آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’دُرود شریف‘ سرکارِ دو جہاںﷺ سےعقیدت کا اہم ذریعہ

ڈاکٹر سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاری

ارشاد ِ ربانی ہے :’’بے شک ، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پیغمبر (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ ﷺ پر درود اور سلام بھیجا کرو‘‘۔ (سورۃ الاحزاب،56)یہ عمل حضوراکرم ﷺکی ذات اقدس سے محبت کی دلیل ہے،لہٰذااُمتی پرتو کہیں زیادہ لازم ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور آپﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت میں دُرود وسلام کاتحفہ بھیجتارہے۔یہ عمل دنیا وآخرت دونوں کے لئے موجب اَجروباعث ثواب ہے۔اس عمل کے ذریعے آفات وبلیات کا خاتمہ ہوتا اورمصائب ومشکلات سے نجات ملتی ہے۔ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرائیلؑ تشریف لائے اور کہاکہ یارسول اللہ ﷺ! کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کا کوئی اُمتی آپ ﷺ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھے تو میں اس پر دس مرتبہ درود شریف پڑھوں اور آپ کا اُمتی آپ ﷺ پر ایک بار سلام پڑھے تو میں اس پر دس بار سلام پڑھوں۔

حضرت محمد بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میں سے جوشخص بھی میرے وصال کے بعد مجھ پر سلام بھیجے گا تو جبرائیل علیہ السلام میر ی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے یا محمد ﷺ،یہ فلاں بن فلاں ہے جس نے آپﷺ پر سلام پڑھاہے تو میں جواب میں فرماؤں گا ، اس پر بھی سلام ہو اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں ہو ں۔ حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ دعااس وقت تک زمین و آسمان کے درمیا ن معلّق رہتی ہے، جب تک کہ نبی اکرم ﷺپردرود نہ پڑھا جائے ۔

حضرت جابر بن عبداﷲ ؓسے مروی ہے ،حضور علیہ السلام نے فرمایا ،روزانہ جو شخص مجھ پر سومرتبہ درود پڑھے گا، اﷲ تعالیٰ اس کی حاجتیں پو ری فرمائے گا، اس میں ستر آخرت کی اور تیس دنیا کی ۔حضرت سعید بن عمر ؓسے مروی ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت کا جو شخص بھی دل کی گہرائی سے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو ا س پر اﷲ تعالیٰ دس رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے دس درجے بلند فرماکر اس کی دس برائیو ں کو مٹادیتا ہے ۔آنحضرت ﷺ کا ارشاد ِگرامی ہے کہ جب کوئی مسلمان مجھ پر درود پڑھتا ہے تو میں اس درود شریف کا جواب دیتا ہوں۔ 

اسی طرح جو سلام پیش کرتا ہے، اس کا بھی جواب دیتا ہوں۔حضرت ابن مسعود ؒ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہو گا، جس نے مجھ پر سب زیادہ درود پاک بھیجاہے۔حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اصل میں بخیل وہ شخص ہے کہ جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود شریف نہ پڑھے۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو کہ جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود شریف نہ پڑھے۔ہادی برحق ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے روضہ طیبہ پر درود پاک پڑھتا ہے تو اسے میں خود سنتا ہوں اور جو مجھ سے فاصلے پر پڑھتا ہے، وہ میرے پاس پہنچا دیا جاتا ہے۔آپﷺ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ جو شخص مجھ پر کثرت سے درود پاک بھیجے گا، وہ عرش کے سائے کے نیچے ہو گا۔حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھ پر صبح و شام دس، دس مرتبہ درود پاک پڑھے گا۔ اسے روز قیامت میری شفاعت پہنچ کر رہے گی۔

حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے حضور اکرم ﷺنے فرمایا کہ مجھ پر درود بھیجو،بےشک ،مجھ پر درود بھیجناتمہارے لئے زکوٰۃ و پاکیزگی ہے اور میرے وسیلے سے اﷲ تعالیٰ سے سوال کرو ،عرض کیا گیا ،یارسول اﷲﷺ وسیلہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نےفرمایا: جنت میں اعلیٰ درجے کا مقام ہے جوصرف ایک ہی شخص کو عطاہوگا اور مجھے یقین ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا۔ حضورا کرمﷺ کایہ فرمان کہ درود تمہارے لئے زکوٰۃ ہے ،اس کامطلب یہ ہے کہ درود پڑھنے سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگر حضور علیہ السلام پر درود بھیجنے کا ثواب اُمیدِ شفاعت نہ بھی ہو، تب بھی عقل پر واجب ہے کہ وہ درود کی عظمت سے غافل نہ رہے ، کیونکہ درود پاک میں گناہوں کی مغفرت بھی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے رحمت بھی ہے ۔

حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جوشخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے دس گناہوں کو مٹادیتا ہے، اگر یہ جاننے کا ارادہ ہے کہ درود شریف تمام عبادتوں سے افضل ہے تو اﷲکے اس فرمان پر غور و فکر کرو، بےشک، اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، لہٰذا اے ایمان والو،تم بھی آپﷺ پر درود بھیجاکرو، نیز دیگر تمام عبادات کے لئے اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندو ں کو حکم دیاہے، مگر نبی علیہ السلام پر درود بھیجنے کے معاملے میں پہلے خود درود بھیجا ،پھر فرشتوں کو درود بھیجنے کا حکم دیا اور پھر مومنوں کو حضور علیہ السلام پر درود بھیجنے کا حکم فرمایا ،پس ا س سے ثابت ہو انبی اکر مﷺ پر درود بھیجنا ایک افضل عمل ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رسول پاک ﷺ کی عقیدت و محبت اور آپﷺ کی ذات ِ اقدس پردُرود پاک پڑھنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین)