آپ آف لائن ہیں
اتوار10؍جمادی الثانی 1442ھ 24؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسٹیل ملز، 95 فیصد ملازمین فارغ کریں گے، حماد اظہر


اسلام آباد(مانیٹرنگ سیل،جنگ نیوز)وفاقی وزیر برائے صنعت و پیدوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ اسٹیل ملز کے 95 فیصد ملازمین کو فارغ کرینگے، باقی ملازمین دوسرے مرحلے میں فارغ کرینگے، پی پی دورمیں اسٹیل ملز کی صلاحیت کم ہوکر 40 فیصد ہو گئی تھی، نون لیگ نے 2015ء میں بند کردیا تھا۔

معلوم تھا اس معاملے پر سیاست ہوگی، سندھ حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اوپن بولی میں آ کر حصہ لے، سندھ حکومت بولی سب سے زیادہ دیتی ہے تو لے لے۔ 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹیل ملز قومی اثاثہ ہے لیکن ماضی میں جو ہوا وہ کرپشن کی کہانی ہے، اس کو سیدھا کرنے کے لیے ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑے۔

انہوں نے کہا کہ 2008ء میں اسٹیل ملز منافع بخش ادارہ تھا، اُس وقت اسٹیل ملز کے اکاؤنٹس میں 8 ارب روپے پڑے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ 55 ارب روپے حکومت پنشن اور تنخواہ کی مد میں ادا کر چکی اور بند ملز کے ملازمین کو 75 کروڑ ماہانہ تنخواہ کی مد میں ادا کرنا پڑتے ہیں، اس وقت اسٹیل ملز کے 670 ملازمین موجود ہیں۔

حماد اظہر نے ملازمین کے نکالنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہے اس معاملے پر سیاست ہوگی، اگر بروقت فیصلے ہوتے تو اتنے پیسے نہ لگتے، یہ پیسہ مختلف شعبوں پر لگاتے تو ہزاروں نوکریاں پیدا ہوتیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ دو ہزار ارب سے زیادہ قومی اداروں کے نقصانات ہیں، سرکاری اداروں کے نقصانات ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہیں تاہم جن ملازمین کو نکالا جا رہا ہے، ان کو فی ملازم اوسطاً 23 لاکھ روپے دیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی دور میں اسٹیل مل خسارے میں گئی اور مسلم لیگ نون کے دور میں اسٹیل مل بند ہو گئی لیکن حکومت نے اسٹیل ملز سے متعلق معاشی بہتری کے لیے کام کیئے اور اسٹیل ملز کو 92 ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکج دیا گیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ساڑھے 9 ہزار ملازمین ہیں جس میں سے پہلے مرحلے میں 4 ہزار ملازمین نکالے جائیں گے، سرکاری اداروں میں ملازمین کی ماضی میں سیاسی بھرتیاں کی گئی ہیں۔

سندھ حکومت کو اسٹیل ملز لیز پر دینے کی پیشکش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز کی 13 سو ایکڑ زمین لیز پر دی جائے گی، سندھ حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اوپن بولی میں آکر حصہ لے، سندھ حکومت بولی سب سے زیادہ دیتی ہے تو لے لے۔

دوسری جانب وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ میں سب کو یاد دلاتا چلوں کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہی پاکستان اسٹیل ملز ایک منافع بخش ادارے سے خسارہ کرنے والے ادارے میں تبدیل ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں اسٹیل ملز کی صلاحیت کم ہو کر 40 فیصد پر آگئی جبکہ مسلم لیگ نون نے 2015ء میں اسے بند کر دیا۔

اہم خبریں سے مزید