کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ آپ کی زندگی سے پرندے نکل جائیں تو پھر زندگی کیسے گزرے گی؟ میں نے اس سوال پر اس وقت غور شروع کیا جب میں کراچی کے آغا خان اسپتال میں زیر علاج تھا اور قدرت نے کچھ پرندوں کو میرا سہارا بنا دیا تھا ۔19اپریل 2014ء کی شام کراچی ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد ایک جان لیوا حملے میں زخمی ہو کر میں آغا خان اسپتال پہنچا تھا۔ اس اسپتال میں گزرے شب وروز نے مجھے زندگی کے بارے میں کچھ ایسے تجربات سے دوچار کیا جن کا اظہار آج بھی میرے لئے بہت مشکل ہے ۔حملے کے تیسرے دن کچھ ہوش آیا تو مجھے ایئر ایمبولینس کے ذریعہ علاج کیلئے بیرون ملک لیجانے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ میں نے اپنے معالج ڈاکٹر انعام پال سے پوچھا کہ کیا میرا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ چھ گولیوں کے زخم کھا کر زندہ بچ جانا ایک معجزہ ہے۔ سب سے مشکل کام آپ کے زخمی مثانے کی پیوند کاری اور گردے کو بچانا تھا وہ ہم نے کر دیا باقی علاج بھی یہاں ہو سکتاہے۔خاندان اور قریبی دوستوں کا خیال تھا کہ پاکستان میں رہنا خطرے سے خالی نہیں لیکن آغا خان اسپتال کے ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر عملہ مجھے یقین دلا رہا تھا کہ میں پاکستان میں ہی ٹھیک ہو جائوں گا۔ اللہ تعالیٰ کے کرم و فضل اور لوگوں کی دعائوں نے ایسے حالات پیدا کئے کہ میں نے بیرون ملک جانے سے انکار کر دیا۔ مجھے اسپتال کی وہ راتیں نہیں بھولتیں جب درد سے برا حال ہوتا۔ تڑپنا بھی مشکل تھا کیونکہ کندھے سے لیکر پیٹ اور ٹانگوں تک جسم پٹیوں میں لپٹا ہوا تھا ۔نیند کے انجکشن بھی کام نہ آتے تھے ۔ایک رات درد کی شدت میں اللہ کو یاد کر رہا تھا کہ ایک کوئل کوکنے لگی۔ وہ وقفے وقفے سے کوکتی اور پھر خاموش ہو جاتی ۔میں اسکی کوک کا انتظار کرتا وہ دوبارہ کوکتی تو مجھے ایسا لگتا کہ وہ میرے ساتھ باتیں کر رہی ہے ۔فجر کی اذان کے بعد وہ خاموش ہو گئی اور دیگر پرندے اپنے گیت گانے لگے۔ اسپتال میں میرے بستر کے دائیں طرف شیشے کی کھڑکی تھی۔ کھڑکی پر سے پردہ ہٹا رہتا تھا کیونکہ رات کو اس میں سے چاند نظر آتا تھا ۔ ایک صبح کھڑکی کے شیشے پر دو کبوتر چونچیں مار کر مجھے اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے ۔وہ کافی دیر تک غڈغوں غڈغوں کرتے رہے ، کبھی مجھے اور کبھی میرے بیڈ کے ساتھ لگی مشینوں کو دیکھتے، جب دھوپ نکل آتی تو یہ کبوتر اڑ جاتے پھر شام کو واپس آتے ، پھر یہ معمول بن گیا رات کو ایک ان دیکھی کوئل کی کوک اور صبح و شام مجھے کبوتروں کا انتظار رہتا ، مجھے صحت یاب کرنے میں اللہ تعالیٰ کے کرم، لوگوں کی دعائوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی محنت کے علاوہ ان پرندوں کا بھی کچھ نہ کچھ کردار تھا۔آپ نے میرا مذاق اڑانا ہے تو ضرور اڑائیں لیکن مت بھولیں کہ کبھی انسان پرندوں کا سہارا بنتا ہے اور کبھی پرندے انسان کا سہارا بن جاتے ہیں ۔
ذرا غور کیجئے ! انسان کی زندگی پرندوں کے بغیر نامکمل ہے ۔جہاں پرندے محفوظ ہوں وہاں انسان بھی محفوظ رہتے ہیں ۔جہاں پرندے محفوظ نہ ہوں وہاں انسان بھی محفوظ نہیں رہتے ۔تھر کے لوگ موروں سے بہت محبت کرتے ہیں۔موروں کو انسان نہیں کوئی پراسرار بیماری مارتی ہے ۔جب بھی مور مرتے ہیں تو تھر میں انسان بھی مرنے لگتے ہیں جس شہر میں خونریزی اور ناانصافی بڑھ جائے اس شہر کی فضا میں چیلیں اور گدھ منڈلانے لگتے ہیں، جس شہر میں گندگی بڑھ جائے وہاں کوئوں کی بھرمار ہو جاتی ہے لیکن جس شہر میں امن وسکون نظر آئے، ہرے بھرے درختوں کی بھرمار ہو اس شہر کی فضائوں میں خوبصورت پرندوں کے نغمے سنائی دیتے ہیں۔اپنے ارد گرد نظریں دوڑائیے ، ذرا سوچئے! چیلیں اور کوے کیوں بڑھتے جا رہے ہیں ؟کوئل ، کبوتر، فاختہ، طوطے ، مینا اور رنگ برنگی چڑیاں کیوں کم ہو گئیں؟ بلبل بھی کبھی کبھی دکھائی دیتا ہے ۔ہمارے محاوروں میں ’’طوطا چشم‘فصلی بٹیرا‘الو کا پٹھا، بگلا بھگت، کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنا، امن کی فاختہ، عقابی آنکھیں، کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیااور کیا پدی کیا پدی کا شوربہ ،استعمال تو بہت ہوتے ہیں لیکن پدی اب نظر نہیں آتی۔مرغابی اور سرخاب کا ذکر آتے ہی شکاریوں کا خیال آتا ہے ۔ان شکاریوں نے بہت سے خوبصورت پرندے پاکستان سے بھگا دیئے ہیں ۔ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے ان پرندوں کے بارے میں حال ہی میں ’’برڈزآف پاکستان ‘‘ کے نام سے ایک خوبصورت کتاب شائع کی گئی ہے ۔اس کتاب میں عارف امین، غلام رسول اور فخر عالم نے ان پرندوں کی خوبصورت تصاویر کو شامل کیا ہے جو انسانی بستیوں سے دور بھاگنے لگے ہیں ۔یہ کتاب اینگرو فوڈز کے تعاون سے شائع کی گئی ہے ۔’’برڈز آف پاکستان ‘‘کے نام سے ایک کتاب رچرڈ گریمٹ، ٹام رابرٹس اور ٹم انسکپ نے کچھ سال پہلے شائع کی تھی لیکن چھوٹا سائز ہونے کے باعث اس میں پرندوں کی چھوٹی چھوٹی تصاویر شامل تھیں لیکن تین پاکستانی فوٹو گرافروں نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر جن خوبصورت پرندوں کو تلاش کیا ہے ان کی تصاویر کسی بھی غیر ملکی فوٹو گرافر کی تصاویر سے بہتر ہیں۔
اس کتاب کا آغاز چکور کی تصویر سے ہوتا ہے جو پاکستان کا قومی پرندہ ہے، چکور اور چاند کی محبت پر بہت شاعری ہو چکی ہے ۔بہت سے انسان بھی چکور کی طرح کسی نہ کسی چاند کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں لیکن انہیں یہ چاند نہیں ملتا۔ پاکستان کے علاوہ عراق کا قومی پرندہ بھی چکور ہے ۔بھارت کا قومی پرندہ مور ہے، افغانستان، امریکہ اور پاناما کا قومی پرندہ عقاب ہے ۔یونان کا قومی پرندہ الو، اسرائیل کا ھُد ھُد ، بحرین کا بلبل، جرمنی کا بگلا، بھوٹان کا پہاڑی کوا اور نیوزی لینڈ کا قومی پرندہ کیوی ہے۔ ایران کا قومی پرندہ چڑیا ہے لیکن ایران ائیر کا نشان ہما ہے۔ ہما کا نام تو بہت سنتے ہیں لیکن یہ پرندہ اب نظر نہیں آتا ۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ پرندہ طلسمی داستانوں کا ایک کردار ہے جس کا کبھی کوئی وجود نہ تھا لیکن ٹیپو سلطان کے پاس ہیرے جواہرات سے بنا ایک ہما تھا جس پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا تھا ۔یہ ہما فرید الدین عطار کی شاعری میں نظر آتا ہے لیکن دنیا سے غائب ہو چکا ہے ۔کچھ دیگر پرندے بھی دنیا سے غائب ہونے والے ہیں ۔انہیں واپس لانا بہت ضروری ہے۔
جن پرندوں کی نسل ختم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ان میں ایک تلور بھی ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے 2015ء میں تلور کے شکار پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن وفاق، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے اس پابندی کے خلاف اپیل دائر کرکے فیصلہ ختم کرا دیا۔ پاکستان کی سرزمین پر تلور کا شکار پاکستانی نہیں بلکہ غیر ملکی شکاری کرتے ہیں ۔ان شکاریوں نے پاکستان کے قانون کو آدھا تیتر آدھا بٹیر بنا دیا ہے ۔جب غیر ملکی شکاری تلور کا شکار کرنے آتے ہیں تو مقامی کاشت کاروں کو انکی فصلوں میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے ۔تلور کے ساتھ ہونے والا ظلم دیکھ کر علامہ اقبال کی نظم ’’پرندے کی فریاد‘‘ یاد آتی ہے ۔ پاکستان کے مجبور اور بے بس لوگوں کی حالت اس پرندے سے مختلف نہیں جو حالات کے پنجرے میں قید ہو کر اپنے لیڈروں کی عقابی روح بیدار ہونے کے انتظار میں ہے ۔ہمیں ایک سادہ سی بات سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ہمارا ماحول اور سماج پرندوں کے بغیر نامکمل ہے۔ یہ پرندے انسانوں اور انکی فصلوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچاتے ہیں ۔ان پرندوں کو اپنی زندگی سے دور نہ ہونے دیں اور اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ درختوں اور پودوں کو بھی اہمیت دیں ۔درخت، پودے اور پرندے ہمارے دوست بھی ہیں اور محافظ بھی، یہ پرندے محفوظ رہیں گے تو پاکستان بھی محفوظ رہے گا ان پرندوں کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ پاکستان کی کہانی ان پرندوں کے وجود سے مکمل ہوتی ہے ۔