آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

خوش باش گھرانہ... خوش حال معاشرے کی بنیاد

مدثر اعجاز، لاہور

’’اور پھر سب مل جل کر ہنسی خوشی رہنے لگے‘‘ یہ ہے، وہ فقرہ، جس پر عموماًبچّوں کے لیے لکھی لمبی لمبی کہانیوں کا اختتام ہوتا ہے۔ ہماری فلموں، ڈراموں میں بھی اکثر آخری منظر میں سارا خاندان خوشی خوشی ایک دوسرے سے گلے ملتے دکھائی دیتا ہے۔ ناولز، افسانوں میں عشقِ مجازی کے بعد سب سے زیادہ تذکرہ خاندانی محبّت و نفرت ہی کا کیا جاتا ہے۔ ان مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم دو باتیں تو بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں۔ایک یہ کہ ہم سب خوش رہنا چاہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ سچّی خوشی مل جُل کر رہنے ہی سے ملتی ہے۔ 

موجودہ دَور میں انسان کو اپنی اور خود سے وابستہ افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ محنت کرنی پڑرہی ہے۔ خاندان کا ہر فرد اپنی اپنی جگہ پچھلے ادوار کی نسبت زیادہ مصروف ہے،مگر سب کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ جو وقت اہلِ خانہ کے ساتھ گزارا جائے، وہ ہنسی خوشی گزرے۔ انسانی عادات پر تحقیق کرنے والے محقّقین کے مطابق خوش باش، مطمئن خاندان ہی ایک خوش حال معاشرے کی بنیاد ہے۔ 

ایسے خاندانوں میں پروان چڑھنے والے بچّے خود اعتماد، ذہین اور پُروقار شخصیت کے حامل ہوتے ہیں، جو آگے چل کر معاشرتی یا مُلکی ترقّی کے لیے زیادہ سود مند ثابت ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ موجودہ دَور میں خاندان کی خوش حالی آسان امر نہیں رہا۔ اس ضمن میں ماہرین کی آراء کی روشنی میں چند اصول وضع کیے گئے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکے بہت حد تک خوش باش رہا جاسکتا ہے۔

خونی رشتوں کو فوقیت دیں: انسان محبّت کا درس اپنے خاندان سے لیتا ہے۔مغرب میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق عُمر کے آخری حصّے میں اگر کوئی اپنے کنبے سے جُڑا ہو، تو اُس کی صحت، اکیلے رہنے والے انسان سے بہتر رہتی ہے۔ اگر کنبے سے الگ ہو، تو وہ تنہائی کے ساتھ کئی ذہنی الجھنوں کا بھی شکار ہوجاتا ہے۔

اگر آپ ایک ہنستے بستے خاندان میں رہنا چاہتے ہیں، تو اپنے گھر والوں کو اپنے دوستوں اور محلّے داروں وغیرہ پر فوقیت دیں۔ دوستوں کے ساتھ فضول وقت گزارنے سے بہتر ہے کہ زیادہ وقت ماں باپ اور بہن بھائیوں کو دیا جائے۔

اعلیٰ خاندانی روایات: نفسیات کے ماہرین کے نزدیک اپنے پُرکھوں کی کسی بھی روایت یا رواج کو دُہرا کر ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے اور جب خاندان کے تمام افراد مل کر اس روایت کو زندہ کرتے ہیں، تو یہ خاندان کی اجتماعی خوشی بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عید کے موقعے پر شادی شدہ بیٹیوں،بہنوں کو تحفے تحائف بھیجنے کا رواج کئی خاندانوں میں ہے۔

مختلف مواقع پر قریبی عزیز رشتے داروں کی دعوت، گھر میں کوئی پکوان پکا کر محلّے میں بانٹنا، چُھٹی کے دِن سب کا اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانا وغیرہ اسی قسم کی بہت سی روایات ہیں، جو نہ صرف خاندان کو آپس میں جوڑے رکھتی ہیں، بلکہ آنے والی نسلیں بھی کوشش کرتی ہیں کہ ان روایات کو بزرگوں کی نشانی سمجھ کر قائم رکھاجائے۔

اکٹھے نظر آئیں: گھر میں تو سب ہی مل جُل کر رہتے ہیں، مگر کوشش کریں کہ گھر سے باہر بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔ اگر خریداری کے لیے جانا ہے، تو بہن بھائی اکٹھے بھی جاسکتے ہیں۔ جمعے اور عیدین کی نمازوں کے لیےگھر کے مَردوں کا اکٹھے ہوکر مسجد جانا اچھی روایت ہے۔آج کل کے بزرگ گھر سے باہر جانے کے لیے بچّوں کے ساتھ کو ترستے رہتے ہیں، یہ انتہائی نامناسب رویّہ ہے۔ کچھ وقت نکال کر اُن کو بھی اپنے ساتھ باہر لے کر جائیں۔ تو اس عمل سے انہیں ہی نہیں، آپ کو بھی دِلی خوشی ملے گی۔

گھریلو امور کی منصفانہ تقسیم: ایک خوش باش گھرانہ وہی ہوتا ہے، جہاں سب اپنی اپنی ذمّے داریاں خوشی خوشی نبھاتے ہیں۔ اور یہ اُسی صُورت ممکن ہے کہ کاموں کی تقسیم منصفانہ ہو۔ ساس، بہو اور نند رشتوں کی یہ وہ مثلث ہے، جس کے ہر زاوئیے کا درست ہونا بہت ضروری ہے۔ انہی تین رشتوں میں توازن اور محبّت کا فقدان ہی اکثر گھریلو ناچاقیوں کا سبب بنتا ہے۔ گھر کے کاموں کی تقسیم عُمر، طاقت اور رُتبے کے مطابق ہو، تو گھر میں خوشیوں کی چہل پہل رہتی ہے۔ اسی طرح گھر سے باہر کے کاموں کا سارا بوجھ ایک چھوٹے بھائی پر ڈالنے سے بہتر ہے کہ یہاں بھی کام کی مساوی تقسیم کرلی جائے۔

بیمار یا معذور فرد کی دیکھ بھال: خاندان کا اگر کوئی فرد بیمار یا معذور ہو، تو اُس کی دیکھ بھال اہلِ خانہ کے لیے کئی مشکلات کا سبب بن جاتی ہے،لہٰذا اس صُورتِ حال سے کیسے نپٹنا ہے، اس کا فیصلہ بھی سب مل جُل کر کریں۔ بیمار یا معذور افراد کو بوجھ سمجھیں، نہ ہی انہیں اس بات کا احساس ہونے دیں کہ آپ اُن کی وجہ سے پریشان ہیں۔اہلِ خانہ مل جُل کر اُن کی ضروریات کا خیال رکھیں، توجّہ اور وقت دیں۔

بزرگوں کو اہمیت دیں: اگر آپ کے خاندان کے بزرگ زندہ ہیں اور آپ کے ساتھ خوش و خُرّم اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں، تو آپ کا خاندان یقیناً ایک خوش حال خاندان ہے۔ بزرگ چاہے دادا دادی ہوں یا نانا نانی، اُن کی نصیحتیں اور مشورے گھر میں برکت کا باعث ہی بنیں گے۔ سو، اپنے بچّوں کو اُن کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت ڈالیں۔