آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دِل کے امراض کو دِل ہی سے شکست دی جاسکتی ہے؟

عالمی ادارۂ صحت اور ورلڈ ہارٹ فاؤنڈیشن کے باہمی تعاون سے دُنیا بھر میں ہر سال آج یعنی 29 ستمبر کا دن’عالمی یومِ قلب‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد دِل کے امراض سے متعلق معلومات، روک تھام اور احتیاطی تدابیر سے شعور و آگہی عام کرنا ہے۔

رواں سال یہ دن اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہمارے معمولاتِ زندگی بہت تبدیل ہو چُکے ہیں، اگرچہ کئی ممالک بشمول پاکستان میں لاک ڈاؤن ختم ہوچکا ہے مگر اس کے نتیجے میں جہاں معاشی، ذہنی، نفسیاتی اور دیگر غیر معمولی مسائل و کیفیات نے جنم لیا ہے تو وہیں جسمانی صحت بحال رکھنے کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں مثلاً ورزش، تیز قدمی وغیرہ کے فقدان سے امراضِ قلب اور ہارٹ اٹیک کی شرح میں گزشتہ برس کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امراضِ قلب سے دُنیا بھر میں ہر سال 5 اعشاریہ 17 ملین افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، نیز دُنیا بھر میں ہونے والی31 فیصد اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی قلب کے عوارض ہی ہیں۔

دل کے عوارض لاحق ہونے کی وجوہ میں سرِ فہرست تمباکو نوشی، ذیابطیس، بُلند فشارِ خون، موٹاپا، ذہنی دباؤ، دل کی موروثی بیماریاں اور ورزش نہ کرنا شامل ہیں، ان اسباب میں اب کورونا وائرس کو بھی شمار کیا جا رہا ہے۔ 

یہ تمام اسباب مرد و خواتین میں امراضِ قلب کی وجہ بنتے ہیں لیکن دل کے دورے کے امکانات مردوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں، نیز بچّے بھی عوارضِ قلب کا شکار ہوتے ہیں۔

بچوں میں پیدائشی نقص جیسے دِل میں سوراخ، وی ایس ڈی (Ventricular Septal Defect)، اے ایس ڈی(Atrial Septal Defect) اور ٹی او ایف (Tetralogy Of Fallot)، رنگ نیلا پڑجانا، دِل کا پیدائشی طور پر کمزور ہونا وغیرہ عام ہیں، ایسے بچّوں کے دِل کا آپریشن عمومی طور پر 5 سال کی عُمر تک ہو جانا چاہیے جبکہ سرجری کے بعد بلوغت تک ان کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

اگرچہ مردوں کی نسبت خواتین عوارضِ قلب میں کم مبتلا ہوتی ہیں، مگر ان میں سے زیادہ تر کو ریومیٹک ہارٹ ڈیزیز کی وجہ سے نوجوانی ہی میں دِل کے آپریشن کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے کہ اس میں دِل کے والوز متاثر ہو جاتے ہیں پھر حاملہ خواتین میں سے جو جسمانی طور پر کمزور ہوں، اُن میں دِل کی کمزوری (Peripartum Cardiomyopathy) ایک بہت تکلیف دہ بیماری ثابت ہوتی ہے اور اس مرض کی وجہ سے دورانِ حمل اور حمل کے بعد بھی متاثرہ ماں کے دِل کے پٹّھے کمزور ہو جاتے ہیں۔

امراضِ قلب سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

بلاشبہ دِل ہی زندگی کی ڈور سنبھالے ہوئے ہے، لہٰذا دِل کے امراض میں مبتلا افراد ڈاکٹرز کی ہدایت پر مکمل طور پر عمل کریں اور معمولی سی بھی تکلیف ہرگز نظر انداز نہ کریں۔

امراضِ قلب سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے متعلق مکمل معلومات حاصل ہوں، تاکہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جا سکے اور زندگی گزارنے کے بہتر رویّے اور طریقے اپنائے جاسکیں۔

موسمی پھل، سبزیاں اور سلاد آپ کے دِل کے لیے فاسٹ فوڈز اور بازاری کھانوں سے کہیں بہتر ہیں اور فارغ بیٹھ کر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ ورزش کریں یا پیدل چلنا شروع کر دیں۔

عارضۂ قلب کے وہ مریض، جن کی سی اے بی جی (Coronary Artery Bypass Grafting) یا دِل کی سرجری ہوئی ہو، وہ معالج کی تجویز کردہ ادویہ باقاعدگی سے استعمال کریں۔ 

ان افراد کے لیے متوازن غذا کا استعمال اور 7 سے 8 گھنٹے سونا لازمی ہے، مصنوعی دِل کے والو یا Prosthetic Heart Valves کے مریض مہینے میں ایک بار بلڈ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

صحت سے مزید