آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی میں پی آئی اے کی 58انکوائریاں دو برس سے زیرالتوا

کراچی (اسد ابن حسن) ایف آئی اے ہیڈکوارٹر نے سندھ زونل آفس میں پی آئی اے سے متعلق 58زیرالتوا انکوائریاں منطقی انجام تک نہ پہنچانے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ مذکورہ انکوائریوں پر تحقیقات دو برس سے اور کچھ تو 2017ء سے زیرالتوا ہیں۔ پی آئی اے انتظامیہ پر جن الزامات پر تحقیقات زیرالتوا ہیں، ان میں غیر قانونی بھرتیاں، ادارے کی ملکیت مختلف اشیاء کی فروخت، غیر ضروری ڈیلی ویجز ملازمین کی بھرتیاں، ٹھیکوں میں اربوں کے گھپلے اور اربوں روپے کی اشیاء کی خریداری اور خردبرد شامل ہیں۔ مذکورہ 58انکوائریوں میں سے صرف دو پر مقدمات درج ہوئے، ایک مقدمے میں حیرت انگیز طور پر نقصان پہنچانے والی کمپنی کو تو نامزد کیا گیا مگر پی آئی اے کی انتظامیہ کے کسی افسر کو نامزد ہی نہیں کیا گیا جبکہ دوسرے مقدے میں ادارے کے سابق ایم ڈی اور سابق ایچ آر چیف کو گرفتار کیا گیا، مگر ناکافی ثبوتوں اور ناقص تفتیش کے باعث ایم ڈی کو عدالت نے کچھ عرصے بعد ہی ضمانت پر رہا کردیا۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ چند انکوائریوں کی تفتیش مکمل ہونے

کے بعد تفتیشی افسران نے مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی مگر ان پر بھی زونل آفس میں تعینات افسران کافی عرصہ گزرنے کے باوجود فیصلہ نہیں کرسکے۔ پی آئی اے کے حوالے سے جن تین انکوائریوں پر زونل آفس سے مقدمات درج کرنے کی اجازت زیرالتوا ہے، ان میں سابق فنانشل کنسلٹنٹ ہیلمٹ کی غیر قانونی بھرتی جس سے قومی خزانے کو 65ہزار ڈالر کا نقصان ہوا۔ دوسری پی آئی اے کی ملکیت A-320طیارے کی غیر قانونی فروخت جس سے قومی خزانے کو 224.09ملین روپے کا نقصان ہوا جبکہ تیسری انکوائری پی آئی اے کے بیڑے میں شامل طیاروں میں ایویونک اپ گریڈیشن جس سے ادارے کو 4ارب کا نقصان ہوا۔ پی آئی اے کی انکوائریاں کراچی کے کارپوریٹ کرائم سرکل، اینٹی کرپشن سرکل، کمرشل بینک سرکل اور اینٹی ہیومن سرکل کے افسران کے پاس ہیں۔ زیادہ تر تحقیقاتی افسران کے پاس دو سے تین انکوائریاں ہیں، جن افسران کے پاس انکوائریاں زیرالتوا ہیں ان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز عبدالرؤف شیخ، گل شیر مغیری، لبنیٰ ٹوانہ، احمد جان، محمد اقبال، رابعہ قریشی اور سراج پنہور، انسپکٹرز عمارہ قریشی، نبیل محبوب، محمد ثناء اللہ، جبار مہندرو، منصور مہمند، سب انسپکٹرز مہوش افتخار، طاہر گجر، ظہور بچکانی، عدنان دلاور، شبیر چانڈیو اور راحت خان شامل ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید