آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ربیع الثانی 1442ھ 27؍نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کے حقیقی مقتدر حلقوں کی مکمل حمایت اور پشت پناہی کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی کو قابو کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے، جس کا اعتراف وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے ارکان خود کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مہنگائی نے ان کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ مہنگائی کے عفریت کو قابو کرنے میں کیا رکاوٹیں ہیں؟ ان سوالوں کا جواب اعداد و شمار کی بنیاد پر تجزیہ کرنے سے نہیں ملے گا۔ صرف پولیٹکل اکانومی کے بنیادی اصولوں کی تفہیم سے ان سوالوں کا جواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دراصل پاکستان میں وہ معاشی سیاسی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکا رہے، جسے بچانے کے لیے موجودہ ’’سیاسی حکومت‘‘ کی بنیادیں فراہم کی گئی تھیں۔ اس نظام کو ’’کرونی کیپٹل ازم‘‘ ( Crony Capitalism ) کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یعنی ایسا سرمایہ دارانہ نظام، جس میں تجارت، صنعت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو خود ریاست نہیں بلکہ ریاست سے زیادہ طاقتور مخصوص حلقے کنٹرول کرتے ہیں۔ اس نظام کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کے لیے عارضی طور پر فراہم کردہ بنیادیں بھی اب کمزور ہو رہی ہیں کیونکہ مہنگائی نے پی ٹی آئی کی ’’سیاسی مقبولیت‘‘ کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اب کیا ہو گا؟

تقریباًایک سال قبل، جب مہنگائی کا عفریت بے قابو ہونا شروع ہوا تھا، وزیراعظم عمران خان نےکہا تھا کہ یہ مہنگائی نہ صرف مصنوعی ہے بلکہ ان کی حکومت کے خلاف سازش ہے۔ ایک سال بعد وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی بہت بڑا مسئلہ ہے اور ان کی حکومت اسے قابو کرنے میں کامیاب نہیں رہی ہے۔ اب شاید انہیں ادراک ہو رہا ہے کہ مہنگائی ان کی حکومت کے خلاف سازش نہیں بلکہ کرونی کیپٹل ازم کا منطقی نتیجہ ہے۔ مہنگائی کے جو بنیادی اسباب ہیں، وہ اس نظام کو بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر آنکھیں بند کرکے عمل کیا اور اتنی بھی مزاحمت نہیں کی، جتنی اس سے پہلے کمزور سیاسی حکومتیں کرتی رہیں۔ یہ مہنگائی کا بنیادی سبب ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے قرضے اُتارنے کے لیے بے تحاشا ملکی اور بین الاقوامی قرضے لیے۔ سود کی شرح میں اضافہ کیا۔ اس سے بھی افراط زر اور پھر مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے بالواسطہ ٹیکسوں میں بھی اضافہ کیا، پی ٹی آئی کی حکومت روپے کی گرتی ہوئی قدر کو بھی نہ سنبھال سکی۔ سب سے اہم بات یہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت کا رٹیلز اور مافیاز کے آگے شعوری یا لاشعوری طور پر بے بس رہی۔ اس کی وجہ سے آٹے اور چینی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر اشیائے ضرورت کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔

پاکستان میں کرونی کیپٹل ازم بہت بے رحمی سے کام کرتا ہے۔ جو کام پی ٹی آئی کی حکومت سےکرائے گئے یا اس نے خود کیے، وہ باقی سیاسی حکومتوں سے بھی کرائے جاتے ہیںکیونکہ معیشت اور سیاست کو کنٹرول کرونی کیپٹل ازم سے فائدہ اُٹھانے والے ملکی حلقےکرتے ہیں اور انہیں کنٹرول عالمی حلقے اپنے مالیاتی اداروں کے ذریعہ کرتے ہیں لیکن باقی سیاسی حکومتیں اس طرح آنکھیں بند کرکے فیصلے نہیں کرتی ہیں اور وہ عوام میں اپنی مقبولیت کو بچانے کی کوشش میں عوام پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالتی ہیں۔ اگر کرونی کیپٹل ازم نے ’’مشکل اور غیر مقبول فیصلے‘‘ کی اصطلاح رائج کی اور یہ تاثر دیا کہ معیشت کو درست کرنے کے لیے مشکل اور غیر مقبول فیصلے کرنا پڑتے ہیں حالانکہ ماضی کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہےکہ مشکل اور غیر مقبول فیصلوں سے کبھی معیشت درست نہیں ہوئی ۔ پی ٹی آئی کی قیادت اس بات کو نہیں سمجھ سکی ہے۔ اسے پولیٹکل اکانومی کے بنیادی فلسفے سے اس لیے آگاہی نہیں ہوسکی کہ وہ سیاسی جدوجہد کے بنیادی دھارے کا حصہ نہیں رہی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو اب اندازہ ہوگیا ہو گا کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے، مزید قرضے لینے، بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافے سے نہ تو قرضوں کا حجم کم ہوا اور نہ ہی ترقیاتی اسکیموں اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مالیاتی گنجائش پید اہوئی۔ مزید قرضے لینے اورعوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے سے جو پیسہ جمع ہوا، وہ ’’آؤٹ آف بجٹ‘‘ اخراجات اور کرونی کیپٹلسٹ بروکرز کے بنائے گئے منصوبوں کی نذر ہوگیا۔ یہ معیشت سدھرنے والی نہیں ہے۔ سب کو مخصوص مفادات رکھنے والی قوتوں کے آگے گھٹنے ٹیکنا پڑتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت اس نظام کو سیاسی جواز اور طاقت فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن اب دو سال پہلے والی صورت حال نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت خود پریشان ہےکہ وہ اپنی سیاسی مقبولیت کو کیسے بچائے۔ سسٹم اپنے مفادات اور اپنی بقا کے بارے میں اپنے انداز میں سوچ رہا ہو گا۔ اسے پی ٹی آئی کی قیادت کے معاملات سے سروکار صرف اپنے مفادات کی حد تک ہے۔ لندن اور امریکا میں رہائش پذیر جو بروکرز سسٹم اور پی ٹی آئی کے مابین رابطے کا ذریعہ ہیں، انہیں بھی اپنے مفادات عزیز ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت اس صورت حال میں سسٹم کے تحفظ کے لیے سیاسی ڈھال کب تک بن سکتی ہے؟ اس سوال پر خود سسٹم سوچ رہا ہوگا۔ معروضی حقیقت یہ ہے کہ عوام کا مہنگائی، بے روزگاری کی وجہ سے جینا محال ہو گیا ہے۔ کاش پی ٹی آئی کی حکومت اس سیاسی معاشی ڈھانچے میں اتنی سی مزاحمت کرتی، جتنی ان سیاسی حکومتوں نے کی، جنہیں پی ٹی آئی والے کرپٹ کہتے ہیں۔ اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ سیاسی قوتیں تصادم کی بجائے مل کر جمہوری اور سیاسی نظام کو بچائیں اور اسے اتنا مضبوط کریں کہ وہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے والے فیصلوں کے خلاف مزاحمت کر سکے۔

تازہ ترین