آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

1859ء میں چارلس ڈارون نے اپنی مشہور کتاب لکھی "On the origin of species" ۔ برصغیر میں اس کتاب کا لب لباب ایک جملے میں یوں بیان کیا گیا ’’ڈارون کہتاہے کہ انسان بندر کی اولاد ہے ۔‘‘ اس کے بعد ظاہر ہے کہ مذہبی طبقہ تو ایک طرف ،عام آدمی کو بھی یہ بات سخت ناگوار گزری۔

نظریہ ارتقا کی مخالفت کرنے والوں ، جیسا کہ ترک اسکالر ہارون یحییٰ نے یہ تصور پیش کیا کہ جیسے ہی اللہ نے ’’کن ‘‘ فرمایا، ایک سیکنڈ میں ساری کائنات بنی، کرّہ ارض وجود میں آئی ، اسی ایک سیکنڈ میں کرّہ ارض پہ موجود تمام مخلوقات پیدا ہوگئیں ؛حالانکہ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی عمر 13.7ارب سال ہے۔

 نظام شمسی کی 4.6ارب سال، پیچیدہ سمندری حیات کی عمر 31کروڑ سا ل اور انسان کی عمر محض تین لاکھ سال۔ فلکیات کا علم یہ بتاتا ہے کہ کوئی ستارہ یا سورج یک دم پیدا نہیں ہوتا۔ کروڑوں برس تک اس کی ہائیڈروجن جمع ہوتی رہتی ہے ۔

جو لوگ انجن کو سمجھتے ہیں ، انہیں بخوبی علم ہے کہ موٹر سائیکل کے انجن اور ہوائی جہاز کے انجن میں کیا فرق ہے ۔ سانپ اور مگر مچھ وغیرہ ، جنہیں ریپٹائل کہا جاتاہے ، ان کادماغ موٹر سائیکل کی طرح بہت چھوٹا ہے ۔ ان کے مقابلے میں اگر آپ میملز یعنی شیر، ہاتھی، کتے اور ہرن وغیرہ کا جائزہ لیں تو ریپٹائلز کے دماغ کے مقابلے میں میملز کا دماغ گاڑی جیسا ہے ۔

 پھر اگر آپ پرائمیٹس یعنی بندر وغیرہ کو دیکھیں تو ان کے دماغ میملز سے بڑے ہیں ۔ پرائمیٹس کے دماغ میں میملز کا دماغ موجود ہے ۔مزید بر آں یہ کہ فاسلز کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ چھوٹے دماغ والے جاندار بڑے دماغ والوں سے بہت پہلے پیدا ہوئے ۔

مچھلی اور پیچیدہ سمندری حیات آج سے 53کروڑ سال پہلے پیدا ہوئی ، سب سے چھوٹا دماغ۔ ریپٹائلز (سانپ اور مگر مچھ وغیرہ )آج سے 31کروڑ سال پہلے پیداہوئے، آبی حیات سے بڑا دماغ ۔میملز (دودھ پلانے والے جاندار ، شیر ، ہاتھی وغیر ہ)آج سے بیس کروڑ سال پہلے پیدا ہوئے ، ریپٹائلز سے بڑا دماغ۔

پرائمیٹس (بندرہ وغیرہ)آج سے آٹھ کروڑ سال پہلے پیدا ہوئے ، میملز سے بڑا دماغ۔ گریٹ ایپس (گوریلا، چمپنزی، ہومو اریکٹس وغیرہ )آج سے پونے دو کروڑ سال پہلے پیدا ہونا شروع ہوئے ۔ 

ان کا دماغ پچھلے تمام جانداروں سے بڑا تھا ۔ انہی میں آج سے تین لاکھ سال پہلے ہومو سیپین یعنی ہم انسان پیدا ہوئے ۔ انسان کا دماغ سب سے بڑا تھا ۔یہ سب سے آخر میں پیدا ہوا۔ اس میں آج سے پہلے گزرے ہوئے سب جانداروں کے دماغ موجود تھے ۔

نظریہ ارتقا دراصل یہ کہتا ہے کہ اگر لاکھوں اورکروڑوں سال پہلے جا کر دیکھیں تو مختلف جانداروں کے جدّ ِ امجد مشترک ہیں ۔ 

بلی، شیراور ٹائیگر میں سائز کا فرق ضرور ہے لیکن لاکھوں سال پیچھے ان کا جدِ امجد مشترک نکلے گا۔ اگر آپ لاکھوں سالوں کی بجائے کروڑوں سال پیچھے سفر کریں تو معلوم ہوگا کہ گریٹ ایپس پرائمیٹس میں سے نکلے ۔ پرائمیٹس میملز میں سے نکلے ۔ 

میملز ریپٹائلز میں سے نکلے ۔ ریپٹائلز سمندری حیات سے نکلے ۔ پیچھے جاتے جائیں تو آپ کے پاس ایک واحد خلیہ آجاتا ہے ۔ یہ ہے وہ جاندار جو کہ سب مخلوقات کا جدّ ِ امجد ہے ۔

مختلف مخلوقات کی یہ تقسیم ہوا میں نہیں کی گئی ۔ دانتوں کی ساخت، کھوپڑی کا حجم، آنکھوں کی ساخت ،مختلف ہڈیوں کی ساخت، مختلف مسلز ، دم، پر ، ٹانگیں ، ایک ایک چیز کی تفصیل بتاتی ہے کہ کون کیا ہے ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ پھر آدمؑ کو تخلیق کرنے والی ساری حقیقت کہاں گئی ؟ جواب پیچیدہ ہے ۔آپ کو تحقیق کرنا ہوگی ۔ آسانی ہمارے استاد پروفیسر احمد رفیق اختر نے پیدا کر دی ہے ۔ 

وہ قرآن کی یہ آیت پڑھ کر سناتے ہیں : زمانے میں انسان پر ایک طویل وقت ایسا بھی گزرا ، جب وہ کوئی قابلِ ذکر شے ہی نہ تھا ۔سورۃ الدھر 1۔ علم کے میدان میں فرشتوں کو شکست دینے والے حضرت آدم ؑتو انتہائی غیر معمولی تھے ۔ آپ قرآن کو پڑھیں ، وہاں جب انسان کا ذکر ہے تو ایک انداز میں اور جہاں آدم یا آدمی کا ذکر ہے ، وہ ایک بالکل ہی مختلف انداز میں۔

ہر چیز کے ماہر ہوتے ہیں ۔انہیں دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ کیاآپ مہران کے پرزے لینڈ کروزر میں لگا کر مکینک کو دھوکہ دے سکتے ہیں ؟ اسی طرح حیات اور فاسلز کے جو ماہرین ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ یک خلوی جاندار کثیر خلوی جانداروں جیسے نہیں ہو سکتے ۔

 سمندری حیات ریپٹائلز جیسی نہیں ہو سکتیں۔ میملز پرائمیٹس جیسے نہیں ہو سکتے ۔ گریٹ ایپس عام پرائمیٹس جیسے نہیں ہو سکتے بلکہ ان سے بہت افضل۔

انسان جیسا تو کوئی بھی نہیں ہو سکتا ، جو سب سے آخر میں یعنی تین لاکھ سال پہلے پیدا ہوا۔ اسی پر شریعت نازل ہوئی ۔ اسی سے قیامت کے دن اپنے اعمال کا حساب لیا جائے گا ۔ 

مزید بر آں یہ کہ دو ٹانگوں پر صرف ہومو سیپین ہی نہیں چلتے ، نی اینڈرتھل سمیت کئی اسپیشیز دو ٹانگوں پہ چلتی رہی ہیں ۔انسان نی اینڈرتھل کا ڈی این اے مکمل تفصیل کے ساتھ ڈی کوڈ کر چکا ہے ۔

کبھی کبھی دل یہ چاہتا ہے کہ ڈارون کی قبر پہ کھڑے ہو کر میں یہ کہوں ’’ نہیں،مسٹر ڈارون ، انسان بندر کی اولاد ہرگز نہیں ۔‘‘

 ڈر اس بات سے لگتاہے کہ وہ سر نکال کے یہ نہ کہہ دے ’’ میں نے کب کہا ؟ ‘‘ڈارون نے تو مشترک جدِ امجد کی بات کی تھی ۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی تھاکہ ایک واحد خلیہ ، جو ساری حیات کا جدِ امجد تھا ۔زمین پر زندگی اربوں سال تک ارتقا پاتی رہی۔

تازہ ترین