آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تعلیمی ادارے بند: سندھ اور وفاق میں اختلافات برقرار

گزشتہ ہفتے سندھ بھرمیں سیاسی سرگرمیاں ماند رہیں تاہم پاک سرزمین پارٹی نے کراچی اور حیدرآباد میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ پاک سرزمین پارٹی سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی متبادل قوت کی صورت میں اُبھرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا اظہار پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کے دوران کیا اور کہا کہ پی ایس پی کی سیاست کا محور عوامی مسائل کا حل ہے۔ 

پی ایس پی کو پورے ملک میں تیزی سے پذیرائی مل رہی ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو آڑے ہاتھوں لیتےہوئےافواج پاکستان اور وزارت داخلہ کی جانب سے ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط کے ٹھوس شواہد کے انکشافات پر حکومت اور اداروں سے ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کو سیاسی جماعت تسلیم کرنا پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ ظلم و زیادتی ہے کیونکہ پاکستان کی کسی اور جماعت کے سربراہ و عہدے دار نے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے فنڈز لینے کا اعتراف نہیں کیا ہے۔ 

ایم کیو ایم کا نام، نشان، جھنڈا اور لیٹر ہیڈ صرف الطاف حسین کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ میں را کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ را کے نیٹ ورک کا فوری قلع قمع کیا جائے جس کی وجہ سے ہزاروں معصوم نوجوان لقمہ اجل بنے، قوم کو اس کا نام و نشان مٹتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، دشمن کا کارندوں کا ملک کے اعلیٰ ایوانوں کی زینت بننا پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ 

اس نظام جس کے تحت را پاکستان میں کارروائی کر رہی ہے اس میں چھوٹے کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے لیکن دہشتگرد بنانے والی فیکٹری کو جاری رکھا ہوا ہےادھر مہاجر گرینڈ الائنس کی باتیں بھی گزشتہ ہفتے گردش کرتی رہیں جس کے جواب میں ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اور مہا جر وں کو کسی گر ینڈ الا ئنس کی ضرورت نہیں گر ینڈ الا ئنس مہاجر کا رکنان کی شکل میں یہاں مو جو د ہے ایم کیو ایم کا کر دار ما ں جیسا ہے جس نے برا بھلا کہا کسی لا لچ خو ف یا غلط فہمی سے ہی سہی ان سب کیلئے ہما رے دروازے دل اور باہیں کھلی ہیں۔ 

1992ء کا آپر یشن جو 2002ء کو ختم ہو ا اس کے بعد ایم کیو ایم کمز ور ہو ئی یا مضبو ط جو اب میں ملتا ہے کہ مضبو ط ہوئی جبکہ 2002ء اقتدار بھی تھا وسائل بھی تھے نوکریاں بھی تھیں ایم کیو ایم کمزور ہو ئی یا مضبو ط ہوئی جو اب ملتا ہے کہ کمزور ہو ئی ایم کیو ایم کی طاقت آپ کارکنان ہیں یہ طا قت ہم سے کو ئی نہیں چھین سکتا، ریاست بھی نہیں چھین سکتی اور حکو مت بھی نہیں۔ 

آج کل ایک گر وہ کو پیسہ اور وسائل کی بنیا د پر ہمیں گا لی دینے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے کیا ہم ایسا کر رہے ہیں ہم ایک مہذیب تہذیب کے آمین ہیں گر ینڈ الائنس یہا ں بنے گا جس میں تا جر بھی ہو گا طلب علم بھی ہو گا کسان بھی ہو گا صنعتکا ر بھی ہو گا اور یہیں سے گر یٹر الا ئنس بنے گا آج بہت اہم با تیں کی ہے کہ ایم کیو ایم جتنا کام کر رہی ہے اتنا شور نہیں مچارہی صوبے کے حصول کیلئے جو کو شش کر نی ہے ہم کر رہے ہیں اور تمام آئینی ضروریا ت پو ری کر نے کیلئے با ت بھی کر رہے ہیں اور جدوجہد بھی کر رہے ہیںدُوسری جانب سندھ ترقی پسند پارٹی کے قتل کئے جانے والے وائس چیئرمین الطاف جسکانی کو سپردخاک کر دیا گیا۔

ایس ٹی پی کی کال پر ٹنڈوالہ یار، گھارو، دھابیجی، میرپور ساکرو، حیدرآباد سمیت سندھ کے شہروں میں شٹرڈائون ہڑتال، کاروباری مراکز بند اور قومی شاہراہ پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہا۔ 

الطاف جسکانی کے قتل کا مقدمہ مقتول کے بھائی ذیشان جسکانی کی مدعیت میں اے سیکشن تھانے میں اسلم رند، بھولو خانزاد، ضمیر رند، پپو رند اور چار نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا، اُدھر کورونا وائرس کی دُوسری لہر نے سندھ میں بھی خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ 

شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کی اجازت صرف کھلی جگہ پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں تین سو سے زائد افراد شرکت نہیں کر سکیں گے اور ایس او پیز پر عمل لازمی ہوگا جس کا اطلاق 31 جنوری تک ہوگا۔ کورونا وائرس سے ایک ہی دن میں ریکارڈ 61 افراد کی اموت کے بعد کراچی کے کئی اضلاع میں مائیکرو لاک ڈائون لگا دیا گیا۔ 

لاک ڈائون 5 دسمبر تک جاری رہے گا کاروبار دس بجے بند کر دیا جائے گا جبکہ وفاق اور سندھ کا اسکولوں کی بندش پر اختلاف ہے سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے تجویز دی ہے کہ اس سال کسی صورت بغیر امتحانات کے کلاسز میں بچوں کو پرموٹ نہیں کیا جائے گا.ہماری تجویز ہے کہ تمام تعلیمی ادارے بند نہ کئے جائیں بلکہ اگر ایسا لگتا ہے تو پرائمری اسکولز جس میں انرولمنٹ 73 فیصد ہے اس کو بند کیا جائے جبکہ کلاس 6 اور اس سے آگے کی تمام کلاسز کو جاری رکھا جائے۔ 

نویں ، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات مئ اور جون میں لینے کا فیصلہ نہ کیا جائے بلکہ اس کو ہولڈ کیا جائے اور آگے کی صورت حال کو دیکھ کر بعد میں فیصلہ کیا جائے. چھوٹی نجی اسکولز کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے انہیں بینکوں کے ذریعے آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جائیں اور اس پر سود وفاقی حکومت ادا کرے تاکہ یہ نجی اسکولز معاشی طور پر بدحالی کا شکار نہ ہوں۔ اسکولوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ٹیوشن اور کوچنگ سینٹرز کو بھی اس میں شامل کرنا چاہیے. تمام غیر تدریسی سرگرمیاں اس سال مکمل طور پر تعلیمی اداروں میں بند کرنا چاہیے۔ 

ادھر وفاقی وزیر شیخ رشید نے کراچی سرکلر ریلوے کا افتتاح کیا کراچی سے پی ٹی آئی کے 14 ایم این اے اور دو درجن سے زائد ایم پی اے ہونےکے باوجود انہیں افتتاحی تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا جس پر پی ٹی آئی کے بعض ارکان نے شدید احتجاج کیا سرکلر ریلوے پر شہریوں نے شدید تنقید کی اور اسے کراچی کے شہریوں کے ساتھ دھوکہ اور عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ 

کراچی میں سرکلر ریلوے ٹرین کی بحالی سے شہریوں کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب سیاسی حربہ کے طور پر کراچی سرکلرریلوے کے لیے تیار کردہ خصوصی کوچز کو کے سی آرکے نئے روٹ پرچلانے کی بجائے پرانے روٹ پیپری اورکراچی سٹی کے مابین ریلوے کے مین ٹریک پرچلانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔چند ماہ قبل اسی روٹ پرچلائی جانے والی دھابیجی ایکسپریس صرف 9 روز بعد خسارے کی بنا پر بند کی جاچکی ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید