آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ربیع الاوّل 1442ھ 27؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سشانت کو گلا گھونٹ کرمارا گیا، وکیل کا دعویٰ، ڈاکٹروں کی تردید

آنجہانی بھارتی ہیرو سشانت سنگھ راجپوت کے خاندانی وکیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے  کہ سشانت سنگھ کا گلا گھونٹا گیاجبکہ ڈاکٹروں کی جانب سے اس بیان کی تردید کی جا رہی ہے۔

بھارتی ہیرو سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی سے متعلق جاری تحقیقات اور کیس میں آئے دن نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں، بظاہر خودکشی نظر آنے والا کیس اب قتل کیس میں تبدیل ہو گیا ہے جس نے بھارتی فلم انڈسٹری کے بڑے ناموں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے.


سشانت سنگھ قتل کیس کی ہر آنے والے دن میں نئے زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں، اس ہی کیس میں سشانت کی گرل فرینڈ اپنے بھائی سمیت گرفتار اور پولیس کی تحویل میں ہے۔

بھارتی ویب سائٹ ’ انڈیا ٹو ڈے ‘ کے مطابق حال ہی میں سشانت سنگھ کے خاندانی وکیل ویکاس سنگھ کی جانب سے بیان دیا گیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (اے آئی آئی ایم ایس) کی رپورٹ میں 200 فیصد یقین سے کہا گیا ہے کہ سشانت سنگھ راجپوت کی موت خود کشی نہیں تھی بلکہ سشانت کو گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے جبکہ ڈاکٹروں کی جانب سے سشانت کے وکیل کے بیان کو غلط قرار دے دیا گیا ہے۔

اے آئی آئی ایم ایس کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سدھیر گپتا کا بھارتی میڈیا ’انڈیا ٹوڈے‘ سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سشانت سنگھ کی موت سے متعلق تا حال تحقیقات جاری ہیں۔

ڈاکٹر سدھیر گپتا نے کہا ہے سشانت سنگھ کے وکیل کا بیان بالکل غلط ہے ، ڈاکٹروں پر مشتمل پینل دوبارہ سے سشانت سنگھ کے پوسٹ مارٹم اور رپورٹ کا نئے سرے سے جائزہ لے رہا ہے ، سشانت کے پوسٹ مارٹم کی ابھی20 فیصد رپورٹ تیار ہونا باقی ہے ۔

ڈاکٹر سدھیر گپتا کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کو 22 ستمبر کو حتمی رپورٹ پیش کرنی تھی، جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ ابھی تحقیقات جاری ہے، رپورٹ مکمل ہونے کے بعد معلوم ہوگا کہ یہ ایک خودکشی تھی یا قتل۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سی بی آئی کی جانب سے جاری کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سشانت کی گردن پر 33 سینٹی میٹر کے گہرے نشان تھے، اُن کی زبان باہر نہیں ہوئی تھی اور اُن کے دانت بھی بالکل ٹھیک تھے جبکہ جسم پر کوئی چوٹ کے نشان بھی نہیں تھے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کا نہیں بتایا گیا تھا، اس حوالے سے سشانت کے والد کے خاندانی وکیل ویکاس سنگھ کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں ان کی موت کا وقت کیوں نہیں درج ہے؟  یہ رپورٹ کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ 

انہوں نے کہا تھا کہ موت سے پہلے جوس اور ناریل کا پانی پیا تھا مگر سشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید