آپ آف لائن ہیں
بدھ16؍ربیع الثانی 1442ھ2؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شہباز جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل، عام قیدیوں والا سلوک ہو گا، محکمہ داخلہ

لاہور(اے پی پی،آئی این پی )احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار شہباز شریف کے مزید چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں 27 اکتوبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر لاہور کی سنٹرل جیل کوٹ لکھپت بھیج دیا۔محکمہ داخلہ نے کہا کہ ان سے عام قیدیوں والا سلوک ہوگا،احتساب عدالت نے نیب کی منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مزید 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی،منگل کے روز احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے کیس کی سماعت کی۔ شہباز شریف کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر سخت سکیورٹی حصار میں احتساب عدالت پیش کیا گیا، نیب کے تفتیشی افسر نے مزید چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف تفتیش میں بالکل بھی تعاون نہیں کررہے ۔شہباز شریف نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ نیب والوں نے سات دن کے جسمانی ریمانڈ میں صرف پندرہ منٹ ہی تفتیش کی، نیب کرپشن کے الزامات ثابت کرنے میں

ناکام رہا ہے، پنجاب کے عوام کی خدمت کرنے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثوں کے الزامات پر تفتیش جاری ہے،انہوں نے اپنی بیویوں کے نام پر جائیدادیں بنا رکھی ہیں،شہباز شریف فیملی جائیدادوں کے ذرائع بتانے میں ناکام رہی،منی لانڈرنگ ایکٹ اور فنانس ایکٹ کے مطابق جائیدادوں کے ذرائع بتانا لازم ہے، ان سے جائیدادوں کے متعلق بار بار جواب مانگا گیا، شہباز شریف سمیت دیگر کے اثاثہ جات قانون کے مطابق منجمد کیے گے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید