آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رواں برس دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جارہی ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ حال عالمی برادری نے دنیا کا امن یقینی بنانے کیلئے اقوام متحدہ کی صورت میں ایک ایسے عالمی ادارے کا خواب دیکھا جودوطرفہ تنازعات کے پرامن حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرسکے۔ بدقسمتی سے بٹوارے کے فوراََ بعد ہمسایہ ملک بھارت کے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی جی کوایسے وقت میں شدت پسندوں نے موت کے گھاٹ اتارا جب وہ پاکستان اور اقلیتی مسلمانوں کے حق میں بھوک ہڑتا ل پر تھے۔گاندھی جی نے ساری زندگی انسان دوستی کا پیغام عام کیالیکن آج بھارت میں جس بے رحمی سے گاندھی جی اور نہرو کے سیکولرنظریات کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ، اس کا ایک نمونہ گزشتہ ماہ بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے جودھ پور میں دیکھنے میں آیا۔گزشتہ ماہ اگست میں جودھپورمیں پاکستانی ہندو خاندان کے گیارہ افراد پراسرار طور پر مردہ حالت میں پائے گئے۔کیا یہ اجتماعی خودکشی تھی یا قتل، ہنوز یہ معمہ حل طلب ہے ۔میں نے اس افسوسناک سانحہ کے منظرعام پر آتے ہی ہر فورم پر بھرپور آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا،اس حوالے سے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باربار درخواست کرنے کے باوجود مکمل اندھیرے میں رکھا جارہا ہے ، دوسری طرف متاثرہ خاندان کے سربراہ کی صاحبزادی شریمتی مُکھی کے مطابق ان کے خاندان کو پاکستان کے خلاف جاسوسی کرنے پر آمادہ نہ ہونے اور پاکستان مخالف بیانات دینے سے انکار پربھارتی خفیہ ادارے نے مبینہ طورپر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ مروجہ عالمی قوانین کے مطابق ایک ملک کی شہریت رکھنے والے شہری کے ساتھ دوسرے ملک کے اندر جو بھی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اس ملک کے سفارت خانے کو رسائی فراہم کی جاتی ہے مگر جود ھ پور سانحہ کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن کو رسائی نہیں دی جارہی۔ماضی میں بھی بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس کے اندوہناک سانحہ پر بھی اسی طرح پردہ ڈال دیا تھا۔ یہ مظلوم خاندان سانگھڑ ڈسٹرکٹ کے شہر شہدادپور کے ایک علاقے کا رہنے والا تھا ، سندھ کی بھیل کمیونٹی سے ان کا تعلق ہے، حکومت پاکستان کو اپنے شہریوں کی المناک موت کی شفاف تحقیقات کے مطالبے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے ۔فارن آفس اور پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے مجھے ایک ماہ تک صبر کرنے کا کہا گیا کہ ہم سفارتی سطح پر اس ایشو کو بھارتی حکومت کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیںمگرتاحال کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں میری وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات ہوئی، میں نے انہیں واضح کردیا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے، اگر اسی طرح کا سانحہ کسی امریکی، برٹش یا چائنیز نیشنلٹی ہولڈر کے ساتھ پیش آئے تو کیا بھارتی حکومت ان کے ساتھ بھی ایسا غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی جرات کر تی؟ حکومتِ وقت کا فرض ہے کہ اپنے شہریوں کی دوسرے ملک میں ایسے حادثات پرمتحرک ہوجائے اور عالمی قوتوں کو بتایا جائے کہ پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر کا خون کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیاجائے گا ۔میں شکرگزار ہوں پاکستانی میڈیا کا جنہوں نے انسانیت کے ناطے اس حساس ایشو کو احسن انداز میں اجاگر کرنے میںبھرپور تعاون کیا،میری وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات کے بعد پارلیمنٹ لاجز میں لائیو پریس کانفرنس تمام ٹی وی چینلز پر لائیو ٹیلی کاسٹ کی گئی، اس موقع پرمیںنے اعلان کیا کہ ہم بھارتی حکومت کو مزید وقت دینے کے حق میں نہیں، ہمارے الٹی میٹم کا وقت گزر گیا ہے، ہم عالمی برادری کو جگانے کیلئے احتجاجی دھرنے کاجمہوری راستہ اختیار کریں گے۔مجھ سے دوران پریس کانفرنس احتجاجی شرکاء کی تعداد کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو میں نے بتایا کہ میری کال پر ملک بھر کے قافلے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہونے کیلئے تیار ہیں،اگلے کچھ گھنٹوں کے بعد ملک کے ہرکونے سے ہندو شہری بھارتی ہائی کمیشن دھرنا دینے کیلئے اسلام آباد کا رخ کرے گا تو میڈیا کیلئے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھانا مشکل ہوجائے گا،میری نظر میں عالمی برادری بالخصوص اپنی 75ویں سالگرہ منانے والی اقوام متحدہ کی توجہ حاصل کرنے کا میری نظر میں ایک ہی طریقہ ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کیا جائے، دنیا کو بتایا جائے کہ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی نے خطے کے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں۔ ہم اس وقت تک بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے سے نہیں اٹھیں گے جب تک بھارت فوری طور پرسانحہ جودھ پور کی شفاف تحقیقات کرانے کی یقین دہانی نہیں کرادیتا ،ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے رسائی کے عالمی حق کو تسلیم کرتے ہوئے ایف آئی آر ، پوسٹ مارٹم اورابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی نقول فراہم کی جائیں۔ آج پاکستانی ہندو کمیونٹی کا پاکستانی پرچم اٹھائے جوش و خروش دیکھ کر تحریک پاکستان کی بھی یاد تازہ ہوجاتی ہے جب ہمارے بڑے سبز ہلالی پرچم تلے ایک عظیم مقصد کیلئے متحد ہوگئے تھے،بھارتی حکومت کے گمراہ کُن قانونِ شہریت کی بدولت جو پاکستانی شہری نقل مکانی کرگئے ہیں، انہیں بھی چاہئے کہ وہ پاکستان واپس آجائیں، انہیں ویلکم کیا جائے گا۔ آج میری تمام پاکستانی مکاتب فکر سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ تمام اختلافات بھول کر صرف اور صرف پاکستانی ہونے کے ناطے مظلوم ہم وطنوں کو انصاف دلانے کیلئے ہماری جدوجہد کا ساتھ دیں، پاکستان کی محب وطن ہندو کمیونٹی کی جانب سے انسانیت کا درد رکھنے والے ہر انسان کو حصول انصاف کی خاطر اس تاریخی دھرنے میں شرکت کی عام دعوت ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ہندو مظاہرین کے قافلے براستہ موٹروے اسلام آباد داخل ہونے والے ہیں، میں ان تمام شرکاء کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جومیری ایک کال پر ایک عظیم مقصد کی خاطر اپنے گھروں سے نکل آئے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)