آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

افغان فضائیہ کی مسجد پر بمباری، امام اور تلاوت میں مصروف11بچے شہید

کابل (اے ایف پی /جنگ نیوز )افغان صوبے نیمروز میں طالبان نے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرکے 20 اہلکاروں کو ہلاک کردیا جبکہ 6 کو یرغمال بناکر اپنے ساتھ لے گئے، طالبان جنگجوئوں نے اس حملے کے بعد فوجی اسلحے پر بھی قبضہ کرلیا۔ادھر افغان فضائیہ نے ایک مسجد پر بمباری کرکے امام مسجد اور قرآن پاک کی تلاوت کرنےوالے 11 بچوں کو شہید کردیا،تفصیلات کے مطابق صوبہ نیمروز میں مقامی حکام نے بتایا کہ اس حملے کے دوران طالبان نے ایک چوکی پر حملہ کر کے اس پر قبضہ بھی کر لیا۔ نیمروز کے ضلع خواش رود کے گورنر نے جمعہ کے روزبتایا کہ طالبان جنگجوئوں نے اس چوکی پر حملہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کیا۔ضلعی گورنر کے مطابق خواش رود میں جس چوکی پر حملہ کیا گیا، وہ دیہہ مزنگ چیک پوائنٹ کہلاتی ہے۔ اس حملے میں ملکی افغان فوج کے 20 افسر اور سپاہی مارے گئے جبکہ چھ دیگر کو حملہ آور اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔‘‘ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ شبینہ حملہ ضلعی صدر مقام سے تقریبا 70 کلو میٹر دور کیا گیا اور طالبان حملہ آور جاتے ہوئے اس

چوکی پر موجود تمام ہتھیار، گولہ بارود اور گاڑیاں بھی ساتھ لے گئے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے تصدیق کر دی ہے کہ دیہہ مزنگ چیک پوسٹ پر یہ خونریز کارروائی طالبان جنگجوؤں نے کی۔دریں اثنا افغان فضائیہ کی جانب سے ایک مسجد پر فضائی حملے کے نتیجے میں 11 بچے اور امام مسجد جاں بحق ہوگئے جبکہ اس حملے پر حکومت کا مؤقف مقامی انتظامیہ کے مؤقف سے مختلف ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی پولیس کے ترجمان خلیل اسیر نے بتایا کہ گزشتہ روز افغان فوج اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری تھی کہ اس دوران صوبہ تخار کے ایک گاؤں پر یہ فضائی حملہ کیا گیا۔خلیل اسیر کا مزید کہنا تھا کہ ʼحملہ اس وقت ہوا جب بچے قرآن پڑھنے میں مصروف تھے، انہوں نے مزید بتایا کہ حملے میں امام مسجد سمیت 11 طالبعلم جاں بحق جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دنیا بھر سے سے مزید