آپ آف لائن ہیں
منگل8ربیع الثانی 1442ھ 24؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعظم عمران خان نے فرانسیسی صدر عمانویل میکرون کی جانب سے اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں توہین آمیز اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت جاری رکھنے کی اجازت دینے کے مذموم اعلان پر شدید تنقید کی ہے اور اُن کی تشہیر پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرکے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی ترجمانی کی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ فرانسیسی حکمران نے توہین آمیز خاکوں سے مجروح ہونے والے دلوں پر مرہم رکھنے کی بجائے شدت پسندوں کو اسلام پر حملہ کرنے اور اسلامو فوبیا کی حوصلہ افزائی کی ہے اور مذہبی منافرت پھیلانے، اسلام دشمنی میں مزید اضافہ کرنے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دینے کی راہ چنی ہے، اِس سے عالمی معاشرہ مزید تقسیم ہوگا جس کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی۔ وزیراعظم نے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو بھی خط لکھا جس میں سوشل میڈیا پر اسلام مخالف مواد روکنے کیلئے کہا ہے۔ وہ اِس سے قبل اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی مغربی ملکوں اور بھارت میں جاری اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اُٹھا چکے ہیں۔ اِس موقع پر اُنہوں نے کہا تھا کہ جب بھی ہمارے پیغمبرﷺکی شان میں کہیں گستاخی کی جاتی ہے تو مسلمانوں کو انتہائی درد اور تکلیف ہوتی ہے۔ اِن ملکوں میں

اسلام دشمنی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مسلمانوں کی مذہبی اقدار، شعائر، روایات اور رسومات پر رکیک حملے کئے جا رہے ہیں، کہیں نبیﷺ آخرالزماں، صحابہ کرام ؓاور دوسری محترم شخصیات کی توہین و تضحیک اور کہیں قرآن پاک کی بےحرمتی کی جاتی ہے۔ حجاب سمیت اسلامی لباس پہننے سے جبراً روکا جاتا ہے۔ مساجد میں نمازیوں پر حملے کئے جاتے ہیں۔ فرانس اور کئی دوسرے ملکوں میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے اور اِس حوالے سے مسلمانوں کو نفرت اور جبر و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بھارت میں ہندو توا کے نفاذ کیلئے مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ مسلم اکثریتی ریاست مقبوضہ کشمیر کو زبردستی ضم کرکے وہاں مسلمانوں کا نام و نشان مٹایا جا رہا ہے، پاکستان ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے نقصانات دنیا پر اُجاگر کررہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے سفارتی ایجنڈے میں یہ معاملہ خاص طور پر شامل ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کی شدید مذمت کی ہے۔ اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے احتجاجی مراسلہ اُن کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل اپوزیشن لیڈروں نے توہین آمیز خاکوں اور مواد کی اجازت دینے پر فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو اِس حوالے سے قوم کے برانگیختہ جذبات کی عکاسی ہے، علمائے کرام نے بھی آزادیٔ اظہار کی آڑ میں مسلمانوں کی دل آزاری کی ناپاک جسارت کو ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔ مغربی ملکوں کے اخبارات و جرائد میں اسلام مخالف مواد کی تشہیر ایک عرصہ سے جاری ہے پہلے گستاخانہ خاکے صرف شائع کئے جاتے تھے، اب اُنہیں اشتہارات کی صورت میں سرکاری عمارات پر بھی چسپاں کیا جا رہا ہے۔ پیرس کے چارلی ہیبڈو میگزین کے دفتر پر چار پانچ سال پہلے حملہ بھی ہو چکا ہے جس میں میگزین کے عملے سمیت 12افراد مارے گئے تھے۔ فرانس کی جانب سے تضحیک آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر پوری دنیا کے مسلمان شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ترکی کے سخت موقف پر فرانس نے وہاں سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ دنیا اس وقت کئی حوالوں سے بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے۔ عالمی امن انتہائی خطرے میں ہے، اِس صورتحال میں اسلامو فوبیا روکنے کی ضرورت ہے دنیا کو مفاہمت اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہئے۔ عالمی امن کیلئے باہمی تعاون اور ہم آہنگی بنیادی شرط ہے۔

تازہ ترین