آپ آف لائن ہیں
منگل24؍رجب المرجب 1442ھ 9؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پی ڈی ایم بیانئے پر اتفاق ہے، جرنیلوں پر الزامات سے دھچکا لگا، نواز شریف 3بار وزیراعظم رہے، یقیناً ثبوت دیں گے، بلاول بھٹو

نواز شریف 3بار وزیراعظم رہے، یقیناً ثبوت دیں گے، بلاول بھٹو


اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ جلسے میں فوجی قیادت کا نام لینا نواز شریف کا ذاتی فیصلہ تھا، اے پی سی میں اتفاق ہوا تھا کہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا کہا جائیگا، عمران خان حکومت لانے کی ذمہ داری کسی شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

جرنیلوں پر الزامات سے دھچکا لگا، نوازشریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں ،یقین ٹھوس ثبوت کے بغیر نام نہیں لئے ہونگے، انتظار ہے وہ کب ثبوت پیش کرینگے، عمران خان کی حکومت لانے کی ذمہ داری کسی شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی،اس معاملہ پر نوازشریف سے میں خود تفصیلی بات کرونگا، حکومتوں میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی تحقیق کیلئے کمیشن بنایا جائے۔

عمران خان اداروں کو اپنی ٹائیگر فورس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جسکی وجہ سے ادارے بدنام ہوتے ہیں،پی ڈی ایم کا ایک اتحاد ہے ،ہمارا ایجنڈا ہماری آل پارٹیز کانفرنس میں طے پانے والی قرارداد میں واضح ہے،پی ڈی ایم کے بیانئے پر اتفاق ہے، میں اور میری جماعت اے پی سی کے دوران تشکیل پانے والے ایجنڈے پر مکمل طور پر قائم ہے۔

پی ڈیم ایم کے پاس ابھی استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے، دھرنے بھی دیئے جا سکتے ہیں، کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈمحمد صفدر کی گرفتاری معاملے پر انکوائری چل رہی ہے ، یقین ہے قصوروار افراد کا تعین کر کے سزا دی جائیگی۔ان خیالات کا اظہار بلاول بھٹو زرداری نے برطانوی نشریاتی ادارے کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔ 

بلاول بھٹو زر داری سے پوچھاگیا کہ پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس اور دیگر اجلاسوں میں کیا مسلم لیگ (ن) نے پاکستانی فوج کی قیادت کے سربراہ کا نام لیا تھا، یا اس بارے میں کوئی اشارہ دیا تھا؟اس پر بلاول بھٹو زرداری نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے ایجنڈے کی تیاری کے وقت نواز لیگ نے فوجی قیادت کا نام نہیں لیا تھا۔ 

انھوں نے کہا کہ وہاں (اے پی سی میں) یہ بحث ضرور ہوئی تھی کہ الزام صرف ایک ادارے پر لگانا چاہیے یا پوری اسٹیبلشمنٹ پر لگانا چاہیے اور اس پر اتفاق ہوا تھا کہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کہا جائیگا۔ 

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب انھوں نے گوجرانوالہ کے جلسے میں میاں نواز شریف کی تقریر میں براہ راست نام سنے تو انھیں ʼدھچکا لگا۔مگر میاں نواز شریف کی اپنی جماعت ہے اور میں یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ وہ کیسے بات کرتے ہیں اور نہ ہی وہ کنٹرول کر سکتے ہیں کہ میں کیسے بات کرتا ہوں۔

اس سوال پر کہ کیا اداروں کے سربراہان کے نام لینے سے اپوزیشن جماعتوں کا پلیٹ فارم یہ سمجھتا ہے کہ اس سے اتنا دباؤ بڑھ جائیگا کہ یہ سربراہان اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جائینگے، بلاول بھٹو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا ہرگز یہ مطالبہ نہیں ہے کہ فوجی قیادت عہدے سے دستبردار ہو جائے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ اے پی سی کے اجلاس کے دوران میں نے ہی یہ شکایت کی تھی کہ جس طرح پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج کی تعیناتی قابلِ مذمت ہے، بالکل اسی طرح، مثال کے طور پر، ہمارے چیف جسٹس کا ڈیم فنڈ کی مہم پر نکلنا یا انکی الیکشن کے دن کچھ سرگرمیاں قابلِ مذمت ہیں اس لیے یہ ایک وسیع معانی رکھنے والا لفظ ہے اور آپ کسی ایک شخص کی طرف اشارہ نہیں کر سکتے مگر اسکے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو کہ جلسوں میں اس پر بات نہیں کی جائے گی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ مسلم لیگ نواز نے 2018 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام فوجی قیادت پر عائد کر کے ایک واضح مؤقف اختیار کیا ہے مگر مبصرین کی رائے میں پیپلز پارٹی اس معاملے پر واضح طور پر بات نہیں کر رہی، تو بلاول بھٹو نے اس تاثر کو غلط قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ انکی جماعت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں وجود میں آئی اور اس کانفرنس کی قرارداد اور دستاویز ہی اس میں شامل تمام جماعتوں کی پالیسی ہے۔ بلاول نے کہا کہ نواز شریف اپنے طریقے سے بات کر سکتے ہیں، یہ ان کا حق ہے، جبکہ میں اپنے طریقے سے بات کروں گا۔ 

انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت آل پارٹیز کانفرنس کے دوران تشکیل پانے والے ایجنڈے پر مکمل طور پر قائم ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اداروں کو اپنی ٹائیگر فورس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ادارے بدنام ہوتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاستی اداروں میں کام کرنے والے اہلکار اس سوچ کو مثبت انداز میں لیتے ہیں کہ وہ ادارے، جن کیلئے، وہ اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں، غیرمتنازع ہوں،ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر ادارہ اپنا کام کرے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ترقی پسند جمہوریت ہی واحد راستہ ہے جبکہ کمزور جمہوریت آمریت سے کئی درجے بہتر ہے۔ انھوں نے ʼٹرتھ اینڈ ری کنسلیئیشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جسکے خلاف صرف انتخابات میں ہی دھاندلی نہیں ہوئی بلکہ یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، انکی دھاندلی اور سول حکمرانی اور مضبوط جمہوریت کے لیے جدوجہد طویل اور تین نسلوں پر محیط ہے، اور اسکی بحالی کیلئے وہ جمہوری انداز میں کوشش جاری رکھیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پی ڈیم ایم کے پاس ابھی استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے جبکہ دھرنے بھی دیئے جا سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گرتی معیشت کا الزام پی ٹی آئی پر لگاتے ہوئے اسے ایک نااہل حکومت قرار دیا۔ 

پی ڈی ایم کے کراچی میں جلسے کے بعد آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا، ایف آئی آر کیلئے دباؤ، مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑ کر داخل ہونے کی کوشش کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اس معاملے پر ان کا آرمی چیف سے دوبارہ رابطہ نہیں ہوا مگر یہ علم ہے کہ اس معاملے پر انکوائری چل رہی ہے، مجھے یقین ہے کہ اس پر تحقیقات مکمل کی جائیں گی اور قصور وار افراد کا تعین کر کے انھیں سزا بھی دی جائے گی، میں اس وقت صبر سے انتظار کر رہا ہوں کہ مجھے اس انکوائری سے متعلق آگاہ کیا جائے۔ 

اس سوال پر کہ کیا مسلم لیگ کی طرح انھیں بھی کسی قسم کے دباؤ کا سامنا رہا ہے، انھوں نے جواب دیا کہ یہ ان کا مطالبہ رہا ہے کہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں اور فوج پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر موجود نہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن )کے امیدوار توڑ کر پی ٹی آئی نے اپنی جماعت میں شامل کیے ہیں اور ایسی ہی کوششیں ان کے امیدواروں کے ساتھ بھی کی گئیں مگر سوائے ایک شخص کے کوئی دوسرا پیپلز پارٹی چھوڑ کر کسی اور جماعت کا حصہ نہیں بنا۔

انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے اعلان کو انتخابات سے قبل دھاندلی کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی تو پہلے ہی گلگت بلتستان کے لیے یہ پوزیشن دے چکی تھی ہم نے گلگت بلتستان کو نام دیا ہے، کمیٹی بٹھائی، اسمبلی دلوائی، وزیراعلیٰ اور گورنر بھی دیا اور یوں ہم نے تو عبوری درجہ پہلے ہی دے دیا تھا، اب تو ہم اس سے آگے کی بات کر رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید