یورپین پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کی سب کمیٹی کی چئیرپرسن ماریا ایرینا ایم ای پی نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے وعدوں کی پاسداری کرے۔
یورپین پارلیمنٹ کی سب کمیٹی کی جانب سے آج جاری کردہ اعلامیے کے مطابق انہوں نے کہا کہ بڑی تشویش کے ساتھ اس بات کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں قانون کی حکمرانی کا خاتمہ ہو رہا ہے، کیونکہ قانون کی حکمرانی ہی یورپ اور بھارت کے خصوصی تعلقات کی بنیاد ہے۔
بھارت میں پسماندہ طبقات، مذہبی اقلیتیں خصوصی طور پر مسلمان، ایک مخیر اور متحرک سول سوسائٹی اور حکومتی پالیسیوں کے نقاد ایک طویل عرصے سے دباؤ میں ہیں۔ شہریت کے مجوزہ قانون کی توثیق کے معاملے پر وسیع پیمانے پر احتجاج اور شہری امتیازی قانون میں ترمیم کے نتیجے میں من مانی نظربندیاں اور غیر ضروری جانی نقصان ہوا ہے۔ اسی طرح صحافیوں اور حکومت کے پرامن نقادوں کو انسداد دہشت گردی اور بغاوت کے سخت قوانین کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کے محافظوں کو حکام سخت اور بے ہنگم طریقے سے نشانہ بنا رہے ہیں۔
ماریا ایرینا نے مزید کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کی طرف سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹ میں فروری 2020 میں دہلی فسادات کے دوران دہلی پولیس کے ذریعے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا پردہ فاش کیا گیا تھا۔اس صورتحال میں اس تشدد کے پھوٹ پڑنے کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے جس طرح اس پر کاروائی نہیں کی گئی، اس پر بھی قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ عہدیداروں کے ذریعے انسانی حقوق کی ان تمام پامالیوں کی فوری، مکمل، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پولیس پر ان پرتشدد واقعات کو روکنے کے بجائے حملہ آوروں کی مدد کرنے والے کا کردار ادا کرنے کے الزام کی بھی مکمل آزاد، عوامی اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ماریا ایرینا نے یاد دلایا کہ پولیس کی بربریت کو روکنے اور اسے کسی بھی طرح کے استثنیٰ کے حصول سے دور رکھنا دراصل معاشرے میں انصاف کے فروغ کا واحد راستہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی حالیہ دنوں کی انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کردیا گیا کہ وہ بھارتی حکومت کی انتقامی کاروائیوں کی وجہ سے بھارت میں اپنا دفتر بند کرنے پر مجبور ہیں۔
یورپین پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی سب کمیٹی کی چئیرپرسن نے اپنے اس اعلامیے میں بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے ایک موجودہ ممبر کی حیثیت سے بھارت نے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ میں "سول سوسائٹی کی حقیقی شرکت اور موثر شمولیت کو فروغ دینے کا وعدہ کیا ہے"۔ لہٰذا میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اپنے اس عہد کو پورا کرے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت گیا ہے کہ بھارت اپنے لفظوں کو عمل کی شکل دے اور وہ رول ماڈل بن کر دکھائے جو وہ عالمی سطح پر بننا چاہتا ہے۔
ماریا ایرینا نے اپنے اس اعلامیے میں یورپین یونین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان کے بیان کردہ انسانی حقوق کے بارے میں خدشات کو یورپین یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والے مکالمے کا حصہ بنائیں اور اسے حل کریں۔
اعلامیے کے آخر میں ماریا ایرینا نے اپنے اس مطالبے کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے اس پر فوری کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت بڑی جمہوریت اور ایک اہم عالمی کھلاڑی ہے۔ جس کے ساتھ یورپین یونین کی اسٹریٹجک شراکت داری، جمہوریت کی مشترکہ اقدار، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام پر مبنی ہے۔ اس سال 15 جولائی کو منعقدہ 15ویں یورپین یونین۔بھارت سمٹ کے موقع پر ایک ایسے روڈ میپ 2025 کی توثیق کی ہے جس میں فریقین نے مشترکہ اقدار، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو فروغ دینے کے اپنے عزم کی تصدیق کی تھی۔