ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ وٹامن ڈی سپلیمنٹ لینا ڈیمنشیا سے بچاؤ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق جن لوگوں میں درمیانی عمر میں اس وٹامن کی سطح زیادہ تھی، ان کے دماغ میں کئی سال بعد الزائمر (ذہنی پسماندگی کی بیماری) سے متعلق ایک اہم پروٹین ٹاؤ کی سطح مطلوبہ مقدار سے کم تھی۔
پروٹین ٹاؤ اس بیماری سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس پروٹین کا دماغ میں جمع ہونا الزائمر کی بیماری کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آئر لینڈ کی یونیورسٹی آف گالوے کے ریسرچر مارٹن ڈیوڈ مولیگن کے مطابق یہ نتائج امید افزا ہیں، کیونکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ درمیانی عمر میں وٹامن ڈی کی زیادہ سطح 16 سال بعد ٹاؤ کی کم مقدار سے جڑی ہوئی ہے۔ درمیانی عمر وہ وقت ہے جب خطرے کے عوامل میں تبدیلی زیادہ اثر ڈال سکتی ہے۔
کم وٹامن ڈی کی سطح ممکنہ طور پر ایک ایسے خطرے کا عنصر ہو سکتی ہے جس میں تبدیلی لا کر ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق میں 793 افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 39 سال تھی اور انہیں ڈیمنشیا نہیں تھا۔ تحقیق کے آغاز میں تمام شرکاء کے خون میں وٹامن ڈی کی سطح کی پیمائش کی گئی۔ تقریباً 16 سال بعد دماغ کے اسکین کیے گئے تاکہ ٹاؤ اور امائیلائیڈ بیٹا پروٹینز کی مقدار معلوم کی جا سکے، جو الزائمر بیماری کے اہم اشاریے ہیں۔
وٹامن ڈی کی زیادہ سطح کو 30 نینوگرام فی ملی لیٹر سے زیادہ قرار دیا گیا، جو کہ زیادہ تر ماہرین کے مطابق ہڈیوں اور مجموعی صحت کے لیے کافی ہوتی ہے۔ تقریباً ایک تہائی شرکاء کی سطح اس سے کم تھی اور صرف 5 فیصد افراد باقاعدگی سے سپلیمنٹس لے رہے تھے۔
اکثر سن شائن وٹامن کہلانے والا وٹامن ڈی منفرد ہے کیونکہ جسم اسے سورج کی روشنی میں خود بنا سکتا ہے۔ یہ ایک عام وٹامن کے بجائے ہارمون کی طرح کام کرتا ہے اور جسم کے کئی عوامل پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ماہرینِ صحت تجویز کرتے ہیں کہ 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد روزانہ 10 مائیکروگرام وٹامن ڈی لیں، خاص طور پر اگر وہ کمزور ہوں، زیادہ تر گھر میں رہتے ہوں یا انہیں دھوپ کم ملتی ہو۔
جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، خلیات کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ ایسے کیمیائی مادے خارج کرتے ہیں جو سوزش کو بڑھاتے ہیں جبکہ جسم کی مرمت کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ اس سے کینسر، ڈیمنشیا اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سائنس دان اب یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا اس حیاتیاتی بڑھاپے کے عمل کو سست یا حتیٰ کہ روکا جا سکتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ روزانہ ملٹی وٹامن لینا جسم کی حیاتیاتی عمر کو سست کر سکتا ہے۔ محققین کے مطابق جو بزرگ افراد دو سال تک روزانہ یہ سپلیمنٹ لیتے رہے، ان کی خلیاتی سطح پر بڑھاپے کی رفتار کم رہی، جو تقریباً چار ماہ کم حیاتیاتی عمر کے برابر تھا۔
یہ تحقیقی رپورٹ طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ ملٹی وٹامن لینے والے افراد میں ان کے مقابلے میں جو پلیسیبو لے رہے تھے، ڈی این اے پر مبنی بڑھاپے کے پانچ پیمانوں میں سست روی پائی گئی۔
یہ تحقیق میساچوسیسٹس جنرل بریگم کے سائنس دانوں نے کی، جس میں کوسموس ٹرائل کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا، یہ امریکہ کی ایک بڑی تحقیق ہے جو سپلیمنٹس کے صحت پر اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ملٹی وٹامنز بڑھاپے میں صحت مند رہنے کے لیے ایک سادہ اور قابلِ رسائی طریقہ ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کے فوائد محدود ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔