• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملتان کا جلسہ ہوگیا، کنٹینرز، رکاوٹوں، پکڑ دھکڑ اور مقدمات کے بعد حکومت اچانک پیچھے ہٹ گئی، چوک گھنٹہ گھر جلسہ گاہ میں تبدیل

ملتان کا جلسہ ہوگیا،حکومت اچانک پیچھے ہٹ گئی


ملتان(نمائندگان، نیوز ایجنسیاں)پی ڈی ایم کاملتان کاجلسہ ہوگیا۔کنٹینرز، رکاوٹوں، پکڑدھکڑ اور مقدمات کے بعد حکومت اچانک پیچھے ہٹ گئی، چوک گھنٹہ گھر جلسہ گاہ میں تبدیل ہوگیا۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سیاست سے بیدخل کردیا، ہم جلسہ نہیں کرینگے توغریب کی آواز کون بنے گا، مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان کو لگے وائرسوں کا علاج ضروری،عوام عمران کا لاک ڈاؤن کرنے والے، عوامی فیصلےسے پہلے خود چلے جائیں۔

آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ اتنے جبر کے باوجود عوام نے اتنی بڑی تعداد میں یہاں پہنچ کر فیصلہ دیدیا ہے کہ اب سلیکٹڈ کو جانا ہوگا،سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب سے وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وزرائے خارجہ اور اسپیکرز بنائے، اختر مینگل نے کہا کہ آج تخت و تاج گرا دیئے۔ 

جلسے سے محمود خان اچکزئی، میاں افتخار سمیت پی ڈی ایم کے اور دیگر نے خطاب کیا۔ اپوزیشن اتحاد کے جلسے کی میزبان پیپلزپارٹی کی اور یہ جلسہ پی پی کے 54 ویں یوم تاسیس پر منعقد کیا گیا۔ پی ڈی ایم قائدین نے اپنے خطاب میں پیپلزپارٹی کو یوم تاسیس پر مبارکباد دی۔ 

ملتان میں کارکنوں پر تشدد کیخلاف پی ڈی ایم کے سربراہ نے جمعہ ،ہفتہ اور اتوار کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جلسے سے پہلے شہر دن بھر میدان جنگ بنا رہا، سرکاری و نجی اداروں میں عملاً کام بند رہا، دکانیں اور بازار بند رہے، سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام رہا، ملتان کی تاریخ میں پہلی بار ٹیلیفون اور انٹر نیٹ سروس بند رہا۔

تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کامیاب اورتاریخی اجتماع کے انعقاد اور ناجائز، نالائق حکومت کو شکست دینےپرعوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملتان کی شاہراہوں اورچوراہوں کوبندکیاگیا، ہمارےکارکنوں کو گرفتار کیا گیا، تشدد کیاگیا لیکن گزشتہ روز پریس کانفرنس میں صرف ڈنڈادکھایا توپھر دم دباکربھاگ گئے، جس طرح ملتان سے بھگایا ہے، تمہارا تخت گرانےمیں بھی کامیاب ہونگے۔

فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کاخیال ہےکہ گیدڑ بھپکیوں سے ہم ڈرجاتےہیں، ہم نےسورماؤں کا مقابلہ کیاہے توکیااورپدی کاشورباکیا؟ ملتان میں تشددکیخلاف جمعے اورہفتے کو پورے ملک میں احتجاج ہوگا، اور پورےملک کےکارکنوں کوپیغام دیتاہوں،13 دسمبرکو لاہور میں ٹاکراہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب تک گیدڑ ملک چھوڑکر بھاگ نہیں جاتا،پیچھا کرنا ہے ، آپ کی حکمرانی کو جبرکی حکمرانی کہتےہیں، جبرکیخلاف لڑناہمارےاکابرکی سنت ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آپ نے ملک کی معیشت کو تباہ وبربادکردیا ہے، ہم جلسہ نہیں کرینگے تو غریب کی آواز کون بنے گا؟ ہم پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں آئے ہیں، تمہاری خارجہ پالیسی ناکام ہے اور تم کشمیر فروش ہو، اب فلسطین کو بیچنا چاہتے ہو، تم امت مسلمہ کوبیچنا چاہتے ہو، ہم تمہیں سودا کرنے نہیں دینگے اور تمہارے بین الاقوامی ناجائز ایجنڈوں کو مسلط ہونے نہیں دینگے۔

فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ انتظامیہ نےکہاکسی قیمت پرجلسےنہیں کرنے دینگے، ہم نے پریس کانفرنس میں کہا ہر قیمت پرجلسہ کرینگے، بتاؤ تمہاری بات چلی ہے یاہماری بات چلی ہے؟ان کا کہنا تھا کہ لاہور کا جلسہ حکمرانوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے خطاب میں کہا کہ حکومت اب کورونا وائرس کے پیچھے چھپ رہی ہے جبکہ کووڈ 19 سے پہلے کووڈ 18 کو گھر بھیجنا ضروری ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ʼملتان والو آپ کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہوں، آج چادر اور چار دیواری کی پامالی ہو رہی ہے، ہمارے نہتے کارکنوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں، اسٹیڈیم کو تالے لگا دیئے گئے لیکن میں نےکہا جلسہ ہو یا نہ ہو عوام کے پاس ضرور پہنچوں گی۔ 

انہوں نے کہا کہ ʼآج شریف خاندان پر ایک بار پھر دکھ کا پہاڑ ٹوٹا ہے لیکن 22 کروڑ عوام کے دکھ کے سامنے ہمارے دکھ کچھ نہیں، نواز شریف نے کہا عوام کے دکھوں پر اپنے ذاتی دکھ قربان کیونکہ آج عوام کے روزگار چھن جانے، کاروبار کو تالا لگ جانے کا غم ہے، آج روٹی 30 روپے ہوجانے اور چولہے ٹھنڈے ہو جانے کا غم ہے، عوام کے گھروں میں غموں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ دشمن بھی کسی کو دے تو ظرف والا دے۔

ان کا کہنا تھا کہ ʼہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں دشمن بھی ملا تو کم ظرف ملا، ایک خاتون وزیر نےکہا کہ نواز شریف نے اپنی ماں کی لاش پاکستان پارسل کردی، میرے والد لندن میں کاؤنٹی کرکٹ نہیں کھیل رہے تھے، نواز شریف جیسا فرمانبردار بیٹا پورے پاکستان میں ڈھونڈ کر لاؤ، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کے خاندان کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اکبر بگٹی کو قتل کیا جاتا ہے اور انکے اہل خانہ کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی، بےنظیر بھٹو کو شہید کیا جاتا ہے اور قاتلوں کو ملک سے باہر فرار کرا دیا جاتا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ کیا کوئی مشرف کوایک دن بھی جیل میں رکھ سکا؟ کیا کسی میں اتنی جرات ہے کہ مشرف کو پاکستان واپس لاسکے؟ 

اب یہ حکومت کورونا وائرس کے پیچھے چھپ رہی ہے لیکن یہ کورونا نہیں حکومت جانے کا رونا ہے، یہ کیسا وائرس ہے جو حکومت کے جلسوں میں نہیں صرف پی ڈی ایم کے جلسوں میں آتا ہے، کورونا پہلے پوچھتا ہےکہ پی ڈی ایم کا جلسہ ہےتو میں اندر آجاؤں اور اگر تحریک انصاف کا جلسہ ہے تو واپس چلا جاؤں۔

انہوں نے کہا کہ اب عوام عمران خان کا لاک ڈاؤن کرنے والے ہیں، کووڈ 19 سے پہلے کووڈ 18 کو گھر بھیجنا ضروری ہے، کووڈ 18 گھر چلا جائے تو کووڈ 19 بھی چلا جائفگا، پاکستان کو لگے وائرسوں کا علاج ضروری ہے اور پاکستان کو لگے اس مہلک وائرس کا پہلے علاج کیا جائے، ملک کی ترقی، نظام عدل اور مہنگائی کو کونسا وائرس لگا ہے لیکن ان تمام وائرس کا نام عوام جانتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان میٹروبس کو جنگلا بس کہتے تھے کہ اسے نہیں بناؤں گا لیکن انہوں نے پشاور میں بی آر ٹی بنائی جو چل کم اور جل زیادہ رہی ہے، عوام جان چکے ہیں کہ تمہارے ہر وعدے کی طرح ’جنوبی پنجاب صوبہ‘ بھی فراڈ تھا، اناڑی پاکستان کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہے۔ 

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کہتے ہیں میں کاروبار نہیں کرتا تو بھائی کاروبار محنت کرنے والے کرتے ہیں، جب ساری زندگی دوسروں کی جیبوں پر گزارا کرنا ہے تو محنت اور کاروبار کی کیا ضرورت، جنہوں نے کشمیر کو نریندر مودی کی جھولی میں ڈال دیا وہ اسرائیل کی بات کر رہے ہیں۔

عوام پوچھتی ہے کہ پاکستان میں اسرائیل کی حمایت کی مہم کون چلا رہا ہے، نواز شریف کے دور میں روٹی 5 روپے کی تھی آج 30 روپےکی ہے، نواز شریف کے دور میں چینی 50 روپے کی تھی صادق اور امین کے دور میں 130 روپے ہے، نواز شریف کے دور میں 30 روپے کلو آٹا تھا آج 100 روپے میں بھی نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ پی ڈی ایم آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے خود حکومت چھوڑ دو، پی ڈی ایم فیصلہ کرنے والی ہے پھر نہ کہنا کہ بتایا نہیں جبکہ عوام سے وعدہ ہے کہ مشکلات سے نکالنے کیلئے جیل بھی جانا پڑا تو کوئی پرواہ نہیں۔ 

ملتان میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے پہلی بار کسی بڑے جلسہ عام سے خطاب کرکے اپنی سیاسی اننگز کا باقائدہ آغاز کیا۔ اپنے خطاب میں آصفہ نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اتنے جبر کے باوجود عوام نے اتنی بڑی تعداد میں یہاں پہنچ کر فیصلہ دے دیا ہے کہ اب سلیکٹڈ کو جانا ہوگا۔ 

آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ʼانہیں لگتا ہے کہ ہم گرفتاریوں سے ڈر جائیں گے تو یہ انکی بھول ہے، اگر ہمارے بھائیوں کو گرفتار کیا گیا تو ہماری بہنیں جدوجہد کیلئے تیار ہیں۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ایک اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست کے قیام کیلئے رکھی گئی تھی، جس کے حصول کی خاطر پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین سمیت ہزاروں کارکنان نے شہادتیں قبول کیں۔آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ʼانہیں لگتا ہے کہ ہم گرفتاریوں سے ڈر جائیں گے تو یہ انکی بھول ہے، اگر ہمارے بھائیوں کو گرفتار کیا گیا تو ہماری بہنیں جدوجہد کیلئے تیار ہیں۔ 

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا آج کے جلسے کیلئے حکومت کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور رکاوٹوں کے باوجودعظیم الشان جلسہ ہو ا جبکہ حکومت نے جلسے کیلئے بجلی کا انتظام نہیں کرنے دیا۔ 

حکومت نے کنٹینرز اور کھانا دینے کا وعدہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملتان کا مطالبہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا ہے اور جنوبی پنجاب صوبہ بہت ضروری ہے اگر جنوبی پنجاب صوبہ بنا تو خطہ ترقی کرے گا۔ 

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ عوام نے تاج و تخت گرا دیے ہیں کیونکہ وہ ووٹ کی عزت چاہتے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس ملک میں اگر حکمرانی ہو گی تو وہ ووٹ کی ہو گی۔

اختر مینگل نے کہا کہ اگر کوئی ماں اور بہنوں کی عزت نہیں کرسکتا ہے تو اسے حکمرانی کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک اور خطہ خطرناک حالات میں گھرا ہوا ہے۔ 

اچکزئی نے کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم اس لیے نہیں بنایا ہے کہ لوگوں کو گالیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کچھ دن پہلے کہا کہ نوازشریف اورزرداری کی حکومت سلیکٹڈ تھیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے سلیکٹرز کو مان لیا ہے؟ 

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا ملک فیٹف کی گرے لسٹ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر حکمرانی وہی کرے گا جسے لوگ منتخب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک ہمیں خیرات میں نہیں ملا ہے اور یہ ہم سب کا ہے۔

واضح رہے کہ پی ڈی ایم کی جانب سے ملتان میں قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم حکومت نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور گزشتہ روز سے ہی شہر میں کنٹینرز، ٹرک اور ٹرالیاں مختلف سڑکوں پر لگا کر اسٹیڈیم جانے والے راستے روک دیئے تھے۔ 

تازہ ترین