آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارتی عزائم نے خطے کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے باز نہیں آرہا۔ جبکہ پاکستان ہمیشہ سے امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ خطے میں امن ہو اور خوشحالی کا دور دورہ ہو۔ لیکن بھارت خطے کے امن کو تباہ کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کی خواہش کا اظہار تو کیا ہے لیکن بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ اس لئے پاکستان نے بات چیت سے انکار تو نہیں کیا لیکن بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے چند شرائط پیش کی ہیں۔ اور وہ شرائط یہ ہیں کہ بھارت نے 5اگست کو مقبوضہ کشمیر میں جو یکطرفہ اقدام کیا ہے وہ واپس لے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فوری طور پر ختم کرے اور تیسری شرط یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنمائوں کو رہا کرے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل شروع کرے جن میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اب تو بعض بھارت نواز لوگ بھی یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ بھارت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور وہاں کے مظلوم عوام کا محاصرہ ختم کرے اور پھر کشمیریوں کی رائے کو تسلیم کرے۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک بھارتی چینل کو انٹرویو میں انہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی چینل دی وائر کے کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ دعویٰ بالکل لغو اور جھوٹ ہے کہ کشمیریوں نے اگست 2019کے بھارتی اقدام کو قبول کر لیا ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر اور ہر گلی میں بھارتی فوجی اور پولیس موجود ہیں۔ آج بھارت کشمیری گلیوں سے اپنے فوجیوں اور پولیس کو ہٹا دے اور دفعہ 144ختم کر دے تو دیکھے کہ کس طرح لاکھوں کشمیریوں کا سیلاب باہر آتا ہے۔ بھارتی حکومت اگر سچی ہے تو کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت کا موقع کیوں نہیں دیتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ نئے ڈومیسائل قانون کےنفاذ کا مقصد واضح ہے کہ یہاں ہندوئوںکی تعداد میں اضافہ کر کے ہندو اکثریت بنانے اور اکثریت میں ہونے کے باوجود مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے۔ مودی سرکار کے اس اقدام سے کشمیریوں کے غم و غصہ اور نریندر مودی اور بھارتی وزیر داخلہ سے نفرت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس انٹرویو کی تفصیل کو اگر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اب فاروق عبداللہ بھی نریندر مودی کو ظالم، غاصب، مذہبی انتہا پسند، بے اعتبار اور دھوکہ باز سمجھتے ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم اور بوکر ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن ارون دھتی رائے کے مطابق یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہا ہے اور تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت اس بات کو تسلیم بھی کر چکا ہے۔ بھارتی مضمون نگار سدھیندرا کلکرنی نے تو حقائق کو کافی واضح کر دیا ہے۔ ان کا یہ مضمون بھارتی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کلکرنی نے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر گلگت بلتستان کے بارے میں کلکرنی کا بیان ہے کہ بھارت کشمیر اور گلگت بلتستان کا خام خیال دل سے نکال دے۔ کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام نے تو یکم نومبر 1947کو گلگت پر پاکستان کا پرچم لہرایا اور پاکستان میں شامل ہونے کا برملا اعلان کیا تھا۔ ان کے بیان کے مطابق یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 1947میں تقسیم ہندوستان کے وقت جموں و کشمیر ایک مصنوعی ریاست تھی یہ بات ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ کے بیٹے کرن سنگھ نے اس وقت کے جموں و کشمیر کے گورنر نہرو سے دوران گفتگو خود کی تھی کہ جموں و کشمیر ریاست مکمل طور پر ایک مصنوعی تخلیق ہے۔ اس کے پانچ الگ خطے اور زبانیں ہیں۔ ان میں جموں، کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ نے ان علاقوں پرغاصبانی قبضہ کر کے اپنے زیر تسلط کیاتھا۔ ان علاقوں پر تقسیم کے وقت تک کرن سنگھ کا باپ ہری سنگھ حکمرانی کر رہا تھا۔ جس کو کبھی بھی ان علاقوں کے عوام نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس وقت بھی کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ لداخ میں لاماز، بدھ مت اور مسلمان آباد تھے۔ جبکہ گلگت بلتستان میں بھی مسلمان آباد تھے۔ جموں میں معمولی تعداد میں ہندو وغیرہ آباد تھے۔ آج بھی کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ لداخ سے بھارت کا کوئی سروکار ہی نہیں ہے جبکہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان سے دل سے محبت اور پاکستان کے لئے جانوں کی قربانیاں دیتے ہیں۔

نریندر مودی ہندوتوا کو فروغ دینے کے لئے پاگل ہو چکے ہیں۔ کوئی پڑوسی ملک مودی سرکار کے ساتھ مذاکرات تو کیا بیٹھنے کے لئےبھی تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور کے پی میں بھارت دہشت گردی کروا رہا ہے۔ مودی نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہاکی ہوئی ہے۔ کوئی پڑوسی مودی کی شیطانی سوچ سے محفوط نہیں ہے ۔ جبکہ بھارت کے اندر اقلیتیں مودی کی سرپرستی میں آر ایس ایس کے غنڈوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ بھارت اپنی خیر منائے جس کے بہت جلد ٹکڑے ہونے والے ہیں۔ اب کشمیر کی آزادی قریب ہے ایسے حالات میں پاکستان کے کسی حصے کو بھارت میں شامل کرنے کی بات بھارتی عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بھارتی عوام کی توجہ صحت،روزگار اور غربت کی ابتر صورتحال سے ہٹانے اور ہندوتوا کو فروغ دینے کے تمام حربے ناکام ہیں۔ بھارتی عوام پاکستان،چین اور نیپال کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں اور پائلٹوں کی پٹائی ابھی نہیں بھولے۔ معلوم نہیں دنیا بھارتی مظالم اور امن دشمنی پر کب تک خاموش رہے گی۔

تازہ ترین