آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نومولود اتحادی اپوزیشن، پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ جلسے نے پہلے سے انتشار زدہ ملکی سیاست میں تشویشناک حد تک ہلچل پیدا کر دی ہے۔ فکر و تشویش کا جو ماحول بنا ہے، جلسے کا انعقاد اُس کی وجہ بنا، نہ اُس میں ہونے والی گرما گرم تقاریر، جلسہ اپوزیشن کے حسبِ خواہش حکومتی اجازت سے اُس گوجرانوالہ میں مکمل پُرامن ہو گیا جس کی مرکزی شاہراہ پر 2014ءکے دھرنے کے لئے لاہور سے اسلام آباد جانے والے پی ٹی آئی کے قافلے پر زبردست پتھرائو سے کئی کارکن زخمی ہو گئے تھے۔ پھر جلسے میں پی ڈی ایم میں شامل گیارہ جماعتوں کے رہنمائوں نے اپنی دھواں دھار تقاریر میں جو کتھارسس کرنا تھا، وہ اپنے اپنے وقت کے مطابق خوب کیا۔ قومی سیاسی ماحول میں جو ارتعاش پیدا کیا گیا، اُس کی فقط وجہ وہ ’’براڈ کاسٹ پالیٹکس‘‘ ہے جس کو ن لیگ نے جلسے کے انعقاد سے پہلے ہی سات سمندر پار کی محفوظ پناہ گاہ میں بطور ٹرائل اختیار کیا۔ اگرچہ ’’آئینِ نو‘‘ میں اِس ’’شوقِ حریت پسندی‘‘ کو جو مہنگائی کے مارے عوام کو ’’تحریک‘‘ کی کھاد بنا کر واپس چراگاہوں کی طرف لوٹنے اور کمپنیوں پر گھڑے غیرآئینی منافع بخش اقتدار کی بحالی کا تجزیہ کرکے واضح کیا گیا کہ اُس سے کوئی انقلاب پرپا نہیں کیا جا سکے گا کیونکہ لندن سے ہونے والی جارحانہ ابلاغی گولہ باری کے پیچھے ’’ذریعہ ابلاغ‘‘ کوئی امام خمینی نہیں جنہوں نے اپنے بغیر کسی سیاسی منظر کے اپنی Source Credibility (ذریعہ ابلاغ کا اعتماد) کے زور پر سینکڑوں سالہ قدیم سخت گیر شہنشاہیت کو بدتر امریکی اثر سمیت خلیج فارس میں غرق کر دیا تھا۔ ن لیگ کے سیاسی منصوبہ ساز، ہمارے سیاسی تجزیہ نگار غور تو فرمائیں کہ کہاں گوجرانوالہ کے جلسے کی آڑ میں ن لیگ کے خالق اور اُسے کیا سے کیا بنانے والے محافظین ملت پر اوپن کمیونیکشن فائرنگ برائے تحفظ احتساب و بحالیٔ اقتدار اور کہاں امام خمینی کا ہوا کے ہی دوش پر سوار ہو کر شاہی استبداد میں جکڑے ایران کی زنجیریں توڑ دینے والا تاریخ ساز انقلابی پیغام۔ ن لیگ اپنے تمام تر سیاسی تجربے اور سیاسی گھاگ پن کے باوجود جس راہ پر چل پڑی ہے اور اتحادی اپوزیشن پاکستانی سیاسی اتحادوں کی تحاریک کے عظیم عوامی و قومی اہداف کے برعکس، فقط مشترکہ سیاسی اور جماعتی اہداف کے حصول کی تحریک کے سہارے، جدید ٹیکنالوجی کا جو ملک مخالف استعمال کر رہی ہے، ماضی قریب میں ہی ایسی ابلاغی مہم جوئی کے ’’محفوظ لندن بیس‘‘ پر ہی نکلے، واضح اور عبرتناک نتیجے کے باوجود ن لیگ جو خطرناک سیاسی دھماچوکڑی مچا رہی ہے، وہ اُسے اتنی ہی مہنگی نہ پڑ جائے جتنی آسانی سے گھر بیٹھوں کے سر پر ہما بٹھائے گئے۔یہ تو تھا گوجرانوالہ جلسے میں ’’براڈ کاسٹ پالیٹکس‘‘ کا تڑکا۔ اپنے تئیں نون لیگ، اِس کے نئے نظریاتی ساتھی خصوصاً مولانا فضل الرحمٰن، جلسے سے زیادہ اُس کے تڑکے پر بغلیں بجا رہے ہوں گے۔ پی ڈی ایم میں شامل ماضی کے اقتدار میں آئی کسی بھی جماعت کا ریکارڈ اور جمہوریت سول سپرمیسی اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے سوچ اور اپروچ اتنی واضح، بےنقاب اور قابلِ مذمت ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسوں یا جلوسیوں کو کسی عوامی تحریک میں بدلنا ممکن نہ ہوگا، باوجود اِس کے کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دوسالہ اقتدار کے ’’حسنِ کارکردگی‘‘ سے اِس کا مکمل سامان پیدا کیا ہوا ہے۔ ملک بھر کے پریشان حال عوام کا مخمصہ تو اب پنجابی محاورے ’’منجھی کیتھے ڈاہواں‘‘ کے مصداق یہ ہے کہ آزمائوں کو بھی دوبارہ سہ بارہ آزمانے اور تبدیلی سرکار کو بھی لانے کے بعد اب جائیں تو کدھر جائیں؟ بلاشبہ عوام کی بھاری اکثریت اتنی ہی سادہ اور بھولی ہے جتنی مسلط اسٹیٹس کو مکارطاقت ، لیکن پھر بھی اتنی بھی بھولی نہیں کہ جلسے جلوسوں پر ہی جیسی تیسی چلتی ملک کی کئی بڑی ضرورتوں کے حوالے سے پہلے سے کہیں بہترحکومت کو اکھاڑنے کی مہم جوئی میں اقتدار میں عوام کا استحصال کرنے والی موجودہ اپوزیشن کیساتھ ہوئے جیسے حکومت مخالفین کو بھی دھرنا۔ 14میں یہ منظور نہ تھا اور لندن سے ہونے والی گولہ باری تو کسی پاکستانی کو ذہناً، مزاجاً، تاریخی پس منظر اور پاکستان کے گرد و نواح کے حساس ترین حالات میں کسی طور منظور نہیں۔ گوجرانوالہ جلسے میں ن لیگ اور دوسری جماعتوں کے بینی فشری کارکنوں اور ن لیگ میں بچے کھچے نظریاتی لیگیوں کی لندنی گولہ باری پر ردِعمل نے واضح کر دیا ہے کہ فقط اپنے اپنے سیاسی مفادات کے اشتراک پر جن سیاسی سرگرمیوں پر ماضی کے اپنے ہی قبول کئے گئے انتخابات میں بنی حکومت کو گرانے کی جو تگ ودو کی جا رہی ہے، یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔ ہاں! اگر یہ اپوزیشن صرف اور صرف مہنگائی کے ایجنڈے یا احتساب کا دائرہ بڑھانے سے مکمل غیرجانبدار کرنے اور نیب کی کپیسٹی اور اعتماد قائم کرنے کے لئے کوئی ملک گیر سیاسی سرگرمی کرتی تو عوام کا بڑا حصہ اُس کا کھل کر تائیدی بنتا۔ لندنی گولہ باری سے تو خود ن لیگ میں دراڑ پڑی۔ کون کافر جناب جلیل شرقپوری کو اُن کے خاندانی نظریاتی اور تاریخی پس منظر کے حوالے سے ’’لوٹا ہونے‘‘ کا طعنہ دے سکتا ہے اور اُن کے دوسرے چار ’’گولہ باری‘‘ سے فکرمند ساتھیوں کو خاندانی جمہوریت کے پیکروں کے پاسنگ کیسے تولا جا سکتا ہے؟

اور یہ جو بعض تجزیہ نگار، جلسے میں عوام کی تعداد کو یہ کہہ کر نظرانداز کرتے ہیں کہ اِس کی کوئی اہمیت نہیں، ’’سیاسی تحاریک اور عوامی رویوں‘‘ کے موضوع پر تجزیے کی بنیاد ہی کے خلاف ہے۔ جلسہ جلوس ہوتا ہی ’’پاور شو‘‘ ہے جو شریک عوام (حقیقی) کی تعداد ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ طاقت کتنی ہے۔ گوجرانوالہ ن لیگ کا گڑھ ہے، زیر بحث جلسہ فقط گوجرانوالہ کا نہیں بلکہ اُس کے گرد ن لیگ کے تائیدی گنجان آباد بڑے شہروں، لاہور، سیالکوٹ، گجرات، وزیرآباد، شیخوپورہ، فیصل آباد، قصور، منڈی بہائوالدین کا بھی جلسہ تھا۔ اِن شہروں کا گوجرانوالہ سے فاصلہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ نہیں بعض کا نصف گھنٹے کا، جلسے کو بھرنے کے لئے کئی ہفتوں سے منظم کوششیں ہو رہی تھیں۔ اِس کا تقاضہ تو یہ تھا کہ پورا شہر جلسے کا منظر پیش کرتا لیکن ایسا نہیں تھا۔ مان لیا کہ اسٹیڈیم بھرا تھا تو کیا اِس میں نصف تعداد بھی اِن شہروں کی نہیں تھی۔ محتاط اندازے سے اور راستے کے مناظر کے مطابق اِس سے بھی زیادہ فیصد میں تھی تو پھر گوجرانوالہ کے ن لیگی شیر کیا کچھاروں میں کھاپی رہے تھے؟ ابھی تو چڑوں کا موسم بھی نہیں آیا۔

تازہ ترین