آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فحاشی مخالف جنگ! عمران خان کا ساتھ دیں

وزیراعظم عمران خان سے ہزار اختلاف سہی لیکن جس فکر کا وہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی سے متعلق اظہار کر رہے ہیں اور جو اقدامات وہ اِس لعنت کے خاتمہ کے لئے اُٹھانا چاہ رہے ہیں، اُس پر پوری قوم کو اُن کی مدد کرنی چاہئے۔ 

یہ وہ معاملہ ہے جس پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے بلکہ سیاسی مخالفت کو بالائے طاق رکھ کر، اِس تیزی سے بڑھتی گندگی کو صاف کرنے میں قوم کو متحد ہو جانا چاہئے ورنہ ہماری نسلیں تباہ و برباد ہو جائیں گی۔ نہ ہم دنیا کے رہیں گے، نہ آخرت کے۔ 

مجھے مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات کچھ عرصہ سے مل رہی تھیں کہ عمران خان اِس معاملہ سے متعلق بہت پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں پھیلتی فحاشی کو روکا جائے۔ 

اِس بارے میں مجھے وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ اُن سے وزیراعظم کوئی پندرہ، سولہ مرتبہ اس بارے میں بات کر چکے ہیں۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے بھی مجھے یہی بتایا کہ اُنہیں وزیراعظم نے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ پاکستانی فلم اور ڈرامہ کو فحاشی و عریانی سے پاک کریں اور ترکی کی طرح پاکستان میں بھی بامقصد، اسلامی ہیروز اور اسلامی تاریخ پر مبنی فلمیں اور ڈرامہ بنائے جائیں۔ 

پی ٹی اے کے چیئرمین جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم سے بات ہوئی تو اُنہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہماری معاشرتی و مذہبی اقدار کو بچانے کے لئے وزیراعظم بہت فکر مند ہیں اور اِس سلسلے میں اُنہوں نے پی ٹی اے کو بھی حکم دیا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو پاکستانی صارفین کے لئے فحش مواد سے پاک کیا جائے۔ 

گزشتہ جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے ڈائیریکٹر نیوز سے ملاقات ہوئی، جس میں اُنہوں نے دوسرے سیاسی موضوعات کے ساتھ ساتھ فحاشی و عریانی کے مسئلہ پر بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ انڈین فلم اور ڈرامہ کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی و عریانی کی وجہ سے بھارت کا اخلاقی طور پر دیوالیہ پن، آخری حدوں تک پہنچ چکا ہے اور اسی وجہ سے دہلی کو ریپ کیپیٹل (Rape Capital) کے طور پر جانا جانے لگا ہے۔ 

خان صاحب نے ٹی وی چینلز کے ڈائریکٹرنیوز کو یہ بھی کہا کہ پاکستان میں جنسی جرائم میں فحاشی و عریانی کے پھیلاؤ کی وجہ سے بہت اضافہ ہو چکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ بھارت اور مغرب کی وہ فحش فلمیں و ڈرامے ہیں، جو یہاں دکھائے جا رہے ہیں۔ 

اس کے ساتھ ساتھ خان صاحب نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا ایپس اور انٹرنیٹ کی وجہ سے موبائل کے ذریعے بھی جو فحش مواد ہر فرد تک پہنچ رہا ہے اُس کی وجہ سے بھی پاکستان میں جنسی جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 

خان صاحب نے یہ بھی کہا کہ ایک وقت تھا کہ پاکستانی ڈرامہ اور فلم فحاشی و عریانی سے پاک ہوتے تھے اور خاندان کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے تھے لیکن اب ہمارے ڈراموں اور فلموں میں بھی فحاشی و عریانی دکھائی جاتی ہے۔ 

اس سلسلے میں وزیراعظم نے اور بھی باتیں کیں لیکن مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ فحاشی و عریانی کے متعلق وزیراعظم کی باتوں کو میڈیا نے یا تو مکمل سنسر کر دیا یا ایک دو جملے خبروں میں اِس انداز میں ڈالے جیسے کوشش ہو کہ کوئی پڑھ یا دیکھ نہ لے۔ 

مجھے خوشی ہے کہ ’’جنگ‘‘ اور ’’دی نیوز‘‘ نے وزیراعظم کی اِس خبر کو تفصیل سے شائع کیا لیکن میرا گلہ میڈیا سے یہ ہے کہ وزیراعظم کی اتنی اہم بات کو سنسر یا دبایا کیوں گیا۔ 

کیا یہ بددیانتی نہیں؟ ٹی وی چینلز نے اس معاملہ پر اور وزیراعظم کی اس جائز فکر پر کتنے ٹاک شوز کئے؟ بھارت کی نقل میں پاکستانی میڈیا معاشرہ میں فحاشی و عریانی پھیلانے کا ذمہ دار ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ اس غلط کام کو جاری رکھا جائے۔ 

میڈیا اگر فحاشی و عریانی پر قابو پانے کے بجائے اِسے پھیلائے گا، اُس کا دفاع کرے گا اور وزیراعظم تک کی بات کو سنسر یا دبانے کی کوشش کرے گا تو یہ نہ صرف صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور پاکستان کے آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 

میری پاکستان کے عوام سے گزارش ہے، میں سیاسی جماعتوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملہ پر وزیراعظم کا ساتھ دیں تاکہ میڈیا، سوشل میڈیا ایپس اور انٹرنیٹ کو فحش مواد سے پاک کیا جائے کیوںکہ یہ سارے عوام، پورے معاشرہ اور ہر پاکستانی اور ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کو تباہی سے بچانے کو معاملہ ہے۔ 

مجھے ایسے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے جو اپنے سیاسی اختلافات اور ذاتی پسند و ناپسند کی وجہ سے عمران خان کا فحاشی و عریانی کی خلاف فکر اور اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہنے کے بجائے خان صاحب کو اُن کا ماضی یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

اگر کوئی ماضی کی غلطیوں اور گناہوں کو چھوڑ کر اچھا اور نیک کام کرے، اُسے ماضی کی طرف مت دھکیلیں بلکہ وہ تو قابلِ تعریف ہے، اُس کی حوصلہ افزائی کریں، اُس کا ساتھ دیں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)