آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صائمہ راحت

اف خدایا! چھ بج گئے۔ آج بچے اسکول سے لیٹ ہو جائیں گے اور گھر میں ایک ہنگامہ برپا ہو گا۔ سارہ نے جلدی سے بستر سے اُٹھتے ہوئے سوچااور اپنے لمبے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے وضو کرنے چلی گئی۔نماز فجر سے فارغ ہو کر ناشتے کی تیاری بھی۔ جتنی دیر میں اس نے ناشتہ بنایا اس وقت تک اس کے سسر نے دونوں بچوں کو بستر سے اٹھا دیا ،بچوں نے منہ ہاتھ دھو کر اور وضو کر کےنماز فجر پڑھی ۔جلدی جلدی سارہ نے میز پر ناشتہ لگایا ۔آجائو بچوں ! جلدی سے ناشتہ کر لو ورنہ اسکول سے دیر ہو جائے گی۔ سارہ نے بچّوں کو آواز دی۔

شادی کے بعد تو انسان کو سانس بھی دوسروں کی مرضی سے لینی پڑتی ہے۔ ہر کام دوسروں کی مرضی کے مطابق کرنا پڑتا ہے یہ بھی کوئی زندگی ہے ،ہر وقت بس کام ہی کرتے رہو ۔سارہ کی چھوٹی بہن شگفتہ نے منہ بناتے ہوئے دوسری بہن شازیہ سے کہا ۔ہاں واقعی یہ تو حقیقت ہے کہ شادی کے بعد ساس اور نندوں کے بکھیڑوں میں انسان کی پوری زندگی الجھ کر رہ جاتی ہے اور یہ وہ رشتے ہوتے ہیں جن کی خاطر انسان اپنا آپ بھی بھول جاتا ہے ،پھر بھی وہ اس کی قدر نہیں کرتے ۔شازیہ نے شگفتہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ۔سارہ جو خاموشی سے دونوں بہنوں کی گفتگو سن رہی تھی اس نے مسکراتے ہوئے کہا… یہ سسرالی رشتے دار کوئی مافوق الفطرت چیزوں کا نام نہیں ہے۔ 


بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ان رشتوں کے حوالے سے ایسی باتیں منسوب کر دی گئی ہیں جن کی بنا پر یہ رشتے بدنام ہو گئے ہیں۔ تم یہ بھی تو سوچو کہ دادا، دادی ،چچااور پھوپھو ایسے پیارے رشتے ہوتے ہیں جن کے دم سے گھر میں رونق ہوتی ہے۔ یہ ہمارے بچّوں پر اپنی محبتیں نچھاور کرتے ہیںاور بہترین طریقے سے ان کی تربیت کرتے ہیں۔تم ان لوگوں سے پوچھو جن کا کوئی سسرال نہیں یا جو دیار غیر میں تنہا اپنے خاندان سے کٹ کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کو ہمہ وقت ساس، سسر اور نندوں کی کمی محسوس ہوتی رہتی ہے۔ اب تم لوگ مجھ کو ہی دیکھ لو کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے کے باوجود میرے پاس کتنا زیادہ وقت بچ جاتا ہے۔ 

اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اکثر کاموں میں ساس، سسر اور نندیں ہاتھ بٹا دیا کرتی ہیں،یوں کم وقت میں زیادہ کام ہو جاتے ہیں اور مجھے مطالعے اور لکھنے لکھانے کے لیے بھی وقت مل جاتا ہے۔یہ تو ہے آپی! مگر ہر کسی کا سسرال ایک جیسا نہیں ہو تا ۔اس معاشرے میں اچھے سسرال والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو اتنا اچھا سسرال ملا ہے۔سارہ مسکراتے ہوئے بولی پیاری بہنا، بات اچھے یا برے کی نہیں ہوتی۔ اصل مسئلہ ہماری سوچ اور رویےّ کا ہوتا ہے۔ اگر ہم پہلے سے ہی کسی کے متعلق بری رائے قائم کر لیں گے تو پھر وہ شخص ہمارے ساتھ کتنا ہی اچھا کرنے کی کوشش کرے، ہمیں اس کے ہر کام میں نقص ہی نظر آئیں گے، جس کی وجہ سے ہمارے آپس کے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں ہو پاتے۔

ساس، بہو کا رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس میں چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بہت بڑی محسوس ہوتی ہیں، پھر اگر ہماری سوچ بھی منفی ہو تو یہ سونے پہ سہاگے کا کام دیتی ہیں اور یوں باہمی تعلقات کشیدہ ہی رہتے ہیں۔اس لئے ہمیں مثبت سوچنا چاہیے۔ ہر شخص میںکوئی نہ کوئی خوبی ضرور ہوتی ہے، ہمیں اسے لازمی تلاش کرنا چاہیے۔ پہلے سے کسی بھی رشتے کے متعلق کوئی رائے قائم نہیں کر نی چاہئے۔ ہم دوسروں کے ساتھ مخلص رہیں گے اور محبت سے پیش آئیں گے تو ان کے دلوں میں خود بہ خود ہمارے لئے محبت و نرمی پیدا ہو جائے گی۔

دراصل سسرالی رشتے نبھانے کے لیے صبر، ایثار، اعلیٰ ظرفی، فراخ دلی اور وسعت قلب جیسی صفات کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی تلخی کا سامنا کئے بغیر خوش اسلوبی کے ساتھ زندگی کا سفر طے کیا جا سکے۔

آئی سمجھ میں! سارہ نے دونوں چھوٹی بہنوں کو دیکھتے ہوئے کہا… آ تو گئی آپ کی بات سمجھ میں مگریہ بہت مشکل کام ہے۔ چلیں! ہم آج سے ہی اس کی تیاری شروع کر دیتے ہیں، تاکہ وقت آنے پر مشکل نہ ہو۔کیا خیال ہے شگفتہ…؟ شازیہ نے شگفتہ کی طرف دیکھا اور دونوں بہنیں مسکرانے لگیں۔