آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ربیع الاوّل 1442ھ 23؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی

ایک طرف مہنگائی ،دوسری جانب انگاروں پر رقص کرتی اپوزیشن انجامِ گلستان کیا ہو گا ،کسی کی جانے بلا، بلوچستان میں دہشت گردی کا عفریت 20فوجی جوان ایک کیپٹن سمیت نگل گیا، گویا اور سمت سے بھی آگ بھڑک اٹھی، خدا خیر ہی کرے،یہ آثار ہمارا حال احوال بتا رہے ہیں، کہ؎

ساقیا! آج ہمیں نیند نہیں آئے گی

سنا ہے تیری محفل میں ’’سب کو اپنی پڑی ہے‘‘

عام غریب آدمی کے حصے میں صبر، شکر اور شاپنگ مالز سےگاڑیاں بھر کے لےجانے والوں کا تماشا دیکھنے کے سوا اس لا الٰہ کی بنیاد پر قائم پاکستان میں اور کچھ بھی نہیں آنے دیا گیا، مافیاز کون ہیں، وہی جو یہ لفظ اکثر دہراتے ہیں، جب قاتل تعزیت کرنے لگے تو کس کو قاتل کہا جائے، کچہریوں کے احاطے میں جائیں آپ کو ایجنٹ ہتھیلی پر سرسوں جما کر دکھا دیں گے بشرطیکہ آپ ان کی مٹھی گرم کر دیں، اس گرم ملک میں ظلم و محرومی کے بازار گرم ہیں، اور اسی ملک میں کچھ افراد یا طبقات کل بھی لوٹ مار کر رہے تھے آج بھی، چہرے بدل جاتے ہیں مگر موذی کی فطرت نہیں بدلتی، پی ڈی ایم کی گیارہ جماعتوں کا گوجرانوالہ میں جلسہ بھی ہو گیا پنڈال بھی بھر گیا شاید اس پاور شو کی کامیابی کا سہرا حکومتی وزراء اور مہنگائی کے ستائے عوام کے سر ہے۔ حکومتی دعوئوں کے برعکس جلسہ گاہ کو غریب عوام نے بھر دیا، آگے چل کر کیا ہو گا تو سیدھا سا جواب ہے کہ وہی ہو گا جو ماضی میں ہوتا رہا ہے، اگر حکومت باقی ماندہ تین برسوں میں غریب عوام کے لئے کچھ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، بہرحال اب حکومت ہو یا اپوزیشن امید پر ہی قائم ہے، موجودہ حکومت نوزائیدہ ہے اسے اپنے پیش روئوں سے کافی کچھ ورثے میں ملا ہے تاہم دو سال گزرنے کے بعد آئندہ تین سال شاید تگ و دو کے پروپیگنڈے میں گزر جائیں اس وقت عوام اگرچہ میدان میں موجود ہیں مگر ان کی حیثیت اس فٹ بال جیسی ہے جسے دونوں ٹیمیں اپنی کامیابی کے لئے کک پر کک لگا رہی ہیں۔

٭٭٭٭

کس کا اعتبار کرے کوئی

ہر کسی کے پاس اپنے دفاع میں دلائل کی کمی نہیں، کس کے الزام کا اعتبار کرے کوئی؟ عمران خان کو اتارنے کے بعد کیا یہاں دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی، ہر دور میں یہی غریب لوگ دھکے کھاتے رہے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے، سچ تو یہ ہے کہ غریب لوگ یہ جانتے ہوئے جلسوں میں شرکت کرتے ہیں، کہ شاید ان کو مہنگائی سے نجات اپوزیشن کی نجات کے صدقے میں مل جائے، کیا اس ملک میں سیاسی تبلیغ 72برس سے نہیں ہو رہی لیکن اس کے باوجود عام آدمی ہر نئے سورج کے ساتھ مزید تاریکی میں کیوں ڈوبتا جا رہا ہے۔ اسٹیجوں پر اس قدر غریب نوازی کی آوازیں بلند ہوتی ہیں کہ فطرت کے کان پھٹ گئے، مگر کوئی سیاستدان غریب نہیں البتہ ان کی طرف دیکھنے والے ان کے ڈبوں میں ووٹ کی پرچی ڈالنے والے بوسیدہ کاغذ کے ٹکڑے کی مانند افلاس کی جھیل میں غرق ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ غریب بزرگ پنشنرز کی پنشن اتنی بھی نہیں کہ وہ اپنے لئے دوائی خرید سکیں ۔یہی تبدیلی لانا تھی تو وزارت عظمیٰ کا خواب کیوں دیکھا اور پورا کیا، ان خوابوں کا کیا بنے گا جو کروڑوں عوام دیکھتے ہیں مگر تعبیر نہیں دیکھ پاتے، چور مچائے شور کا محاورہ عملاً رات دن رائج ہے، ایسی فضا ہے کہ الزام دینے کے لئے کوئی بچا نہیں، سلیکٹڈ اور الیکٹڈ کے نعرے بلند ہو رہے مگر الیکٹرز وہیں ہیں جہاں تھے، کیا ہم نے اپنے لئے یہ حالات سلیکٹ کئے تھے؟ عوام کے ساتھ وہ لوگ کھلواڑ کر رہے ہیں جن کو فکر ِمعاش نہیں، مگر اس کے باوجود ان کی غریب سے ہمدردی کا یہ عالم ہے کہ ان کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں جس کے خالی پیٹ پھیپھڑوں کو ہوا نہیں دے سکتے یہ خیال بھی کسی کے دل میں آتا ہو گا کہ بھلا ہو مہنگائی کا کہ اس نے جلسے کو موضوع عطا کیا اور پنڈال بھی بھر دیا اور وہ بھی سوچتے ہوں گے اور لرز رہے ہوں گے کہ انہوں نے بندئہ مفلس کو کسی قبر کا اُگلا ہوا مردہ بنا دیا ہے۔

٭٭٭٭

تجربہ گاہ اور کمین گاہ

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان، دشمن کے خلاف کمین گاہ بنایا تھا طالع آزمائوں اور اقتدار کے بھوکوں کے لئے تجربہ گاہ نہیں بنایا تھا، آج کے حکمران سابقہ تسلسل کی کڑی اور ہماری تمہید کا حصہ ہیں آخر دشمنان پاکستان کے خلاف یہ کمین گاہ کب تک تجربہ گاہ بنی رہے گی، معیشت نے عیاشی و کرپشن کی صورت اختیار کر لی ہے، اب تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کنارے کے قریب ڈوبنے والی کشتی کو کون ساحل آشنا کرے گا، ملک لمحہ بہ لمحہ تنزل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ حرماں نصیبی ہمیں کیسے مستقبل سے دوچار کرے گی اس کا تصور ہولناک ہے، مائنڈ سیٹ ہی داغدار ہو جائے تو اچھے دنوں کی امید کہاں سے لائیں، یہ درست کہ نئی نویلی حکومت کو گہنے نہیں ملے ،میک اپ کٹ نصیب نہیں ہوئی لیکن سگھڑ ہوتی تو پیا من بھاتی، وطن عزیز میں صورتحال ایسی ہے کہ؎

شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

بیچارے عوام نے جس کو بھی اقتدار دیا اس نے اس کا کاروبار کیا، کاروبار نہیں دیا، ہر سیاسی پارٹی والے عوام کے اس وقت سگے ہو جاتے ہیں جب وہ کسی مقام سے گر پڑتے ہیں، اور جو کرسی پر ہوتے ہیں وہ عوام کو کرسی تو کجا ان کے سلام کا جواب نہیں دیتے، کیا یہ زمین آسمان کبھی پھٹیں گے، کیا کوئی رہنما بھی کبھی نمودار ہو گا، سیاست میں کساد کا بازار گرم ہے، اور عوام بھی اگرچہ مظلوم ہیں مگر ظلم نے ان کو بیدار نہیں کیا۔ ہم آج کے حکمرانوں سے ایک درخواست کریں گے کہ جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھائیں، یہ اکثر کہا جاتا ہے ہم خود مانیٹر کریں گے مگر وہ تو پرائمری اسکول کی کسی کلاس کے مانیٹر بھی ثابت نہیں ہو سکے چہ جائیکہ رموز حکمرانی کا ادراک رکھتے ہوئے کم از کم مہنگائی کا تو تدارک کرتے، ان کے ترجمانوں کی زبانیں البتہ قینچی کی مانند چلتی ہیں۔

٭٭٭٭

زمینِ چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا

....Oروز ویلٹ، بھوتوں کا کمرہ سے نکل کر پورے ہوٹل پر قبضے کا تاثر۔

یہ خبر کہیں ہمارے ملک کا موجودہ نقشہ تو پیش نہیں کر رہی۔

....Oشیخ رشید:جلسے کی اجازت مل گئی اب شور شرابہ نہیں ہونا چاہئے۔

جلسے میں شور شرابہ نہ ہو تو اسے جلسہ کون مانے گا۔

....Oنرخوں کا یہ عالم ہے کہ برائلر کے نرخ ہر روز بڑھتے ہیں۔ گھٹتے نہیں،

ٹائیگر فورس کو بلائو ٹائیگرز کہاں ہیں۔

....Oکلبھوشن اگر پاکستانی ہوتا اور بھارت کی گرفت میں ہوتا تو مودی سرکار اس کے ساتھ کیا سلوک کرتی ؟

اس بات پر حکومت کبھی وقت ملے تو غور کرے۔