آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

PDM نے کس کی ایماء پر آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا؟ جام کمال

PDM نے کس کی ایماء پر آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا؟ جام کمال 


کوئٹہ(این این آئی)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کو ان کے اپنے لوگوں نے مسترد کردیا‘اپوزیشن اتحاد نے کس کی ایماء پر آزادبلوچستان کا نعرہ لگایا ‘کوئٹہ میں ہونے والا جلسہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تھا یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )کا جلسہ تھا۔

عاصم باجوہ نے نیشنل پارٹی ،پشتونخواملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کی حکومت نہیں گرائی تھی بلکہ بی این پی مینگل ،جمعیت علماء اسلام اور پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کئے اور کرداراداکیا‘ہمیں تاریخ نہیں بھولنی چاہئے ۔یہ بات انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسے پر ردعمل دیتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ امیرحیدرخان ہوتی بلوچستان میں موٹروے ،بجلی کی کمی ،پسماندگی اور گوادر کی عدم ترقی کا سوال اپنے پیچھے بیٹھے لوگوں سے پوچھیں جنہوں نے 10سالہ اقتدار گزارنے کے بعد پی ڈی ایم کی صورت میں اتحاد بنالیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے چاغی میں تین ارب سے زائد کے ترقیاتی کام شروع کئے ہیں پانچ سالہ اقتدار میں سیندک اور چاغی کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ہمارے اڑھائی سال اور آپ کے پانچ سال میں فرق معلوم ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے سارے منصوبے میاں نواز شریف نے شروع کئے بلوچستان کیلئے کیوں سی پیک میں منصوبے نہیں رکھے ماہی گیروںکا مسئلہ کیوں حل نہیں کیا جب پی ڈی ایم کے لوگ حکومت میں تھے ان میں سے کسی نے بھی مسائل حل نہیں کئے ۔

انہوں نے ڈاکٹر مالک بلوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پانچ سال حکومت میں رہے خدا کاخوف کریں آپ کس طریقے سے اسٹیج پر ان باتوں کاتذکرہ کرسکتے ہیں کم از کم ایسی بات کریں جو ہضم بھی ہو جو مسائل کی بات آپ کررہے ہیں آپ کی حکومت نے ان پر کارروائی کیوں نہیں کی جعلی ڈومیسائل ہماری حکومت نے منسوخ کئے ہیں ۔

انہوں نے سرداراختر مینگل کی تقریرپر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ کاش بی این پی مینگل اورانکے ارکان اسمبلی اڑھائی سال بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے زیادہ بات کرتے اور پی ایس ڈی پی کے لئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا کم دیتے آپ کی پارٹی نے پی ایس ڈی پی کی خاطر مسنگ پرسنز کے معاملے کو خود چھوڑدیااورفنڈکیلئے دھرنا دیا لیکن مسنگ پرسنز کیلئے دھرنا نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ عوام کو جیلوں کیلئے تیار کیا جارہا ہے عوام جیل اورجانوں کی قربانی دیں اور آپ کی پارٹی کے ممبرایکسیئن ،ٹھیکوں ،پی ایس ڈی پی اورکاموں کے پیچھے دوڑیں صدافسوس ۔

انہوں نے مریم نواز کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام سے زیادہ بلوچستان کے عوام عزیز ہونے کے دعویداروں کی عجیب محبت ہے جو پانچ سال حکمرانی ،سیلاب ،برف باری،کورونا میں انہیں بلوچستان نہیں لائی بلکہ اس اسٹیج پربیٹھی ان شخصیات میں سے کسی کو بھی بلوچستان کی یاد نہیں آئی آپ اختر مینگل ،مندوخیل ،مولانا فضل الرحمن سے پوچھیں کہ ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد میں انکے دستخط تھے یا نہیں انکو کس نے بولا اور یہ مانگنے پرلبیک تھے وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا کہ الحمد اللہ بلوچستان ترقی اورخوشحالی کی راہ پرگامزن ہے ہمیںمعلوم ہے کہ بلوچستان کیلئے کیا کرنا ہے اور ہم وہ کر رہے ہیں براہ کرم بلوچستان کا نام اپنے پرانے سیاسی ہتھکنڈوں میں استعمال نہ کریں۔

بلوچستان پر کسی نے کوئی احسان نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہرپارٹی ایک دن بنتی ہے کیا ساری جماعتیں روز اول سے ہیںکیا یہ ایک دن میں نہیں بنیں بی این پی مینگل ،مسلم لیگ(ن) ،نیشنل پارٹی کیا دوسری جماعتوں سے الگ ہوکر نہیں بنیں کچھ تکلیف تو ضرور ہوگی کیونکہ ہم ترقی کا کام کررہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید