آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاہور میں مقیم رکشہ چلانے والی تین باہمت بہنیں

دنیا بھر میں ایسی متعدد خواتین ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔ کسی نےچوٹی سر ،تو کسی نے کھیل کے میدان میںنمایاںکار کردگی کامظاہرہ کیا اور کسی نے کوئی انوکھی چیز ایجاد کرکے پوری دنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیا ۔ان ہنر مند اور باصلاحیت خواتین میں کچھ ایسی بھی ہیں جواکیلے محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کی کفالت کررہی ہیں۔ ان محنت کش خواتین میں لاہور میں مقیم ان تین بہنوں کابھی شمار ہوتا ہے جنہوں نے دوسروں کے رحم وکرم پر زندگی گزارنے کی بجائے خود اپنی مدد آپ کے تحت اپنے پیروں پرکھڑے ہونے کو تر جیح دی۔

پہلے مختلف کام کرنے کا سوچا،کسی ادارے میں ملازمت کا سوچا لیکن ناکامی ہوئی ،سوانہوں نے رکشہ چلانے کا سوچا اور اپنی اس سوچ کو عملی جامہ پہنایا ۔ اور رکشہ چلا کر دیگر خواتین کے لیے ایک مثال قائم کردی ۔اب تینوں بہادر بہنیں ۔نسرین بی بی ،صائمہ خاتون اور شہناز بی بی نے قسطوں پر رکشے لے کر گز ر بسر کررہی ہیں۔

نسرین بی بی کے گھر یلو حالات ٹھیک نہیں ہیں ،بچے بھی چھوٹے ہیں اور گھر یلو اخراجات پورے کرنے کے لیے کوئی سر براہ بھی نہیں ہے ۔ایک بہن کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور دوسری کے شوہر بیمار ہیں ۔گھر کی ضروریات ،بچوں کی کفالت اور تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے تینوں بہنیں خود ہی محنت کررہی ہیں۔

انہوں نے گھر وں میں کام کرنے کے بجائے باہر نکل کر کام کرنے کا ارادہ کیا ۔ رکشہ چلانےکاکام شروع کرنے سے پہلےصائمہ خاتون نے اپنی دوست سے رکشہ چلاناسیکھا ،ان کی دوست پہلے سے رکشہ چلاتی تھی ،پھر انہوں نے پانچ ہزار ماہانہ قسط پر رکشہ لیا ۔اس کے بعد صائمہ نے اپنی دونوں بہنوں کو بھی رکشہ چلانے کی تربیت دی ۔بعدازاں نسرین بی بی اور شہناز بی بی نے بھی قسطوں پر رکشہ لے لیا۔وہ اپنی اپنی زندگی میں خوش ہیں ۔رکشہ چلانے سے پہلے ان تینوں کو خوف تھا کہ لوگ تنگ کریں گے ۔لیکن چند دنوں بعد ہی یہ ڈر بھی نکل گیا۔بلکہ لوگوں نےانہیں رکشہ چلاتے دیکھ کر ا ن کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ ان کی اس محنت کو بھی سراہتے ہیں۔

ان بہنوں کا کہنا ہے کہ خواتین ہوں یا مرد اگر اپنے کام سے کام رکھیں اور ایمانداری سے اپنا کام کریں تو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرناپڑ سکتا۔ لڑکیوں کو اسکول یا کالج سے لانے لےجانے کے لیے لوگ ان پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ،اپنی محنت سے کمائی آمدنی کا مزا ہی الگ ہوتاہے ۔کام چھوٹا بڑا نہیں ہو تا ،بس عزت سے کام کرنا چاہیے اور حلا ل روزی کمانی چاہیے۔