• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کشمیر الحاق سے بھارت کے مسائل بڑھے، وہ اب خطرہ نہیں، اسد درانی

کراچی (نیوز ڈیسک) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے الحاق کی کوششوں کے بعد بھارت کے اپنے مسائل اتنے بڑھے ہیںکہ وہ اب ہمارے لئے خطرہ نہیں رہا، ’اگر وہ دوبارہ بالاکوٹ جیسا واقعہ کریں گے تو اس کی تیاری کر لیں۔ 

وہ اس وقت خود اتنا پھنسے ہوئے ہیں اپنی چیزوں میں کہ انہیں پاکستان کی اتنی فکر نہیں ، پاکستان کو اپنی فکر ہے، ملک کی اندرونی سلامتی کو لاحق خطرات اس وقت ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں جن سے نمٹنا اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ 

برطانوی ریڈیو کو خصوصی انٹرویو میں اسد درانی نے کہا کہ سیاسی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ایک حقیقت اور ملک کے لیے نقصان دہ ہے اور اس مداخلت سے لوگ ناراض ہیں۔ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ (ان کے بارے میں) یہ تاثر ہے کہ یہ خود نہیں آئے، یہ تو بوجھ لے کر آئے ہیں۔ 

جن سیاسی جماعتوں کو باہر رکھنے کی کوشش کی گئی وہ واپس آ گئیں، ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو باہر رکھنا تھا، وہ واپس آ گئے اور منتخب ہو گئے۔ ضیا الحق کے بعد بینظیر بھٹو تشریف لائیں، مشرف جیسے ہی نکلے ہیں تو جن دو جماعتوں کو ان کا خیال تھا باہر رکھنا چاہئے، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز، دونوں جماعتیں الیکشن لڑ کر منتخب ہو گئیں۔ 

پی ڈی ایم سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن کا تجربہ اس فیلڈ میں ہم سب سے زیادہ ہے، وہ دھرنا کرنے کیلئے ان کی بات کیوں سنیں گے، عام تاثر یہی ہے کہ ان کے بغیر (دھرنا) نہیں ہو سکتا، جیسے اس سے پہلے کہا جاتا تھا کہ امریکا کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا‘۔

اس وقت سیاسی طور پر کچھ لوگ ناراض ہیں، معیشت واقعی خراب ہے، یہ نہیں کہ معیشت ٹھیک ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے، ملک کی اندرونی سلامتی کو لاحق خطرات اس وقت ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں جن سے نمٹنا اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ 

انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے کشمیر کے الحاق کی کوشش کے بعد انڈیا کے لیے خود اتنے بڑے مسائل کھڑے ہو گئے ہیں کہ وہ اب ہمارے لیے خطرہ نہیں رہا۔ کشمیر پر جو کچھ انڈیا نے کیا اس کے بعد مشرقی سرحد پر ہمارے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ 

کبھی اگر وہ بالا کوٹ جیسا کچھ کرنا چاہیں تو اس کے لیے تیاری کر رکھیں ورنہ وہ اپنی چیزوں میں اتنے زیادہ پھنسے ہوئے ہیں کہ انھیں پاکستان کی اتنی فکر نہیں ہے۔‘ 

اسد درانی نے کہا کہ ’اگر آپ پاکستان کے باہر سے لاحق خطرات کی بات کرتے ہیں تو ایران، ترکی اور سعودی عرب بڑے اور نئے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ملک کو تین طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معیشت، سیاسی عدم استحکام اور سماجی ہم آہنگی بڑے مسائل ہیں، کیونکہ یہ سب اکٹھے ہو گئے ہیں۔‘ 

ایران سے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسد درانی نے کہا کہ ’ایران میں انقلاب کے بعد ہمارے ایران سے بننے والے تعلقات امریکہ کی مرضی کے برخلاف تھے۔ کیونکہ انہوں (امریکہ) نے کہا کہ 400 سے زیادہ دن (ایران نے) ہمارے سفارتخانے کو یرغمال بنایا۔ 

ہم (پاکستان) نے کہا (ایران) ہمارا پڑوسی ہے۔ ہم نے تو رابطہ رکھنا ہے۔‘’1950 ء کی دہائی میں جب ہمارے چین کے ساتھ تعلقات بنے تو امریکا کافی ناراض تھا۔ ایک دن ہمارے پاس آیا اور کہا کہ ہماری بھی بات کروا دیں۔‘ 

پاکستانی طالبان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سب لوگوں کی مرضی کے بغیر اگر طالبان کی حمایت کی ہے تو (اس بارے میں) ہم نے امریکا کی بات تو نہیں سنی۔ لیکن تاثر یہ ہے کہ پتا نہیں ہم کتنا امریکا کی سنتے ہیں۔‘ ’اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کبھی کبھار کچھ لوگوں کی کمزوری ہوتی ہے امریکہ کی بات سننا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کے کام نہیں ہو پاتے۔ اس لیے وہ ان کی جیسی بھی بات ہو وہ مان لیتے ہیں۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ ’گلگت بلتستان کی حیثیت بدلنے سے مسئلہ کشمیر کو دھچکا لگے گا‘کچھ چیزوں کی حیثیت مت تبدیل کریں کیونکہ جب بھی آپ کسی چیز کی حیثیت سیاسی وجہ سے اس لیے تبدیل کریں گے کہ ہم نے نمبر بنانے ہیں، اس کا نقصان ہو گا۔ 

بہاولپور اور سوات بڑی اچھی ریاستیں تھیں انھیں مرکزی دھارے میں شامل کیا گیا اور یہ مرکز بدعنوانی میں شامل ہیں تو نقصان ہوا۔‘ ’بلوچستان کا نظام تین انداز میں بہتر ہینڈل ہو سکتا تھا، سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر۔ لیکن ہم نے پکڑ کر ایک صوبہ بنا دیا اور آج تک نہیں سنبھالا جا رہا۔‘ 

انھوں نے کہا کہ ’سابق فاٹا کے بارے میں بھی میں کہتا تھا کہ یہ مت کرو، اس کو صوبے میں ضم مت کرو۔ اس کی اپنی خصوصی حیثیت ہے، بعض حالات میں وہ ہم سے بہتر چل رہا ہے جو کہ پانچ سو سال کا پُرانا نظام ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا نظام بھی اس طرز کا نہیں کہ لوگ اس نظام کا حصہ بننا چاہیں گے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کو زیادہ حقوق دینے ہیں تو بے شک دیں لیکن ان کو زبردستی پاکستان کا صوبہ نہ بنائیں۔‘ افغانستان میں جاری امن عمل پر بات کرتے ہوئے اسد درانی نے کہا کہ ’پاکستان یہ کر سکتا ہے کہ مجاہدین اور طالبان پر اپنے اثر کا استعمال کرتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہے کہ باقیوں سے بات کر کے آپ جو فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہے۔ 

اس سے زیادہ پاکستان کچھ کر بھی نہیں سکتا۔‘ اپنی کتاب سے منسلک تنازعات کے بارے میں اسد درانی نے کہا کہ ’یہ کہنا کہ مجھے کوئی نقصان ہوا ہے، نہیں، مجھے فائدہ ہوا ہے‘، ’مشرف کی کتاب کسی نے نہیں دیکھی تھی۔ شاہد عزیز کی بڑی تنقیدی کتاب ہے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ اس کا حق ہے، یہ لکھ سکتا ہے۔ لیکن آج تک کسی نے روکا نہیں ہے۔ 

تازہ ترین