثر افراد کی فہرست جاری کی  ہے جس میں دنیا کے 100 با اثر فنکار، سیاستدان، معروف شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔

اس فہر ست میں بھارت کے 14 ویں وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی نام بھی شامل ہے جس کی وجہ اُن کے سارے اقلیت مخالف پالیسیز اور فیصلوں کو قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت گزشتہ 7 دہائیوں سے دنیا میں سب سے بڑا جمہوری نظام رکھنے والا ملک ہے، بھارت کی آبادی تقریباً 1.3 بلین ہے جس میں ہندو، مسلم، عیسائی، جین ، سکھ، بدھست سمیت متعدد مذاہب کے افراد مقیم ہیں۔

جریدے کے ایڈیٹر کی جانب سے مودی کی مذاہب سے متعلق پالسیوں پر بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت  سے متعلق سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرنے والے مودی نے ہی بھارت کے بطور سیکولر ملک بنے ہوئے خاکے کو بری طرح پامال کرد یا ہے، جہاں بھارت میں پہلے سب مذاہب کے ماننے والے باہمی ہم آہنگی سے رہتے تھے اب وہاں کہ حالات کچھ اور ہی ہیں۔

ہندوستان میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتیں بھی بھارت میں رہائش پزیر ہیں، مگر مودی نے اپنے پالیسیز اور فیصلوں کی وجہ سے بھارت کے سافٹ امیج کو انتہائی نقصان پہنچایا ہے ۔

عوام کو با اختیار بنانے کے وعدے پر جیتنے والی جماعت اب قوم پرستی پر اتر آئی ہے، بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے نا

صرف اشرافیہ بلکہ اکثریت کو بھی نظر انداز کر دیا ہے، خاص طور پر ہندوستان کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اقلیتوں سے نا انصافی سے پیش آنے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو دنیا بھر میں تنقید کا سامنا ہے خصوصاً مودی کے سامنے جس طرح بھارت میں شر پسند بھارتیوں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی تازہ رپورٹ میں بھی بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر روشنی ڈالی گئی ہے، ہیومن رائٹس واچ رپورٹ کے مطابق 2014ء میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتی مسلمان بہت تیزی سے بھارت ہی میں غیر محفوظ تصور کیے جا رہے ہیں ۔

جریدے کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 سے کشمیری مسلمان دنیا کا بدترین لاک ڈاؤن جھیل رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید