آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بینک ہالی ڈے سے اسڑیٹ پارٹیز کی حوصلہ افزائی ہوگی،بورس جانسن

لندن(پی اے )وزیر اعظم بورس جانسن نے خیال ظاہرکیاہے کہ برطانیہ میں بینک کی تعطیلات سے اسٹریٹ پارٹیز کو فروغ ملے گااور ان کی حوصلہ افزائی ہوگئی اور اسے برطانوی والنٹیئرز سالانہ خوشیوں کی طرح منائیں گے۔ کمیونٹی کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کیلئے تقریبات کی صورت میں یہ فرانس کیFete des Voisons کی شکل اختیار کرلیں گی اوراگر برطانیہ میں اس پر عمل کیاگیاتو ہر سال لوگوں کو گھروں سے نکل کر ایک دوسرے سے ملنے کاموقع دینے کیلئے ایک دن کیلئے سڑکوں پر ٹریفک بند کرنا پڑے گا۔یہ خبر اس رپورٹ کےبعد سامنے آئی جس کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن نے اس سال کے اوائل میں اس حوالے سے احکامات جاری کئے تھے جس میں ان تجاویز کی سفارش کی گئی تھی۔ کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ڈینی کروگر کے مطابق 52صفحات پر مشتمل اس ڈاکومنٹ میں ایک نیشنل والنٹیئر ریزرو قائم کرنے کو بھی کہاگیاتھا جنھیں ہنگامی حالات میں لوگوں کی مدد کیلئے طلب کیاجاسکے،رپورٹ میں جس کا عنوان ’’ہماری کمیونٹیز کو برابر کرو ‘‘کورونا کی وبا کے دوران عوام سے ظاہر کئے گئے خیرسگالی کے جذبات سے متاثر ہوکر ایک نئے سماجی منشور کی تجویز دی گئی تھی ،کروگر کا کہناہے کہ اس میں زیادہ مقامی ،زیادہ انسانی اور بیوروکریسی سے پاک ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کاتصور پیش کیاگیاتھا جس میں لوگوں کی

مدد کی جاسکے اور انھیں اپنے پڑوس کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کے قابل بنایاجائے ،وزیراعظم کے نام ایک خط میں کروگر نے لکھاہے کہ برطانیہ ترقی یافتہ دنیا کا انتہائی علاقائی اور عدم مساوات کا شکار ملک ہے جس کو متعدد دیرینہ سوشل چیلنجز کاسامنا ہے،ان کاکہناہے کہ اس کا سبب طویل عرصے سے نافذ اقتصادی اور سوشل ڈاکٹرائن ہے ۔وزیراعظم بورس جانسن نے اس ڈاکو منٹ میں اخذ کئے گئے نتیجے کی تعریف کرتے ہوئے کہاتھا کہ سرکاری حکام کو اس میں موجود آئیڈیا پر غور کرنا چاہئے۔ان کاکہناتھا کہ ہم نے عام شہریوں کی جانب سے شاندار رضاکارانہ کارروائیاں اور سوشل سیکٹر میں حکومت اور نجی تعاون سے تخلیقی شعبے میں اشتراک عملدیکھا ہے،ان کاکہناتھا کہ یہ سوشل ماڈل کے نازک عناصر ہیں مستقبل میں بحالی کیلئے ہمیں ان کی ضرورت ہوگی ،رپورٹ میں کی گئی دیگر سفارشات میں کمیونٹی کی بحالی کیلئے 500 ملین پونڈ کے فنڈ کے قیام کی سفارش بھی شامل ہے۔جس سے سول سوسائٹی کو کورونا وائرس کے اثرات سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملے گی ۔ایک اور سفارش میں کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے برابر لانے کیلئے 2 بلین پونڈ کے فنڈ کا قیام شامل تھا،اطلاعات کے مطابق اپریل میں کورونا سے این ایچ ایس پر پڑنے والے دبائو کو کم کرنے کیلئے 750,000لاکھ برطانوی شہریوں نے رضاکارانہ خدمات انجام دینے کیلئے نام لکھوائے تھے،یہ تعداد حکومت کی جانب سے ابتدا میں قائم کئے گئے ہدف سے 3 گنا تھی،ان رضاکاروں بعض اوقات خطرے سے دوچار مریضوں کو ڈاکٹروں کے پاس لے جانے اور ادویات پہنچانے کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی تھی،اطلاعات کے مطابق بعض وزرا نے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے حوالے سے پالیسیاں منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کریں اورپارلیمنٹ سے ان کی منظوری حاصل کریں ،کنزرویٹو پارٹی کے کم وبیش 40 ارکان پارلیمنٹ کورونا کے سے نمٹنے کیلئے حکومت کے اقدامات میں تبدیلی کیلئے سرگرم ہیں۔

یورپ سے سے مزید