آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کبھی کبھی ایسا لگتاہے کہ اس عہد کے انسان کی زندگی ایک طوفانِ بدتمیزی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ ایک شریف آدمی پر کوئی الزام لگتاتو فوراًوہ عدالت چلا جاتا۔ سوشل میڈیا کی برکات سے اب شاید ہی کوئی ایسا شخص باقی بچا ہو، جس پر کوئی الزام نہ ہو ۔اب جس پہ الزام لگتاہے، وہ سوچتا ہے دو کروڑ ملزموں کی فہرست میں میرا اضافہ ہو بھی گیا تو کیا ہوا۔ ٹی وی چینلز والے صبح سویرے اپنے کیمرے اٹھا ئے گلیوں میں نکل جاتے ہیں اور ریڑھی والوں کے منہ میں گھسیڑ دیتے ہیں۔ یہ دیکھیے ناظرین، یہ شخص سبزی کے ساتھ دھنیا نہیں دے رہا۔ اس کا منہ دنیا کو دکھائو۔ اس شخص کو تین دن ریڑھی والے کی زندگی گزارنی پڑے توسمجھ آجائے کہ وہ بقا کی کیسی خوفناک جنگ لڑرہا ہے۔

ایک دفعہ ایک خاتون رپورٹر نے ایک ان پڑھ گارڈ پہ دھاوا بول دیا۔ ناظرین اس شخص کا چہرہ دیکھیے۔ یہ ہے وہ رزیل ،یہ ہے وہ گرا ہوا شخص۔۔۔ اس نے گھما کر ایک تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا ۔صورتِ حال یہ ہے کہ آج آپ کیمرہ لے کر کسی کے منہ پر اسے جھوٹا، لپاڑیہ، بے شرم، بے حمیت، ہر لقب دے سکتے ہیں۔ ادھر اس نے کوئی ردّعمل دیا، ساتھ ہی مظلومیت کی جنگ شروع ہو جاتی ہے ۔

جو شخص گھر سے یہ ذہن بنا کر باہر نکلتا ہو کہ شام سے پہلے میں نے تین اسکینڈل دنیا والوں کے سامنے پیش کرنے ہیں ،کیا وہ ایک نارمل آدمی ہے؟ اس کے دماغ کے اندر تک اسکینڈل پھنسے ہوئے ہیں ۔وہ کیسے دنیا والوں کو دکھا سکتاہے کہ کچھ اچھے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں ۔اسی طرح کچھ لوگوں کے دماغ میں فحاشی پھنسی ہوتی ہے۔ ہر نارمل چیز میں بھی انہیں فحش مناظر دکھائی دے جاتے ہیں ۔دوسری طرف ٹی وی چینلز سالی اور بہنوئی، بھابھی اور دیور کے معاشقے دکھا رہے ہیں۔بچّوں کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ والا گناہ بھی ہوتاہے دنیا میں۔

کیمرے والا فون ایجاد ہونے کے بعد سے لوگ جاسوسوں والی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔حادثات کے بعد لوگ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کی بجائے ان کی وڈیو بنا تے پا ئے جاتے ہیں۔ ہر آدمی جو ہوش میں ہے، ہر اس آدمی کی وڈیو بنا رہا ہے، جو ہوش میں نہیں۔ کیمرے والے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے یہ تو انسان کو بخوبی سکھادیا ہے کہ اعمال نامے کس طرح نشر کیے جائیں گے۔ انٹرنیٹ اور کیمرے کے اس دور میں بھی جو لوگ ایک دوسرے کا پردہ رکھتے ہیں، امید ہے کہ خدا بھی ان کا پردہ رکھے گا۔

مارننگ شوز والے سونے پہ سہاگہ۔ ایک عامل صاحب باری باری ہر چینل پہ آتے اور جنات کو حاضر کرتے رہے۔ بعد ازاں ایک چینل نے ان کی خفیہ ریکارڈنگ جاری کر کے یہ بھانڈا پھوڑا کہ وہ مختلف چینلز والوں کی ملی بھگت سے یہ کارنامہ سرانجام دے رہے تھے ۔سب فراڈ تھامگر دیر تک چلتا رہا۔

ایک چیز ہوتی تھی، جسے ’ریاضت ‘کہاجاتا۔ لوگ دن میں سولہ سولہ گھنٹے مشقت کیا کرتے تھے۔ اب زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں آدمی ایک دفعہ سوشل میڈیا کھول کر ضرور دیکھتا ہے۔ ذہنی مشقت چونکہ دماغ کے لیے ایک ناپسندیدہ چیز ہے، اس لیے دماغ بار بار اس سے فرار حاصل کرتاہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے ،آدمی کی حالت اس بچّے کی سی ہو جاتی ہے، جو سودا سلف لانے گھر سے نکلا تھا مگر راستے میں میلہ دیکھنے کھڑا ہو گیا۔

چند منٹ کے لیے گاڑی اشارے پر رکتی ہے تو خود بخود ہی انسان کا ہاتھ موبائل پہ چلا جاتا ہے۔سب سے پہلے وہ یہ دیکھتا ہے کہ میرے واٹس ایپ اسٹیٹس کو کس کس نے دیکھا۔ اس کے بعد وہ لوگوں کے اسٹیٹس کھولتا ہے۔ اتنی دیر میں ساتھ والا شخص اسے ٹوکتا ہے ،بھائی صاحب، اشارہ کھل چکا۔

اس دور میں انسان کی اصل زندگی سے زیادہ اس کی ورچوئل دنیا اہم ہو چکی ۔اصل رشتوں کو توڑ دیا گیا ہے اور سوشل میڈیا کے مصنوعی رشتے انسان کو اپنی جان سے زیادہ پیارے ہیں۔ سوشل میڈیا کی آمد کے بعد زندگی کے ہر کام میں بھرپور شان و شوکت کا مقابلہ چل رہا ہے، جس کے نتیجے میں کم آمدنی والے لوگ پس کے رہ گئے ہیں۔ ہر بچّے کی سالگرہ بھرپور تز ک و احتشام سے منانا اس باپ پہ فرض ہو چکا ہے، بارہ گھنٹے کام کر کے جو بمشکل اپنے اہل و عیال کو روٹی، کپڑا اور مکان مہیا کر سکتا تھا۔

رہی سہی کسر پرینک کرنے والوں نے پوری کر دی ہے۔ ایک بیٹی اپنے باپ کے ساتھ میک اپ کی ایک دکان میں داخل ہوتا ہے۔ وہ سیلز مین کو ایک لپ اسٹک دکھانے کا کہتی ہے۔ سیلز مین جوکہ ایک پرینکسٹر ہے، وہ لپ اسٹک خاتون کو دینے کی بجائے اپنے ہی ہونٹوں پر لگا لیتاہے۔ پھر اپنے ہونٹ موڑ کر اسے دکھانے لگتاہے۔ باپ اور بیٹی ایک دوسرے کو دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں یہ تمیز نہیں کہ ہمارا مذہب کیا ہے، ہماری تہذیب کیا ہے، ہماری اقدار کیا ہیں، کیمرے سر پہ اٹھائے شکار کی تلاش میں گھوم رہے ہیں۔ جو کچھ ریکارڈ ہو گا، وہ مقامی ٹی وی اور یوٹیوب چینلز سے نشر ہو گا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جن بزرگوں کی ٹانگیں قبر میں ہیں، وہ بھی پرینک کرتے پائے جاتے ہیں ۔زندگی میں ہی جن کی شکل مردے جیسی ہو چکی، انہیں اپنے گناہ بخشوانے کی کوئی خواہش نہیں۔ اس بوڑھے سے زیادہ بد نصیب کون ہوگا، جو اپنے اعمال خود ہی ریکارڈ کرواتا پھر رہا ہو۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین