آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ربیع الثانی 1442ھ 5؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
تحریر: قاری محمد عباس۔۔۔ بریڈ فورڈ
18 اکتوبر 2007 کا دن پاکستان پیپلز پارٹی ‎کے جیالوں کیلئے ایک دُکھ اور درد بھرا سیاہ ترین دن تھا، کارساز کے مقام پر اس دن کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نہتے اور معصوم جیالے اور کارکنان کو ظالم درندوں نے بے دردی سے شہید کر دیا تھا ہم اپنے اُن مجاہدوں ،غازیوں اور شہیدوں جنہوں نے ڈکٹیٹر سے مُلک بچانے اور بحالئ جمہوریت کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے ان کی بے مثال قُربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ‎پاکستان پیپلز پارٹی مُلک کی وہ واحد پارٹی ہے جس کے ادنیٰ سے ادنیٰ کارکن سے لے کر اعلیٰ قیادت اور لیڈروں تک سب نے قربانیاں دی ہیں اور اپنی جانوں کے قیمتی نذرانے پیش کیے ہیں اسی لیے یہ پارٹی شہیدوں کی پارٹی ہے مُلک اور جمہوریت کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں پیپلز پارٹی نے ہی دی ہیں، جس پارٹی کے جیالوں نے پاکستان میں جمہوریت کی بقا کیلئے اپنے خون سے آبیاری کی ہو اور جس پارٹی کے کارکنوں کے خون سے چمن کو سینچا ہو بھلا اُس پارٹی کے جیالے اور کارکُن کیسے مُلک پاکستان کے خلاف بات کر سکتے ہیں اور مُلک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اپنے مُلک پاکستان اور پارٹی کی خاطر قربانیاں دینے والے شہید جیالوں کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں ، ہمیں اپنے ان شُہداء کارسازپر فخر ہے جنہوں نے اپنی جانوں کے

نذرانےپیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ہم ہی حقیقی معنوں میں شہید بے نظیر بھٹو کےدیوانے اور نظریاتی جیالے ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی شہیدوں ،غازیوں اور مجاہدوں کی ایسی جماعت ہے جس نے اپنے قائدین کے ساتھ جینے مرنے کی قسم کھائی ہے شُہدا کارساز ‎نے اپنی جانوں کو قُربان تو کر دیالیکن ‎اپنی شہادت کی لا زوال داستان چھوڑ گئے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے ان شہید جیالوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اگر اُس وقت ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی حکومت نے سانحہ کارساز کو سنجیدگی سے لیا ہوتا تو 27 دسمبر2007 کا واقعہ کبھی پیش نہ آتا، میر مرتضیٰ بھٹو کی طرح بے نظیر بھٹو کے قتل کی بھی باقاعدہ پلاننگ کی گئی تھی دیگر کیسوں کی طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو کیس کی بھی تحقیقات شروع نہیں کی گئیں، کئی سال بیت جانے کے باوجود بھی سانحہ کار ساز سے لے کر شہید بےنظیر بھٹو کی شہادت تک کا معاملہ آج بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے ۔ سانحہ کارساز کے شہداء کی قربانیوں سے پاکستان میں جمہوریت کا سورج طلوع ہوا ، سانحہ کار ساز کو 13 برس بیت گئے ہیں لیکن سانحہ میں ملوث قاتلوں کو آج بھی انصاف و قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکااور نہ ہی انصاف مل سکا ، اور نہ ہی ان کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا پیپلزپارٹی کی قیادت آج بھی سانحہ کار ساز پر اُس وقت کےڈکٹیٹر پرویز مشرف اور اس کی حکومت کو ذمہ دار گردانتی اور ٹھہراتی ہے۔

یورپ سے سے مزید