آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بے خوابی یا انسومنیا سے کیسے چھٹکارا پایا جائے؟

پُر سکون نیند انسانی جسم، دماغ اور ذہن کے لئے بےحد ضروری ہے کیونکہ پُرسکون نیند انسانی نفسیات اور جسمانی اعضا کے بہتر طور پر کام کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور انسان دن بھر اپنے آپ کو توانا اور فریش محسوس کرتے ہوئے اپنے کام بخوبی سر انجام دیتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق بے خوابی جسے ہم انسومنیا کہتے ہیں۔ جدید دور کا ایک تحفہ ہے، انسومنیا یعنی نیند کا نہ آنا۔ اس بیماری سے جڑے افراد زیادہ تر نیند نہ آنے کے مختلف مسائل سے ہمہ وقت دوچار رہتے ہیں۔

یہاں ہم آپ کو کچھ ایسی تراکیب بتائیں گے جس پر عمل کر کے آپ انسومنیا سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔

بستر پر غیر ضروری سرگرمیوں سے پرہیز کریں:

بستر پر بیٹھ کر یا لیٹ کر ٹیلی ویژن دیکھنے، کام کرنے، کھانے پینے اور دیگر سرگرمیوں سے گریز کریں۔ بستر کو صرف سونے کے لیے استعمال کریں۔

اگر آپ کو سونے سے قبل کتب بینی کی عادت ہے تو بستر پر دراز ہوکر صرف وہ کتابیں پڑھیں جو آپ کے اعصاب کو پرسکون کرنے میں معاون ہوں۔

’ری کنڈیشننگ‘ سے کام لیں:

’ری کنڈیشننگ‘ ایک طبی اصطلاح ہے جو ایک تکنیک کے لیے استعمال ہوتی ہے جس سے بے خوابی کے علاج میں مدد لی جاتی ہے۔ اس تکنیک کے ذریعے بے خوابی کے مریض کو اس کے بستر سے مانوس کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ مسلسل بے خوابی کا شکار ہیں تو پھر آپ دوسرے کمرے میں سونا شروع کردیں تاکہ اس بستر کے ساتھ آپ کا تعلق منقطع ہوجائے اور اس سے وابستہ آپ کے لاشعور میں بیٹھی ہوئی یہ سوچ دھندلاجائے کہ اس بستر پر مجھے نیند نہیں آتی۔

ماہرین کے مطابق اگر بستر پر دراز ہونے کے 20 سے 30 منٹ تک نیند نہ آئے تو پھر بستر چھوڑ دینا چاہیے اور آپ دوسری سرگرمیوں میں مصروف ہوجائیں۔


جب تھکن سوار ہو تو پھر بستر کا رُخ کریں، مگر بستر سے دور رہتے ہوئے ایسے کام نہ کریں جو آپ کو جاگتے رہنے پر مجبور کردے مثلاً ٹی وی نہ دیکھیں، کمپیوٹر اور سیل فون استعمال کرنے سے گریز کریں، اسی طرح تیز روشنیوں اور گھڑی کو دیکھنے سے بھی اجتناب برتیں اور جب دماغ تھکنے لگے تو بستر پر لوٹ آئیں۔

سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر کریں:

سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر کرنا ایک بہترین عمل ہے ایسا کرنے سے بے خوابی کی شکایت دور ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ مقررہ وقت پر سونے اور جاگنے سے انسانی جسم ان اوقات کے مطابق سونے اور جاگنے کا عادی ہوجاتا ہے۔

پھر جب سونے کا وقت ہوتا ہے تو خود بہ خود آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں اور مقررہ وقت پر انسان بیدار ہوجاتا ہے۔ کچھ عرصے تک یہ مشق کرنے سے جسم مقررہ اوقات کے مطابق عمل کرنے یعنی سونے اور جاگنے کا عادی ہوجاتا ہے اور بے خوابی سے نجات مل سکتی ہے۔

قیلولہ کا وقت کم کردیں:

عام طور پر گھروں میں موجود لوگوں کا سہ پہر کے وقت نیند لینا طرزِ زندگی کا حصہ ہے، وہ لوگ جو ملازمت نہیں کرتے یا اپنے کاروبار کے دوران بھی انھیں سہ پہر میں فارغ مل جاتا ہے ان میں عام طور پر یہ عادت دیکھنے میں آتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سہ پہر کا سونا رات کی نیند کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ چاہے آپ کتنے ہی تھکن سے چُور کیوں نہ ہوں، نیند نہیں آئے گی۔

اگر سہ پہر میں نیند لینی ہے تو پھر اس کا دورانیہ اوسطاً 20 منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح ویک اینڈ پر معمول سے زیادہ سونا بھی بے خوابی کا سبب بن سکتا ہے۔

کیفین سے اجتناب:

کیفین ایک کیمیائی مرکب ہے جو چائے، کافی، چاکلیٹ اور کولا مشروبات میں موجود ہوتا ہے۔ یہ نیند کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سہ پہر اور شام کے اوقات میں ایسی تمام چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں یہ مرکب شامل ہو۔ ہمارے معاشرے میں شام کے وقت اور کھانے کے بعد چائے پینے کا رواج ہے۔

بے خوابی کے مریضوں کے لیے شام کے وقت اور رات کے کھانے کے بعد چائے پینا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ چناں چہ ان اوقات میں چائے اور دوسری اشیاء استعمال نہ کریں جن میں کیفین شامل ہو۔

خواب گاہ کو پُرسکون بنائیں:

ہرممکن کوشش کرکے اپنی خواب گاہ کو پُرسکون بنائیے، اس میں شور کرنے والی کوئی شے نہ ہو، چھت اور دیواروں کا رنگ آنکھوں کو چُبھنے والا نہ ہو، اسی طرح غلط گدے کا انتخاب بھی آپ کو میٹھی نیند سے محروم کرسکتا ہے۔

نیند سے قبل ورزش نہ کریں:

دن کے وقت ورزش کرنے کی عادت ڈالیں مگر بستر پر جانے سے قبل سخت ورزش نہ کریں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سونے سے 4 سے 5 گھنٹے قبل ہلکی پھلکی ورزش میٹھی اور پُرسکون نیند لانے میں معاون ہوتی ہے۔

اعصاب کو پرسکون رکھیں:

سونے سے پہلے اعصاب کو پُرسکون کرنے کے لیے کسی سرگرمی میں کچھ دیر مشغول ہوجائیں، مثلاً کتب بینی کریں یا موسیقی سے لطف اندوز ہوں یا ایسی کوئی بھی سرگرمی اختیار کرلیں جس سے ذہن تفکرات اور پریشان کُن خیالات سے عارضی طور پر ہی سہی لیکن آزاد ہوجائے۔

صحت سے مزید