آپ آف لائن ہیں
ہفتہ2؍جمادی الثانی 1442ھ 16؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا گوشت، ڈیری مصنوعات ذیابطیس کے خدشات بڑھا دیتی ہیں؟

ذیابطیس کے مریضوں یا وہ افراد جن کے خاندان میں شوگر کی بیماری عام ہو اُن کے لیے گوشت اور ڈیری مصنوعات کا استعمال کرنا مفید ہے یا نہیں یہ جاننا نہایت لازمی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ذیابطیس ایک خاموش بیماری ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے، ایسے افراد جن کے قریبی رشتہ داروں کو یہ مرض لا حق ہو یا اس سے متاثرہ افراد اپنی غذا اور روٹین میں مثبت تبدیلیاں لا کر ہی اس بیماری کے مضر اثرات سے بچ سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق عام عوام میں یہ ایک مفروضہ پایا جاتا ہے کہ آیا گوشت اور ڈیری پراڈکٹس کے زیادہ استعمال سے ذیابطیس کے بگڑنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں اور جن افراد کے خاندان میں یہ بیماری پہلے سے  موجود ہو اُنہیں یہ بیماری غذا میں بے احتیاطی کے سبب با آسانی لگ سکتی ہے۔

ذیابطیس کے ماہر ڈاکٹر مبشر علی کا کہنا ہے کہ ’خاندانی ہسٹری رکھنے والے یا اس سے متاثرہ افراد کو غذا میں اعتدال میں لے کر چلنا چاہیے، شوگر سے لڑنے اور اس بیماری کے مضر اثرات سے تا دیر بچے رہنے کے لیے غذا ہی اہم کردار ادا کرتی ہے، غذا کا بہتر چناؤ ہی اس بیماری کے لاحق ہونے سے تا دیر بچا سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر مبشر علی کا مزید کہنا ہے کہ ’گوشت اور دودھ سے بنی مصنوعات کا استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ صحت مند غذا لی جا رہی ہے مگر گوشت کا استعمال ذیابطیس ہونے کے خدشات کو بڑھا دیتا ہے جبکہ اس بیماری سے متاثرہ مریض کے لیے مزید پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر مبشر علی نے بتایا کہ ’روزانہ کی بنیاد پر گوشت کا استعمال کرنے والے افراد میں پلازمہ کی تعداد بڑھ جاتی ہے جبکہ ایسی صورت میں ’لیپو پروٹین‘ کی ڈینسٹی کم ہو جاتی ہے، روزانہ گوشت غذا میں شامل کرنے سے کولیسٹرول لیول، بلڈ پریشر، ہائیپر ٹینشن سمیت وزن میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں شوگر سمیت دل کی بیماریوں کے خدشات بڑ جاتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’لال گوشت، مرغی اور مچھلی کے گوشت میں واضح فرق ہے، اگر مرغی اور مچھلی کا استعمال روزانہ کیا جا رہا ہے اور ساتھ میں سبزیاں بھی بطور سلاد لی جا رہی ہیں تو ایسی صورت میں شوگر کے مریضوں اور شوگر کے ہونے کے خدشات میں کوئی خطرناک اضافہ نہیں دیکھا گیا ہے۔‘

دوسری جانب اگر ڈودھ سے بنی مصنوعات کی بات کی جائے تو ان میں میں بنیادی منرلز اور وٹامنز ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کی جا سکتا ہے، بس صحت بر قرار رکھنے کے لیے زیادہ چکناہٹ والی غذاؤں سے پر ہیز کیا جائے جیسے کہ بالائی سے پاک دودھ کا استعمال وغیرہ۔

ڈاکٹر مبشر علی کا کہنا ہے کہ ’مارکیٹ میں کئی طرح کے دہی اور پنیر ملتے ہیں، انہیں خریدنے سے قبل ان کے لیبلز کو اچھی طرح سے پڑھ لینا چاہیے اور جن میں سب سے کم چکناہٹ ہو ایسے دہی اور پنیر کو ہی استعمال میں لانا چاہیے۔‘

صحت سے مزید