آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہمیں نادرہ یا گوری نہ سمجھا جائے، پلیز!

یادش بخیر، کسی زمانے میں فلمی اداکاراؤں سے اخباری انٹرویو میں ایک سوال ضرور پوچھا جاتا تھا کہ اگر آپ کو فلموں میں ’’بولڈ سین‘‘ کرنے کو کہا جائے تو کیا آپ تیار ہو جائیں گی؟ جواب میں اداکارہ کہتی تھی ’’اگر اسکرپٹ کی ڈیمانڈ ہوئی تو ضرور کروں گی‘‘۔ اُس زمانے کے فرسٹریٹڈ نوجوانوں کے لئے اخبار کا یہ جملہ ہی کافی ہوتا تھا۔ یہ بات مجھے اِس لئے یاد آئی کہ اسّی یا نوّے کی دہائی تک خواتین کا فلموں میں کام کرنا بےحد معیوب سمجھا جاتا تھا بلکہ سچ پوچھیں تو اُن کے لئے خاصے بیہودہ القاب استعمال کیے جاتے تھے اور وجہ اِس کی یہ تھی کہ زیادہ تر اداکارائیں لاہور اور ملتان کے اُس خاص بازار سے آتی تھیں جو رقاصاؤں کے لئے مشہور تھے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ اِس خاص پس منظر کی وجہ سے فلمی دنیا میں کام کرنے والی خواتین پر ایک مخصوص ٹھپہ لگ چکا تھا جس سے کئی دہائیوں کے بعد اب کہیں جا کر چھٹکارا ملا ہے۔ آج اچھے گھرانوں کی پڑھی لکھی خواتین بھی فلموں میں کام کر رہی ہیں اور اُن کی خواندگی کی وجہ سے ہی اِن کی عزت کی جاتی ہے مگر اِس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم اُن پرانی اداکاراؤں کی محض اِس وجہ سے تضحیک کریں کہ وہ کانونٹ یا گرامر اسکول میں نہیں پڑھ سکیں یا حالات کے جبر نے اُنہیں بازار میں لا پھینکا، لہٰذا اُنہیں کسی بھی اچھے برے نام سے پکارا جا سکتا ہے۔ آج کل کی اداکارائیں البتہ زیادہ ’’اسمارٹ‘‘ ہیں، اُنہیں اِس بات کا اچھی طرح ادراک ہے کہ اب نادرہ اور گوری کا زمانہ نہیں رہا، یہ نیا دور ہے، یہ پیروں میں گھنگرو باندھ کر وِلن کے سامنے رقص کرنے کا دور نہیں، اِس جدید دور میں ایکٹریس کو نہ صرف انگریزی بولنی آنی چاہئے بلکہ اسے ’’ایکٹوسٹ‘‘ بھی ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کے اداکار، مرد ہوں یا عورت، جب کسی ٹی وی پروگرام میں مدعو کیے جاتے ہیں تو اُن کے نام کے ساتھ ’’اداکار/ سماجی کارکن‘‘ لکھا جاتا ہے۔ مجھے اِن کے نئے لقب پر کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ یہ اداکارائیں اِس لقب کی لاج بھی رکھیں۔

فی زمانہ کسی ایکٹریس کا اداکاری میں کمال پیدا کرنا اتنا ضرور ی نہیں جتنا ایکٹو ازم سیکھنا ضروری ہے، اِس سے اقوامِ متحدہ کا سفیر بننے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ دراصل آج کل کی ماڈرن نیکیوں کو ’’کارپوریٹ سوشل رسپانسبیلیٹی‘‘ کہتے ہیں جبکہ اِن نیکیوں کو دریا سے باہر نکال کر دنیا کے سامنے لٹکانے والوں کو ’’گڈوِل ایمبیسڈر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اتنی حیرانی کی بات بھی نہیں کیونکہ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں فیضؔ کی انقلابی نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کو ایک مشروب بنانے والی عالمی کمپنی اپنی تشہیر کے لئے استعمال کرتی ہے اور ہم اسے سامراج کے خلاف انقلاب سمجھ کریوں سر دھنتے ہیں جیسے یہ بھی کوئی ایکٹوازم ہو۔ بات کہیں اور نہ نکل جائے، واپس آتے ہیں۔ آج کل کے اداکار جس کام کو ایکٹوازم سمجھ رہے ہیں، اُس کا ایکٹو ازم سے دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ اگر آپ کو کہا جائے کہ ہندوستان میں کوئی اداکارہ بڑھ چڑھ کر بی جے پی کی کشمیر پالیسی کی حمایت کرتی ہے یا ہندو توا کا ایجنڈا آگے بڑھاتی ہے مگر اُس کے ساتھ ہی وہ عورتوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت میں کسی ریلی میں بھی شرکت کرتی ہے تو کیا آپ اُس اداکارہ کو ایکٹوسٹ کہیں گے؟ جی نہیں۔ ہندوستان میں حقیقی ایکٹوسٹ اُس خاتون کو کہا جائے گا جو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائے گی، مظلوم مسلمانوں اور دیگر پسے ہوئے طبقات اور نچلی ذات والوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرے گی، آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کے خلاف مزاحمت کرے گی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مسلمان طلبا کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ اب اِنہی مثالوں کو اپنے ہاں منطبق کریں اور دیکھیں کہ کون سی اداکارہ ایکٹوازم کے اِس معیار پر پورا اُترتی ہے۔ ہم سب عورتوں اور بچیوں کے ریپ کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ اِس میں مخالفت والی کوئی بات نہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے ویٹی کن میں مسیحیت کا پرچار کرنا۔ اسی طرح کشمیر کے بارے میں بیان جاری کرنا بھی بہت ’’آرام دہ ایکٹو ازم‘‘ ہے، اِس پر بھی کوئی ناراض نہیں ہوتا بلکہ ناراض کیا ہونا اِس پر تو ٹی وی چینل خبریں چلاتے ہیں کہ فلاں اداکارہ نے بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیر کا مقدمہ بہت جاندار انداز میں پیش کیا جبکہ اصل ایکٹو ازم یہ ہے کہ اِن اداکاراؤں میں سے کوئی بلوچوں کے حقوق کی بات کرے، لاپتا افراد کا مقدمہ لڑے، اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کسی شخص پر جب ظلم ہو تو اُس کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی ہو، زور آور کے خلاف آواز اٹھائے، یا کم از کم کسی انقلابی نظریے کا پرچار تو کرے۔ یہ اداکارائیں ایسا کوئی ایک کام بھی نہیں کرتیں مگر چاہتی ہیں کہ انہیں ایکٹوسٹ لکھا اور پکارا جائے، گور ی یا نادرہ نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ پڑھی لکھی ہیں ا ورانگریزی میں ٹویٹ کر سکتی ہیں۔

شمالی کوریا میں جب کوئی شخص جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہے گا تو وہ ایکٹیوسٹ کہلائے گا، چین کی کمیونسٹ پارٹی کے نغموں کی دھُن پر ناچنے والی اداکارہ کو ہم ایکٹوسٹ نہیں کہہ سکتے۔ سو پاکستانی اداکاروں سے میری درخواست ہے کہ آگے آئیں اور اصل ایکٹو ازم کریں، اور اگر یہ کام مشکل ہے تو پھر براہِ مہربانی یہ ہومیو پیتھک ٹویٹس کرنا بند کریں، ریپ کے خلاف مظاہرہ کرنا قابلِ تحسین ہے مگر کبھی لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ بھی بیٹھ کر دیکھیں کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ ہو سکے تو اُن کا بیان ٹویٹ ہی کر دیں۔ اور اگر اِس میدان میں پر جلتے ہیں تو پھر یہ ایکٹو ازم کا ڈرامہ چھوڑدیں کیونکہ پاکستان میں بیٹھ کر زور آور کے بیانیے کو بڑھاوا دینے کو ایکٹوازم نہیں کہتے، اِسے وِلن کے سامنے گھنگرو باندھ کر رقص کرنا کہتے ہیں۔ 

کالم کی دُم:آج کل ہمارے ’’اچھے‘‘ گھرانوں کے جدید گلوکار پرانے پنجابی گانوں کو نہلا دھلا کر اپنی طرح معزز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اِس قسم کے گانے جب سینما میں ریلیز ہوتے تھے تو ہماری ایلیٹ ’’How vulgar‘‘ کہہ کر ناک سکیڑ لیتی تھی۔ میشا شفیع گائے تو آرٹسٹ کہلائے، نصیبو لعل گائے تو لچر پن کہلائے۔

تازہ ترین