آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کرکٹ میں لوز بال (loose ball)پر جیسے چھکا مارا جاتا ہے، ایسی ہی صورتحال حالیہ کراچی واقعہ کی ہے۔ جس انداز میں کیپٹن صفدر کو ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر، جبکہ وہ اپنی اہلیہ مریم نواز کے ساتھ وہاں ٹھہرے ہوئے تھے، گرفتار کیا گیا اور پھر سونے پہ سہاگہ جس طرح سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس کے گھر کا گھیراؤ کر کے اُنہیں مبینہ طور پر زبردستی کراچی رینجرز کے دفتر لے جایا گیا تاکہ پولیس سے کیپٹن صفدر کے خلاف پہلے ایف آئی آر درج کروائی جائے اور پھر اُنہیں بےعزت کرکے گرفتار کیا جائے، یہ وہ تاریخی لوز بال تھی، جس پر چھکا تو بنتا تھا اور چھکا بھی ایسا کہ بال اسٹیڈیم سے باہر جا گرے۔

سندھ حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی، سندھ پولیس یہاں تک کہ اپوزیشن جماعتیں اب سب اِس ایک تاریخی لوز بال پر اپنی اپنی خواہش کے مطابق میدان کے چاروں طرف چھکے مار رہی ہیں۔ کسی کو کیچ ہونے کا بھی کوئی خوف نہیں۔ شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سندھ پولیس کے افسران (جن کی ابتدا میں تعداد کوئی ایک درجن تھی، جو کہ بڑھتے بڑھتے اب سینکڑوں میں ہوگئی ہے) نے ایک ساتھ بروز منگل اپنے آئی جی کے ساتھ رینجرز کی طرف سے ذلت آمیز رویے پر احتجاجاً چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا، اِس کے پیچھے سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی تھی۔

ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو لیکن سوال تو یہ ہے کہ جو کیپٹن صفدر کے ساتھ کیا گیا، کیا اُس کا کسی بھی طرح دفاع کیا جا سکتا ہے؟ اور جو کچھ سندھ پولیس کے آئی جی کے ساتھ ہوا، وہ کسی مہذب معاشرے میں برداشت کیا جا سکتا ہے؟ نہیں، بالکل نہیں۔ تو پھر ایسے میں اگر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی نے اپنی پولیس کا ساتھ دیا یا اُن کے پیچھے کھڑی رہی یا اُنہیں اِس احتجاج پر اُکسایا تو اِس میں کیا بُری بات ہے؟ کراچی واقعہ انتہائی شرمناک تھا جس کو برداشت نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اِس واقعہ میں اگر ایک طرف آئینی نظام، سندھ حکومت اور صوبائی پولیس کے اختیار، چادر اور چار دیواری کی حرمت کو پامال کیا گیا تو دوسری طرف اِس سے اداروں کو بھی مزید متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ آرمی چیف کی طرف سے اِس واقعہ پر انکوائری کا اعلان ہو گیا۔ جتنا جلد ہو، اِس انکوائری کو مکمل کیا جائے اور جو بھی ذمہ دار ہو، اُسے سزا دی جائے۔

یہ نہ صرف آئین کی پاسداری اور قانون کی عملداری کے لئے لازم ہے بلکہ پولیس کے مورال کو بحال کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔

اس سارے واقعہ کا ایک اور بھی پہلو ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیٹر نے آج اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے قائداعظم محمد علی جناح کے سول سروس کے متعلق ایک بیان کو اجاگر کیا جس میں قائد نے سرکاری افسران کو باور کروایا تھا کہ وہ کسی کے ذاتی ملازم نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے ملازم ہیں، اِس لئے کسی بھی دباؤ کو بالائے طاق رکھ کر عوام اور ریاست کے مفاد کیلئے کام کریں۔ پی پی پی سینیٹر نے لکھا کہ کراچی پولیس نے قائداعظم کے قول پر عمل کرکے مثال قائم کی۔ کراچی واقعہ کی حد تک تو یہ بات درست ہے لیکن کیا ہماری سول حکومتیں، ہمارے سیاستدان، ہمارے پی پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کے دوست یہ بتانا پسند کریں گے کہ کیا اُنہوں نے قائداعظم کے اِس قول پر عمل کیا؟ پولیس، سول سروس اور سول حکومتوں کے ماتحت چلنے والے سرکاری ادارے بدترین حد تک سیاست زدہ ہیں۔

سرکاری افسران بشمول پولیس کو ذاتی ملازموں اور غلاموں کی طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے، کوئی سرکاری افسر کسی وزیر، مشیر یا حکومتی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ممبر پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا جائز و ناجائز حکم نہ مانے تو اُسے فوری تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ میرٹ نام کی کوئی شے نہیں۔ سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی پولیس اور سول سروس کو اپنی غلامی میں لینے کے لئے مشہور ہے۔ سول سروس کو سیاست زدہ کرنے میں ن لیگ کا بھی ٹریک ریکارڈ بہت خراب ہے جبکہ پی ٹی آئی کی موجودہ وفاقی حکومت اور بالخصوص پنجاب حکومت نے سرکاری مشینری کو سیاست زدہ کرنے کے تمام ریکارڈ توڑ دیے جس کی تازہ مثال سی سی پی او لاہور اور پنجاب کے آئی جی کی تعیناتی ہے۔

پنجاب کے ایک نہیں، دو نہیں بلکہ چھ چھ چیف سیکریٹری اور آئی جی تبدیل ہو چکے۔ پنجاب حکومت کے محکموں کے سیکریٹری چار چھ ماہ سے زیادہ ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ کمشنر، ڈپنی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، سی پی اوز، ڈی پی اوز، آر پی اوز وغیرہ کو بھی بار بار ہر ضلع، ہر شہر میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت میں بھی حکمرانوں کی خواہش کی بنیاد پر ہی سرکاری افسران کسی جگہ ٹِک سکتے ہیں۔ میرٹ نام کی کسی شے کا ہمارے ہاں کوئی لینا دینا نہیں۔

میرٹ کا ذکر صرف پارٹی اور الیکشن منشور میں کیا جاتا ہے۔ جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہماری سیاسی جماعتیں ایک سے بڑھ کے ایک سول سروس اور پولیس کو تباہ کرنے میں لگی رہتی ہیں۔ کراچی واقعہ پر ہمارے سیاست دانوں کو قائد کا قول یاد آ گیا، اچھی بات ہے لیکن ضرورت اِس امر کی ہے کہ وہ اِس اصول کو اپنے آپ پر بھی نافذ کریں۔

ایسا نہیں ہو سکتا کہ پولیس اور سول سروس کے معاملات میں اگر سیاستدان اور سول حکومتیں مداخلت کریں تو یہ مداخلت تو حلال تصور ہوگی لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایسا کیا جائے تو وہ حرام مداخلت ہوگی۔

تازہ ترین