آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیکی کا حکم اور بُرائی کا سدِباب

عمران احمد سلفی

ارشادِ ربّانی ہے:’’تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں ‘۔(سورۂ آل عمران )اس آیت میں اللہ تعالیٰ نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔اسی طرح ایک اگلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا : ’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے ، تم نیک باتوں کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘ (سورۂ آل عمران )

ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اس امت کے آخری دور میں ایسے لوگ ہوں گے، جنہیں وہی اجر ملے گا جو ان سے پہلےکو ملا کرتا تھا ،وہ نیکیوں کا حکم کریں گے اور برائیوں سے روکیں گے اور فتنہ والوں سے لڑیں گے۔(سنن بیہقی)

ان آیات میں بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی امامت ورہنمائی کے جس منصب سے بنی اسرائیل اپنی نااہلی کے باعث معزول کئے جا چکے ہیں، اس پر اب تم مامور کئے گئے ہو۔اس لیے اخلاق و اعمال کے لحاظ سے اب تم دنیا میں سب سے بہتر انسانی گروہ بن گئے ہو اور تم میں وہ صفات پیدا ہو گئی ہیں جو امامت عادلہ کے لیے ضروری ہیں یعنی نیکیوں کو قائم کرنے اور بدی کو مٹانے کا جذبہ و عمل اور اللہ وحدہ لاشریک کو اعتقاداً اور عملاً بھی اپنا الٰہ اور معبودتسلیم کرنا۔

دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’مومن مرد عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار، معاون اور ) دوست ہیں، وہ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ،نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا، بے شک ،اللہ غلبہ والا اور حکمت والا ہے‘‘۔ (سورۂ توبہ )

جہا ں پر اللہ تعالیٰ نے متقی ،مومن کی صفت بیان کی وہیں پر اللہ نے زمین میں فتنہ و فساد پھیلانے والوں کے انجام سے آگاہ بھی کیا ۔پچھلی انسانی تاریخ میں جتنی بھی قومیں تباہ ہوئی ہیں ،ان سب کو جو چیز لے ڈوبی ،وہ یہ تھی کی جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا تو وہ خوش حالی کے نشے میں مست ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے لگیں اور ان کا اجتماعی خمیر اس درجے بگڑ گیا کہ یا تو ان کے اندر ایسے نیک لوگ باقی رہے ہی نہیں جو انہیں برائیوں سے روکتے،یا اگر کچھ لوگ نکلے بھی تو وہ اتنے کمزور تھے اور ان کی آواز اتنی کمزور تھی کہ ان کے روکنے سے فساد نہ رک سکا۔یہی چیز ہے جس کی بدولت آخر کار یہ قومیں اللہ کے غضب کی مستحق ہوئیں ،ورنہ اللہ کو اپنے بندوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ وہ بھلے کام کر رہے ہوں اور اللہ انہیں خوا مخواہ عذاب میں مبتلا کر دے ۔لہٰذااگر ہم نے امر با لمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے سے کنارہ کشی اختیار کر لی تو ہم اللہ کے عذاب کے مستحق قرار دیئے جا سکتے ہیں ۔

حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قسم ہے اُس ذات کی، جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ تمہیں نیکی کا ضرور حکم دینا ہوگا اور بُرائی سے ضرور روکنا ہوگا، ورنہ عین ممکن ہے کہ اللہ عزّوجل تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیجے، پھر تم اُس سے فریاد کرو گے اور تمہیں جواب نہ آئے گا۔‘‘ (سنن ترمذی)

حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیرؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت ابوذرؓ نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ ،مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کی وجہ سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ابوذرؓ فرمانے لگے کیا ان سے نیچے اعمال ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا: نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ابوذر ؓ کہنے لگے کہ میرے پاس تو صدقہ کرنے کے لیے مال موجود نہیں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:تو پھر نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔ (متفق علیہ)