آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ربیع الثانی 1442ھ 5؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سینیٹ کمیٹی، قومی ایوارڈ دینے کے طریقہ کارکے معاملات کا جائزہ

اسلام آ باد ( نمائندہ جنگ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے قائمہ کمیٹی نے وزیراعظم کا منظور شدہ فارم طلب کر لیا تاکہ جائزہ لیا جا سکے کہ قومی ایوارڈدینے کے معاملے کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ پشاور زلمے کے مالک کو ستارہ امتیاز دینے اور ان کی خدمات کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یہ حکم گزشتہ روز چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں دیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر میاں رضاربانی کے بجلی کی پیدا وار، ترسیل اور تقسیم کی ریگولیشن کے ترمیمی بل 2020،سینیٹر مشاہد اللہ کے 16 ستمبر2020 سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے قومی ایوارڈ دینے کے طریقہ کار کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے یکم ستمبر2020 کو بھیجی کی گئی عوامی عرضداشت نمبر3260 کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔سینیٹر رضاربانی نے کہا کہ میر اسوال نیپرا بورڈ میں صوبوں کی نمائندگی کے حوالے سے تھا۔یہ تمام چیزیں ریکارڈ پر لانے کے بعد میں بل کو واپس لیتا ہوں۔ سینیٹر مشاہد اللہ کے 16 ستمبر2020 سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے قومی ایوارڈ دینے کے طریقہ کار کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ قومی ایوارڈ دینے کے حوالے سے طریقہ کار،

کون فیصلے کرتا ہے کہاں سے نامزدگی آتی ہے وغیرہ کی تفصیلات پوچھی تھیں۔قومی ایوارڈ دینے کے حوالے سے پہلے صوبوں میں کمیٹیاں ہوا کرتی تھیں جو نامزدگی بھیجتی تھیں اب شائد طریقہ کار بدل گیا ہے۔ ملک میں کرکٹ کے فروغ کیلئے لاہور قلندر کی خدمات بہت زیادہ ہیں مسلسل ہارنے کے باوجود بھی اس اکیڈمی نے بہت سے ممالک میں اپنے کھلاڑی بھیجے ہیں اور ملک میں دیگر بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے نمایاں سرمایہ کاری کی ہے ۔قائمہ کمیٹی نے وزیراعظم کا منظور شدہ فارم طلب کر لیا تاکہ جائزہ لیا جا سکے کہ قومی ایوارڈدینے کے معاملے کو مزید موثر بنایا جا سکےانہوں نے کورونا وبا کے دوران 36 ہزار خاندانوں میں راشن تقسیم کیا۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ قومی ایوارڈ مجوزہ طریقہ کار کے تحت دیئے گئے موجود حکومت نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔80 فیصد نامزدگیاں صوبوں سے آتی ہیں۔کمیٹی نے آرمینیا کی آذربائیجان کے علاقے گانجا میں میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔جس میں متعدد شہری ہلاک او رزخمی ہوئے۔اجلاس میں سینیٹرز مشاہد اللہ خان، نجمہ حمید،ڈاکٹراسد اشرف، ڈاکٹر اشوک کمار، انور لال دین، سید مظفر حسین شاہ اور میاں رضا ربانی کے علاوہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، سپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن،ایڈیشنل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن،ممبران نیپرا،جوائنٹ سیکرٹری پاور ڈویژن، جے ایس ایوارڈ، ڈپٹی ڈرافٹ مین وزارت قانون محمد اسلم، کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اہم خبریں سے مزید