آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اپوزیشن اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے گوجرانوالہ اور کراچی میں ہونے والے دو بڑے پاور شوز اور اُن کا اثر زائل کرنے کے لئے وزیراعظم سمیت حکومتی وزرا، معاونینِ خصوصی، مشیروں اور اتحادیوں کے کاٹ دار جوابی زبانی حملوں نے ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو جو پہلے ہی اعتدال کی حدیں عبور کر رہا تھا، کئی گنا زیادہ بڑھا دیا ہے۔ حکومتی رہنمائوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں جلسے بری طرح ناکام ہوئے جبکہ اپوزیشن کے نزدیک جلسوں نے حکمرانوں کی نیندیں اُڑا دی ہیں۔ اُن کا بوریا بستر گول ہونے والا ہے اور نئے عام انتخابات اب چند مہینوں کی بات ہیں۔ دونوں فریق ان جلسوں اور ان کی اہمیت کو اپنے اپنے حق میں گھٹا یا بڑھا کر پیش کر سکتے ہیں لیکن کیمروں کی آنکھ سے کچھ اوجھل نہیں۔ نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ ساری دنیا حقیقی صورتحال دیکھ رہی ہے۔ پی ڈی ایم 2018کے انتخابات میں اداروں کی مبینہ مداخلت کو بنیاد بنا کر حکومت کے خلاف تحریک چلار ہی ہے اور حکومت کی ناقص کارکردگی، مہنگائی، بےروزگاری وغیرہ جیسے عوامی مسائل اچھال کر رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنا چاہتی ہے۔ گوجرانوالہ کی طرح کراچی کے جلسے میں بھی اپوزیشن رہنمائوں مولانا فضل الرحمٰن، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، اختر مینگل، محمود اچکزئی، علامہ ساجد میر، مولانا انس نورانی،

ڈاکٹر مالک اور دوسروں نے موجودہ حالات کی ذمہ داری عمران خان کو لانے والوں پر ڈالی اور اداروں کو تلقین کی کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہیں۔ حکومتی زعما اداروں کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن پر بھارت کی زبان بولنے، اپنی کرپشن چھپانے کے لئے تحریک چلانے اور ملک سے غداری کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے جو اپوزیشن اتحاد میں شامل نہیں حکومت کے خلاف یکم نومبر سے اپنی الگ تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ مہنگائی، بے روزگاری اور حکومت کی ناقص کارکردگی کو تحریک کی بنیاد بنائے گی۔ حکومت اور اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں میں ایک دوسرے کی تضحیک و توہین اور اشتعال انگیزی کا تمام مواد موجود ہوتا ہے اور لگتا ہے کہ معاملات اب پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اب ایک بدلا ہوا عمران خان دیکھیں گے جس کا مطلب یہی لیا جا سکتا ہےکہ وہ پی ڈی ایم کی تحریک کو پوری قوت سے کچل دیں گے۔ اگر وہ ایسا قدم اٹھاتے ہیں تو انہیں اس بات کا بھی اندازہ ہو گا کہ فریق مخالف کا ردعمل کیا ہو گا۔ خدانخواستہ اگر حالات اسی ڈگر پر چل پڑے تو ملک اور قوم کو کتنا فائدہ اور کتنا نقصان پہنچے گا، حکومت کو اس کی بھی فکر ہونی چاہئے۔ پاکستان اس وقت بہت سے مسائل اور مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ مہنگائی اور بےروزگاری کے علاوہ داخلی امن و امان کی صورت حال مثالی نہیں ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے، جموں و کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بھارت کی جارحانہ سرگرمیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں، مقبوضہ کشمیر کو وہ عملی طور پر ہڑپ کر چکا ہے، جسے اس کے پنجوں سے نکالنے کے لئے بے حس عالمی برادری کو متحرک کرنا پاکستان کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ احتساب کا یک طرفہ عمل انصاف پسند حلقوں کو مضطرب کئے ہوئے ہے۔ کورونا وائرس کے کیسز میں پھر اضافہ ہونے لگا ہے بےمحابا مہنگائی میں پسنے والے عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو رہا ہے۔ حکومت بلاشبہ اِن مسائل پر قابو پانے کے لئے کوششیں کر رہی ہے مگر وہ تنہا اتنے بحرانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لوگ اپوزیشن اور حکومت دونوں کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور حقیقت یہی ہے کہ دونوں ٹھیک نہیں جا رہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو چاہئے کہ کشیدگی اتنی نہ بڑھائیں کہ نتیجے میں دونوں کو پچھتانا پڑے۔ دونوں کو محاذ آرائی کے بجائے افہام وتفہیم کی طرف جانا ہو گا۔

تازہ ترین