آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہم آزادی کے وقت سے ترقّی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل چلے آرہے ہیں۔ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک ہم سے آگے نکل گئے،لیکن ہم آگے جانے کے بجائے ترقّیِ معکوس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ہم باربار کشکول اٹھاکر دنیا سے قرض کی بھیک مانگتے رہے۔پہلے ہمارے قرضےکم تھے،لیکن ہم نے انہیں اداکرنے کے بجائے مزید قرض لینے کی عادت بنالی۔پھر پرانے قرضوں کی ادائیگی کے نام پر نئے قرض لینے کی ریت پڑگئی۔1988سے ہر نئی آنے والی حکومت نے قرضے لیے،حالاں کہ ماضی کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ یہ ہمارے اقتصادی بحران کا کوئی خاص پائے دار حل نہیں ہے۔

بعض اقتصادی ماہرین کے مطابق غیر ملکی سودی قرضوں کی دلدل سے ہم تب ہی خود کو نکال سکتے ہیں جب لوٹی ہوئی قومی دولت واپس پاکستان لائی جائے۔ان کے مطابق صرف کڑا احتسابی عمل ہی بدعنوان سیاسی مافیا کی لوٹ مار کا سدباب کرسکتا ہے۔یہ ہی بدعنوان سیاسی مافیاہمارے اقتصادی بحران کی اصل ذمے دارہےجو دہائیوں تک ملک کو لوٹتی رہی۔ اگر کشکول توڑنا ہے تو قومی چوروں سے پائی پائی وصول کرناہوگی۔ اگر ہم ایسا کڑا احتساب کرنے میں ناکام رہے تومزید قرض لے کر بھی حالات کو سدھارنہیں پائیں گے۔ لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے کےلیے جو بھی قانونی اور آئینی تقاضے ہیں وہ پورے کرنے ہوں گے۔ ہمیں اپنے نظام کی اصلاح کرنی ہوگی اور دوسروں کی مدد لینے کے بجائے اپنی مدد آپ کرنی ہوگی۔

تاہم بعض اقتصادی ماہرین ملک کے خراب اقتصادی حالات کا ذمے دار صرف سیاسی اشرافیہ کو ٹھہرانے کے خلاف نظر آتے ہیں۔ان کے مطابق ہمارا پورا نظام اس کا ذمے دار ہے۔ان کے بہ قول پاکستان امیر عوام کا غریب ملک ہے جس کی بڑی وجہ معاشی عدم مساوات ہے۔ یہاں انفرادی حیثیت میں لوگ امیر سے امیر تر اور غریب افراد غریب تر ہورہے ہیں۔ہمارے معاشرے میں دولت کی تقسیم اور گردشِ زر انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ یہ کیسا غریب ملک ہے جہاں ایک جانب تو ہر برس بڑی تعداد میں پُرتعیش کاریں درآمد ہوتی ہیں اور دوسری جانب غریب بھوک سے خودکشی کر رہےہیں۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کےلیے ٹیکس وصول کرنےکا نظام بہتر بنانے،بدعنوانی،رشوت ستانی، ٹیکس کی چوری روکنے اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا نظام وضح کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ہمیں غریب عوام سے لوٹی ہوئی دولت بیرونِ ملک سے واپس لانے کی بھی بھرپورکوشش کرنی چاہیے۔

وزیر اعظم کے جائز مطالبات

ان ہی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے نیویارک میں بین الاقوامی مالیاتی احتساب، شفافیت اور سالمیت (ایف اے سی ٹی آئی) کےضمن میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے پینل کی عبوری رپورٹ کےچوبیس ستمبرکو افتتاح کے موقعےپر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم ،عمران خان کا کہنا تھا کہ وائٹ کالر کرائم کے ذریعے ترقی پذیر ممالک سے سالانہ ایک کھرب ڈالرز غیر قانونی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

امیر ممالک ،غریب ممالک سے لوٹی گئی رقم فوری واپس کریں۔ ترقی پذیر ممالک کو رقوم کی واپسی کے لیے قوانین بننے چاہئییں ‘غریب اور ترقی پذیر ملکوں سے دولت کی غیر قانونی منتقلی کو فوری طور پر روکا جائے۔مالیاتی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بین الاقوامی تعاون بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔دنیا میں بڑھتی غربت سے عالمی امن کو بھی خطرہ ہے۔ موجودہ عالمی نظام میں سرمائے کی غیر منصفانہ تقسیم بڑا مسئلہ ہے اور زیادہ تر دولت دنیا کے چھبّیس امیر ترین افراد کے ہاتھوں میں مرکوز ہے۔کثیر القومی ادارے ہر سال پانچ سے چھ سو ارب ڈالرزکے ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ رقوم کی غیر قانونی منتقلی کےضمن میںرپورٹ میں جو اعداد و شمارپیش کیے گئے ہیں وہ حیران کن ہیں۔

وزیر اعظم ،عمران خان کا کہنا تھا کہ بیس تا چالیس ارب ڈالرزوائٹ کالر جرائم کرنے والوں کے ذریعے رشوت کی صورت میں وصول کیے جاتے ہیں اورسات کھرب ڈالرز محفوظ پناہ گاہوں میں رکھے جاتےہیں۔ عمران خان نے اس موقعے پر یہ جائز مطالبہ کیا تھا کہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں سے دولت کی غیر قانونی منتقلی فوری طور پر روکی جائے اورعالمی برادری کو اس ضمن میں جامع حکمت عملی وضح کرنا ہو گی۔اس ضمن میں وزیراعظم نے نو تجاویز پیش کرتے ہوئے کہاتھا کہ ترقی پذیر ممالک سے چوری کیےگئے اثاثے، رشوت اور جرائم سے حاصل کی جانے والی رقوم فوری طور پر واپس کی جائیں اور ایسے ممالک جہاں جرائم اور بدعنوانی سے حاصل شدہ رقوم محفوظ کی گئی ہیں،وہاں کے حکام اپنے ان مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی کریں جو اس طرح کی رقوم اور اثاثوں کو محفوظ کرتے ہیں۔بدعنوانی اور رشوت ستانی میں سہولت فراہم کرنے والوں کی کڑی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی تجارتی اداروں کی ”بینی فیشیل اونرشپ“ سے متاثرہ اور دل چسپی رکھنے والی حکومتوں کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

وزیر اعظم پاکستان نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ملٹی نیشنل کارپوریشنز کو ٹیکس سے بچنے کے لیے ٹیکس چوروں کی جنت میں جانے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی پر ٹیکس وہاں وصول کیا جائے جہاں سے یہ ریونیو حاصل ہوتا ہے نہ کہ کہیں اور۔ان کا کہنا تھاکہ ہمیںغیر منصفانہ سرمایہ کاری کےمعاہدوں کو منصفانہ بنانا ہو گا اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کے تصفیے کے ضمن میں شفاف نظام وضح کرنا ہو گا۔ان کا مطالبہ تھا کہ غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی پر کنٹرول اور اس کی نگرانی کے لیے تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں دل چسپی رکھنے والے ممالک کو شامل کیا جائے۔اقوام متحدہ کو رقوم کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی سرگرمیاں مربوط بنانے اور اس کی نگرانی کےلیے سریقہ کار وضح کرنا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو اقدامات تجویز کیے ہیں ان پر عمل نہ کرنے سے امیر اور غریب کے مابین فرق بڑھتا جائے گا اور یہ خلیج بڑھتی رہی تو ترقی پذیر ممالک مزید مالی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

بلاشبہ عمران خان کے تمام مطالبات درست ہیں ۔ کیوں کہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ ہر دور میں امیر اور طاقت ور افراد اور ممالک نے غریبوں اورترقّی پذیر ممالک پر مظالم ڈھاکر ان کی دولت لوٹی۔اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اب سے تقریبا دو سو برس قبل امیر ممالک، غریب ممالک کی نسبت تین گنا زیادہ امیر تھے۔ 1960ء کی دہائی میں نوآبادیاتی دور کے خاتمے تک یہ شرح پینتیس گنا تک پہنچ چکی تھی۔ 

موجودہ عہد میں امیر ممالک کے پاس غریب ممالک سےاسّی گنا زیادہ دولت ہے۔برطانوی سامراج نے بہ راہ راست حکم رانی کے دوسو برسوں میں برصغیر سے اتنی دولت نہیں لوٹی جتنی 1944ء کے بریٹن ووڈز معاہدے کے تحت قائم ہونے والے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کے ذریعے لوٹی گئی ہے۔ فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کے ذریعے تیسری دنیا میں آنے والا ہر ڈالر اپنے ساتھ بیس ڈالرز واپس یورپ یا امریکا لے جاتا ہے۔ پوری دنیا میں اس سامراجی ڈاکہ زنی سے دولت کے جو انبار لگائے جاتے ہیں اس کا انتہائی قلیل سا حصہ دو چار ممالک میں ’’سوشل ڈیموکریسی‘‘ اور ’’فلاحی ریاست‘‘ کے ذریعے عوام پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔یوںیہاں بیماری کو دوابنا کربیچا جاتا ہے۔

غیروں سے کیا شکوہ

دوسری جانب ہم بھی اپنے ملک کے لٹیروں، چوروں ،بدعنوانوں،ٹیکس چرانے وااور رشوت لینے والوں کے لیے وقتا فوقتا مراعات کا اعلان کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔پاکستان میں موجودہ حکومت سمیت تقریبا تمام ہی حکومتیں ٹیکس ایمنسٹی اسکیمز جاری کرتی رہی ہیں۔پچھلی حکومت کے دور میں ایسی تین اسکیمز جاری کی گئی تھیں۔

یاد رہے کہ بے نامی جائیدادوں کو قانونی قرار دینے کی (جون 2018 کو ختم ہونے والی) ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے حکومت کو 120 ارب روپے کی آمدن ہوئی تھی۔1958سے اب تک ایک درجن سے زائد ٹیکس ایمنسٹی اسکیمز جاری کی جا چکی ہیں ۔ 2000تک ہر دس سال بعد ایک ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کی جارہی تھی۔ 1999میں سابق صدرپرویز مشرف نے غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کی تھی۔ اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں ٹیکس سروے کیا گیا۔ایف بی آرکے افسروں کے ساتھ فوجی افسر بھی سروے میں شریک تھے،جس پر تاجر برادری نے بہت واویلا کیا تھا۔ چناں چہ ہر سطح کے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی یہ اسکیم بری طرح ناکام ہوگئی تھی۔

2010 میں کالے دھن کو دو فی صد ٹیکس اداکرکےسفید کرنے کی اجازت دی گئی تو صرف ڈھائی ارب روپے کا کالادھن سفید ہوسکا اور وہ اسکیم بھی بری طرح ناکام ہوگئی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کےپچھلے دور میں پچاس ہزار نان کسٹم پیڈگاڑیوں کو قانونی قرار دینے کی اسکیم جاری کی گئی تھی ۔2013میں مخصوص سیکٹر میں سرما یہ کاری کرنے والے افراد کو ذرایع آمدن بتانے کی چھوٹ فراہم کی گئی تھی ۔ 2015میں تاجروںاوردکان داروں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کی گئی اور ایف بی آر نے تاجروں کو ذرایع آمدن بتانے کی چھوٹ فراہم کی تھی۔ تیسری ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بے نامی جائیدادوں کو قانونی قرار دینے کی اجازت دی گئی۔ اس اسکیم کے تحت ٹیکس کی شرح پانچ تا دس فی صد مقرر کی گئی تھی۔

ہم سے سوال نہ کرو

ملکی اور غیر ملکی اثاثے اور رقوم ظاہر کرنے کی پچھلی حکومت کی آخری ایمنسٹی اسکیم کی آخری تاریخ 31دسمبر 2018تھی، جسےبڑھاکر 28فروری 2019ءکردیا گیا تھا۔اس اسکیم سے 81ہزار افراد نے فایدہ اٹھایا اور قومی خزانے میں 1.67ارب روپے جمع کرائے تھے ۔ پارلیمان سے منظور شدہ ایمنسٹی قانون کے تحت ایف بی آرایمنسٹی حاصل کرنے والوں کی معلومات کسی ادارے یا شخص سے شیئر کرنے کا مجاز نہیں۔ بعض باخبر حلقوں کے مطابق ایف بی آرنےکافی دباؤ کے باوجود پچھلی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی کسی قسم کی معلومات بعض سرکاری اداروں تک سے شیئر کرنے سے انکارکردیا تھا ، حتی کہ عدالت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہاگیا تھاکہ ایمنسٹی کےقانون کے تحت ایف بی آر ان معلومات کاامین ہے،لہٰذایہ معلومات شیئر نہیں کی جاسکتیں۔ دوسری جانب یہ خبرہے کہ دبئی میں غیر ملکی اثاثوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی کےضمن میں ایف آئی اے سے کہا گیاتھا، جس پر ایف آئی اے نے دبئی میں جائیداد رکھنے والوں کو نوٹسز جاری کردیے تھے۔

اس کارروائی پر تاجر برادری کاشدید ردعمل سامنے آیااور اس کے بعض راہ نماوں نے اس مسئلے پر بہ راہ راست وزیراعظم ،عمران خان سے بات کی تھی جس پر وزیراعظم نے فوری طور پر متعلقہ ادارے کو ہدایت کی تھی کہ ایمنسٹی اسکیم سے فایدہ اٹھانے والے افراد کو ہراساں نہ کیا جائے۔اس کے بعد تمام نوٹسز واپس لے لیے گئے تھے،مگر غریبوں کے لیے جاری کیے گئے نوٹسز واپس نہیں لیے جاتے اور ان کے گھر اور دکانیں غیر قانونی قرار دے کر گرادی جاتی ہیں۔

ایک اطلاع کے مطابق تاجر برادری نے موجودہ حکومت سے ایک موقعے پریہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ کاروباری شخصیات اور ان کے اداروں پر چھاپے مارے جائیں اورنہ ان کے کمپیوٹرز اور ریکارڈ ضبط کیے جائیں ۔ واہ کیاخوب حل ہے۔پہلے ٹیکس چوری کرکے اور دیگر غیر قانی طریقوںسےمال بنایا اور پھر اسے معمولی رقم ادا کر کےبچایااورچھپایاجائے،لیکن غریب کےلیےسر چھپانے کی کوئی جگہ نہ چھوڑی جائے۔

چوروں کے خلاف تنگ ہوتا عالمی گھیرا

واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں بینکنگ کے سخت سے سخت تر ہوتے ہوئےقوانین اور ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلےکے معاہدوںکےبعد پاکستان کے ٹیکس چوروں اور غیر قانونی طریقوں سے دولت کمانے والوں کے لیے بیرونِ ملک دولت کو چھپا کر رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور دوسری جانب ہماری غیر دستاویزی معیشت کا حجم دستاویزی معیشت سے بڑھ چکا ہے۔

اقتصادی امور پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے ایسی صورت حال میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں فرق کرنا بہت مشکل ہوگا۔چناں چہ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ حکومت کس طرح یہ فرق کرے گی کہ یہ پیسہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے مالی وسائل کا نہیں ہے،یایہ منشیات سے حاصل ہونے والا پیسہ نہیں ہے۔ ہمارا قانونی نظام بھی زیادہ موثر نہیں ہے۔ اسی لیے ایف اے ٹی ایف نے پچھلی ایمنسٹی اسکیم پر باقاعدہ طورپر اپنے تحفظات کا اظہار کیاتھا۔

مفتاح اسماعیل جب پچھلی حکومت میں مشیر خزانہ تھے تو ایک محفل میں ان سے سوال کیاگیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس چوری، سرمائے کی غیر قانونی طورپر بیرون ملک منتقلی اور دیگر معاملات سے متعلق قوانین موجود ہیں۔ حکومتی پالیسی درست نہ تھی یا ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب تھی، مگر ان سب نے ٹیکس چوری کر کےاوراثاثے چھپا کر جرم کیا ہے اورجب تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی (OECD) کا رکن بننے کے بعد خود بہ خود ٹیکس چوروں کی معلومات آپ کو مل جائیں گی تو حکومت کیوں انہیں معافی دے رہی ہے؟اس پر مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہمیں جیل بھرنے کا شوق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ماضی میںامن و امان کی خراب صورت حال کی وجہ سے اور پچھلی حکومت کی پالیسیز کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے اپنا پیسہ بیرون ملک منتقل کیا۔ 

بیرون ملک اثاثےرکھنے والے بھی پاکستانی ہیں اورہمیں اپنے بھائیوں کو ایک موقع دینا چاہیے ۔ حالاں کہ اسی محفل میں انہوں نےیہ تسلیم کیا تھا کہ ماضی کی تمام ٹیکس ایمنسٹی اسکیمز بری طرح ناکام ہوتی رہی ہیں۔سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے پہلے کسی بھی پاکستانی کی معلومات حاصل کرنے کے لیے خط نہیں لکھوں گا۔دیکھیے ،امیروں کو بچانے کے لیے کس کس سطح پر کام ہوتا ہے۔واضح رہے کہ مفتاح اسماعیل کے برعکس قبل ازیں ایف پی سی سی آئی میں سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اوراس وقت کے گورنر اسٹیٹ بینک، طارق باوجوہ ایمنسٹی اسکیم لانے کےمطالبے کی نفی کرچکے تھے۔لیکن پھر خفیہ ہاتھ کام دکھا گیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بزنس کمیونٹی کیوں اتنی شدت سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جلد از جلد لانے کا مطالبہ کررہی تھی؟اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ٹیکس چوروں کو پکڑنے کے خلاف دنیا بھر میں اتحاد بن رہے ہیں اور ان اتحادوں میں پاکستان چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے شامل ہوچکا ہے۔ پاکستان نے 2016 میں او ای سی ڈی کے ٹیکس کے معاملات میں باہمی انتظامی معاونت کے معاہدےپردست خط کردیے تھے۔ پاکستان اس معاہدے پر دست خط کرنے والا 104 واں ملک تھا۔ 

اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں اس معاہدے میں شامل ہونے کے ضمن میں بہت زیادہ مزاحمت موجود تھی۔اس کنونشن کے تحت پاکستان کو معلوما ت تک رسا ئی 2018کے آخر اور2019کے اوائل سے ملناشروع ہو چکی تھی۔ ٹیکس چوروں کی جنت تصور کیے جانے والے برٹش ورجن آئی لینڈ،آئل آف مین، جرسی لیوتھوینیا اور برطانیہ نے معلومات کی فراہمی ستمبر2017سے شروع کردی ہے۔ ستمبر2018سے سوئٹزرلینڈ اور ملائیشیا بھی معلومات کی فراہمی شروع کرچکے ہیں۔چناں چہ اب گھیرا تنگ ہورہا ہے۔

چھبّیس ممالک سے معاہدے

سوروزہ منصوبے کے سلسلے میں کنونشن سینٹر،اسلام آباد، میں ’’نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب تیس نومبر2018 کومنعقد کی گئی تھی ۔اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ،عمران خان کا کہنا تھا کہ 'ایک اتھارٹی تشکیل دی جائے گی جس کا مقصد غربت کو ختم کرنا ہے۔ کرپشن غربت پیدا کرتی ہے۔ امیر اور غریب ممالک میں بنیادی فرق کرپشن کا تناسب ہے۔جن ممالک میں قدرتی وسائل موجودہیںوہاں کرپشن ہونے کی وجہ سے ترقی نہیں ہوتی اور پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے ہم ترقی نہیں کرسکے۔ 

آج سرکاری اداروں کے حالات کی بنیادی وجہ بھی کرپشن ہے۔وزیر اعظم نے کہاتھا کہ 'ہم نے وزیر اعظم ہاؤس میں اثاثہ جات ریکوری کا شعبہ بنایا اور سوئٹزرلینڈ سمیت چھبّیس ممالک سے رابطہ کرکے معاہدے طے ہوئے تاکہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جا سکے۔ ان ممالک سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق پاکستانیوں کےگیارہ ارب ڈالرز ان ممالک میں موجودہیں جن کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔سوئٹزرلینڈ سے پاناما پیپرز سے پہلے والے اکاونٹس کی تفصیلات کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں۔

امارت اور غربت کے درمیان بڑھتا ہوا فرق

ایک طرف تو جدید دور کا انسان ترقی کی منازل برق رفتاری سے طے کررہاہےاور دوسری طرف اربوں انسان دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیاکے85امیر ترین افراد کی دولت دنیا کے ساڑھے تین ارب غریب لوگوں سے زیادہ ہے اور تقریباً ایک ارب20لاکھ انسان روزانہ سوا سو روپے سے بھی کم آمدن میں گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انسانوں کی اس قدرزیادہ بدحالی کی اصل وجہ امیر اور غریب کا بڑھتا ہوا فرق ہے۔ 

دنیا ترقی کررہی ہے اور مجموعی آمدن اور پیداوار میں تو اضافہ ہورہا ہے، لیکن اس آمدن میں اضافے کا بڑا حصہ چند ہاتھوں میں جارہا ہے اور زیادہ آبادی اب بھی غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں خصوصاً شدت اختیار کرچکا ہے جہاں امیر مزید امیر ہورہے ہیں اور غریب مزید غریب ہوتے جارہے ہیں۔

استحصال،ہر سُو

گلوبل فنانشل انٹیگریٹی کی جانب سے شایع کردہ ایک رپورٹ اور نارویجین اسکول آف اکنامکس کے مطابق 2012ء میں ترقی پذیر ممالک کی کل آمدن امداد، سرمایہ کاری اور ترسیلات زر سمیت دوٹریلین ڈالرز تھی۔ اسی سال ان ممالک سےپانچ ٹریلین ڈالرز ترقی یافتہ ممالک کی طرف منتقل ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تین ٹریلین ڈالرز کا فرق پوری دنیاکے کل امدادی بجٹ سے چوبیس گنا زیادہ ہے، یعنی امداد کے طور پر ملنے والے ہر ایک ڈالر کے بدلے ترقی پذیر ممالک کوچوبیس ڈالر ز سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ 

ہر اسکول بنانے ، کنواں کھودنے پر یا کھانے کے ڈبے دینے پر مغرب کے سرمایہ دار اور بینکوں کو سود کی ادائیگی، قدرتی وسائل کے استحصال اور سیدھے سیدھے فراڈ کی مدد سےچوبیس گنا واپس ملتا ہے۔

گزشتہ برس جنوری کے مہینے میں غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم آکسفیم نے عالمی سماجی عدم مساوات کے حوالے سے رپورٹ جاری کی۔اس سالانہ رپورٹ کو ’’پبلک گُڈ اور پرائیویٹ ویلتھ‘‘ کا نام دیا گیاتھا، یعنی ’عوامی مفاد یا ذاتی دولت۔ اس رپورٹ میں بتایا گیاتھا کہ صرف 26 افراد کے پاس دنیا کے مجموعی طور پر3.8بلین افرادسے زیادہ دولت موجود ہے۔

یہ تعداد غربت کی شکار دنیا کی نصف آبادی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سماجی عدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ برس کے دوران ارب پتی افراد کے اثاثوں میں بارہ فی صد کا اضافہ ہواجبکہ غربت کا شکار دنیا کی تقریبا نصف آبادی کو مزیدگیارہ فی صد کا نقصان ہوا۔ 2008ء کے اقتصادی بحران کے بعد سے دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعدادتقریبا دو گُنا ہو چکی ہے۔ ان کے اثاثوں میں محض 2018ء کے دوران تقریبا 900 بلین ڈالرز کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 2017ء سے 2018ء کے دوران انتہائی امیر لوگوں کی دولت میں روزانہ کے حساب سے 2.5 بلین ڈالرز کا اضافہ ہوا۔ 

دوسری طرف دنیا کی آبادی کانصف،یعنی غربت کی شکار آبادی کی دولت میں اسی عرصے میںروزانہ کی بنیاد پر 500 ملین ڈالرز کی کمی واقع ہوئی۔ برطانیہ میں قائم تنظیم آکسفیم کے مطابق سماجی عدم مساوات کے خاتمے کے لیےانتہائی ضروری اقدامات میں عالمی سطح پر لوگوں کو مفت تعلیم، صحت اور سوشل سیکیورٹی جیسی سہولیات دی جانا لازمی ہیں۔ان تجاویز میں انتہائی امیر لوگوں اور اداروں پر لگے ناکافی ٹیکسوں کی صورت حال کو تبدیل کرکے ان کی دولت اور کمائی پر مناسب ٹیکس لگانے کی بھی بات کی گئی تھی۔

ان حالات میں اگر ماحولیاتی تبدیلیوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے،جو ابھی سے ترقی پذیر ممالک پر شدید موسمی تبدیلیوں، پانی کی قلت اور فصلوں کی تباہی کی صورت میں اثر انداز ہو رہی ہیں، تو کسی بھی سنجیدہ تناظر میں دنیا کے غریبوں کے لیے آنے والے وقت میں کسی بھی معجزے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ اگر دنیا اور اس کے لوگوں کا سرمایہ دارانہ استحصال جاری رہنے دیا گیا تو اس کا نتیجہ انسانوں کے لیے بڑے پیمانےپر ناقابلِ بیان آفت کی صورت میں نکلے گاجس سے بچنے کے لیے ترقّی یافتہ ممالک کو عمران خان اور ترقّی پذیر ممالک کے دیگر راہ نماوں کے مطالبات پر کان دھرنا ہوگا۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید