آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آذربائیجان میں پاکستانی جھنڈوں کی مانگ میں اضافہ

آرمینیا اور آذربائیجان میں متنازع علاقے نگورنو کاراباخ پر جاری جنگ میں پاکستان نے آذربائیجان کی حمایت کرکے آذری قوم کا دل جیت لیا، آذربائیجان میں پاکستانی پرچم کی مانگ میں اضافہ ہوگیا۔

27 ستمبر سے جاری جھڑپوں میں دونوں طرف کے سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں، نگورنو کاراباخ میں جنگ بندی کے باوجود حملوں کا سلسلہ جاری ہے، آذربائیجان اور آرمینیا نے ایک دوسرے پر تازہ حملوں کا الزام بھی لگایا ہے۔

پاکستان اور ترکی نے آرمینیا سے جنگ کے معاملے پر آذربائیجان کی پہلے دن سے حمایت کر رکھی ہے، وزیراعظم عمران خان نے بھی آذربائیجان کے یومِ آزادی کے موقع پر آذربائیجان کے صدر اور عوام کو مبارک باد دی اور آذربائیجان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستان کی حمایت کے بعد آذربائیجان میں پاکستانی جھنڈوں کی طلب میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جس کی تصدیق پاکستان میں تعینات آذری سفیر علی علیزادہ نے کی ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا سائٹس پر آزربائیجان کی سڑکوں کی ایک ویڈیو زیر گردش ہے جس میں ایک گاڑی پر پاکستان پرچم لہرایا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ناگورنو کاراباخ تنازع میں علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا تحفظ کرنے پر وہ آذری فوج کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاکستان سلامتی کونسل کی قرارداوں کی روشنی میں ناگورنو کاراباخ کے حل کے لیے آذربائیجان کے ساتھ ہے۔

وزیرِ اعظم پاکستان کا یہ بیان آرمینیا کے وزیرِ اعظم کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ناگورنو کاراباخ کی لڑائی میں پاکستانی فورسز کے شامل ہونے کا دعویٰ کیا تھا، پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ نگورنو کاراباخ کو بین الاقوامی طور پر آزربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن سنہ 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے لوگوں کے پاس ہے۔

حالیہ برسوں میں نگورنو کاراباخ پر آرمینیا اور آدربائیجان کے درمیان ہونے والی یہ سخت ترین لڑائی ہے۔

عالمی سطح پر ’نگورنو کاراباخ‘ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا ہے جبکہ اسی قبضے کے باعث پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے والا واحد ملک ہے۔

دوسری جانب آرمینیا سے جنگ میں آذربائیجان کا پلڑا بھاری ہے اور اب تک نگورنو کاراباخ کے متعدد علاقوں سے قبضہ چھڑا لیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید