آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ملک میں سیاسی اتحاد قائم ہوا تو لوگوں کو نوابزادہ نصراللہ خان کی یاد دوبارہ آنے لگی جنہوں نے ملٹی پارٹی اتحاد سے بڑھ کر تمام پارٹیوں کا اتحاد قائم کرنے کا تاریخی ریکارڈ قائم کیا۔

1998میں پاکستان عوامی اتحاد اور پھرGDAبنایا تو اس میں موجودہ وزیراعظم عمران خان سمیت اکبر بگٹی، اسفندیار ولی اور ایم کیو ایم کو شامل کر لیا۔

2000میں ARDبنائی تو دو انتہائی متحارب پارٹیوں یعنی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کو اکٹھا کردیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان کا ہمیشہ ایک ہی مقصد ہوتا تھا اور وہ اس پر یقین بھی رکھتے تھے کہ پاکستان صرف اور صرف جمہوریت کو مضبوط کرکے ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

20ستمبر 2020کو اسلام آباد میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے نام سے اتحاد بنا تو اس میں گیارہ سیاسی پارٹیاں شامل ہوئیں۔ نوابزادہ زندہ ہوتے تو تمام پارٹیاں ایک طرف جبکہ حکومت دوسری طرف تنہائی کا شکار ہوتی۔ مجھے اس بات پر ہمیشہ فخر رہے گا کہ مجھے نواب زادہ صاحب کی زندگی کے آخری چھ برسوں میں ان کے انتہائی قریب رہنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔

مجھے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ میں بطور مرکزی سیکرٹری اطلاعات تین اتحادوں، پاکستان عوامی اتحاد، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور اے- آر- ڈی میں شہید محترمہ کا نمائندہ تھا۔ اسی حیثیت میں میں نواب زادہ صاحب کے دورۂ سعودی عرب اور لندن کے دوران ان کے ساتھ تھا اور سعودی عرب میں میاں نواز شریف اور لندن/ دبئی میں شہید محترمہ کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں شریک رہا۔

نواب زادہ صاحب نصراللہ خاں 1918میں خان گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ایچی سن کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ وہ 1933تک ایک طالب علم رہنما کے طور پر معروف ہو چکے تھے۔ آزادی کے بعد وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے 1952میں صوبائی اور 1962میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ پھر انہوں نے جناح عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کی جو بعد میں عوامی لیگ کہلائی۔

انہوں نے 1964میں صدارتی انتخابات میں ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی بھر پور حمایت کی۔ اس طرح ڈیمو کریٹک ایکشن کمیٹی وجود میں آئی جس نے ایوب خاں کی حکومت کے خلاف عوامی جدوجہد کی راہ ہموار کی۔ اس اتحاد کی کامیابی مستقبل کی ہر جمہوری جدوجہد کیلئے مشعل راہ بنی۔

انہوں نے 1969میں پاکستان جمہوری پارٹی کے نام سے اپنی الگ سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ نواب زادہ صاحب 1977میں پاکستان قومی اتحاد کے اہم ترین رہنمائوں میں سے ایک تھے۔ 1977کے الیکشن میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے لیکن پارٹی پالیسی کے مطابق حلف لینے سے انکار کر دیا وہ قومی اتحاد کی طرف سے لئے الیکشن کیلئے پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رکن تھے لیکن جب مذاکرات کا میاب ہو گئے تو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا جس کی انہوں نے بھر پور مخالفت کی۔

یہ نواب زادہ صاحب کا سیاسی کرشمہ تھا کہ وہ تحریک بحالی جمہوریت (M.R.D)میں نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ ان سیاسی جماعتوں کو بھی اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی پلیٹ فارم سے 1983میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کی گئی جسے فوجی آمریت نے نہایت بےرحمی سے کچل دیا۔

1988کے صدارتی انتخاب میں انہوں نے غلام اسحاق خان کا مقابلہ کیا۔ 1993کے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ نواب زادہ صاحب نے ستر برسوں پر پھیلی سیاسی زندگی میں آمریت کے خلاف کئی اتحاد بنائے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ کسی ایک پارٹی کیلئے ممکن نہیں کہ فوجی آمریت کا مقابلہ کر سکے۔

اس مقصد کے لئے نہ صرف تمام سیاسی جماعتوں بلکہ تمام دیگر جمہوری قوتوں اور مختلف طبقات فکر کے لوگوں کو اکھٹا ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ نواب زادہ صاحب نہ صرف ایک بڑے سیاستدان تھے بلکہ ایک بڑے انسان بھی تھے۔ وہ اپنی سادگی، حلیمی اور خلوص سے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ آج بھی نکلسن روڈ کے اس چھوٹے اور سادہ سے مکان کا بڑا کمرہ جس میں ان کی زندگی کے شب و روز گزارتے تھے، بہت سے لوگوں کو یاد آ رہا ہوگا۔ نواب زادہ صاحب نے ہمیشہ انقلابی سیاست کی، وہ جمہوریت کے ساتھ ساتھ عوام کی بات کرتے تھے۔

آج جب ہم ایک انقلابی اور جمہوری سیاستدان کی برسی منا رہے ہیں تو ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت ہونی چاہئے۔ پارلیمنٹ کو تمام فیصلے کرنا چاہئیں۔ عدلیہ ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہو۔ میڈیا پر کوئی پابندی نہ ہو اور تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر اپنے آئینی فرائض انجام دے رہے ہوں۔

نوابزادہ نصراللہ خان کا ایک اور سبق بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کرنا چاہئیں۔ وزیراعظم عمران خان سمیت تمام قائدین کو یہ سبق نہیں بھولنا چاہئے۔ مذاکرات دشمن ملکوں کے ساتھ ہو سکتے ہیں تو پھر اپنے لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں؟ مرحوام نوابزادہ نے ایوب خان، بھٹو، جنرل ضیاء، جنرل پرویز مشرف سمیت سب سے مذاکرات کئے تاکہ جمہوریت بحال ہو۔ آج کا یہ سبق ہے۔