آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ربیع الاوّل 1442ھ 27؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایس اوپیز پر عمل نہ کرنے سے پریشانی کا سامنا ہے، وزیراعلیٰ سندھ


وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ  کورونا کے متعلق ایس اوپیز پر عمل نہ کرنے سے پریشانی کا سامنا ہے۔ اسکول کھلنے جارہے ہیں، والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسکولز کھلنے سے اگر وبا بڑھ جاتی ہے تویہ ہمارانقصان ہے۔

مراد علی شاہ نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 28 تاریخ سے اسکولز کھلنے پر اب بھی تحفظات ہیں اور اس حوالے سے وفاق سے بھی بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ کورونا کے کیسز کم ہوئے ہیں لیکن کورونا ابھی ختم نہیں ہوا۔ کورونا کی وبا اب بھی ہے اور کیسز آرہے ہیں۔ سندھ پہلا صوبہ تھا جس نے ٹاسک فورس بنائی۔ ڈیڑھ ماہ تک روزانہ اجلاس منعقد کیے۔ ہم نے اپنی ٹیسٹنگ کی گنجائش پہلے سے بھی بڑھا دی ہے۔  گزشتہ روز ہم نے 18 ہزار تک ٹیسٹ کیے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ اسکولوں میں ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جارہا، اس لیے ایک ہفتہ ہم نے اسکول کھولنے میں تاخیر کی۔ والدین کے لیے پیغام ہے کہ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ اللّٰہ پاک اس وباء کو ہمارے اسکول میں پھیلنے سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ جب بچے اسکول آئیں تو ماسک پہنیں ہوئے ہوں۔ ساڑھے تین لاکھ ماسک اسکولوں کو دیئے گئے ہیں اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ماسک تقسیم کریں۔ 28 تاریخ کو ایک بار پھر صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی شہر 95 فیصد صاف کردیا گیا ہے۔ کراچی کے ساتھ کیا ہورہا ہے کسی اور وقت بتاؤں گا، لوگ ناراض ہوجائیں گے۔ کراچی کا سیوریج سسٹم پرانا ہے۔ بارشوں کے بعد سیوریج کے پانی کی موجودگی کو میڈیا رپورٹ کرتا ہے۔ 72 انچ کی لائن ڈیمیج ہوئی ہے۔ تباہ حال عمارتوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ کچھ سڑکوں کی مرمت کی ہے باقی بھی کریں گے۔ میڈیا نے درست عکاسی کی ہمیں بتایا کہ کہاں کہاں مسائل ہیں۔ مگر مجھے میڈیا سے ایک شکایت بھی ہے کہ بارش دیہی علاقوں میں بھی ہوئی ہیں مگر اُن کو درست طریقے سے میڈیا پر پیش نہیں کیا گیا اور دیگرعلاقوں کو نہیں دکھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کراچی کے نالوں پر کس نے قبضے کیے۔ وزیر اعظم جب کراچی آئے تھے تو میں نے انہیں پوری تفصیل سے سندھ کے اضلاع کا بتایا تھا۔ میں نے خط کے ذریعے بھی پوری تفصیل بتائی تھی۔ کسی کو احساس ہی نہیں کہ کچھ ہوا بھی ہے۔ میں وفاق سے سخت احتجاج کرتا ہوں کہ انہوں نے جو بے حسی دکھائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے شکرگزار ہیں۔ مدد کرنے والے ادارے اپنا ڈیٹا شیئرکریں۔ 70 فیصد علاقوں سے پانی کی نکاسی کرچکے ہیں۔ محکمہ بلدیات کے ساتھ ملکر پانی کی نکاسی کی جارہی ہے۔ وفاق نے حصے سے 60 ، 70 فیصد پیسے دیئے ہیں۔ بدترمالی حالات کے باوجود بہت کچھ کیا۔ میں معذرت خواہ ہوں ہم وہ نہیں کرسکے جو 2010 میں کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے 73 ہزار 123 ٹینٹ دئیے گئے ہیں۔19 ہزار 770 این ڈی ایم اے نے دئیے ہیں۔ ہمارا 42 ہزار کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔ میر پور خاص میں 13 ہزار پی ڈی ایم اے نے دئیے ہیں۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے ساڑھے سات ہزار راشن بیگ دئیے گئے ہیں۔ سانگھڑ ضلع میں 17 ہزار سے زائد ٹینٹ دئیے گئے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے سانگھڑ میں کوئی ٹینٹس نہیں دئیے۔ 34 ہزار 800 پی ڈی ایم اے نے راشن بیگز دئیے ہیں۔2500 راشن بیگ پیپلز پارٹی نے دئیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک اور صوبے میں غربت بہت زیادہ ہے۔ ہم نے وفاق کو بتایا تھا کہ ہم معاشی پیکج نہیں دے سکیں گے۔ اس کےلیے وفاق کی ضرورت ہوگی۔

قومی خبریں سے مزید