آپ آف لائن ہیں
اتوار15؍ رجب المرجب 1442ھ 28؍ فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جج ارشد ملک کے کیس سے ہم نے سبق حاصل نہیں کیا، شاہد خاقان


سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جج ارشد ملک کے کیس سے ہم نے سبق حاصل نہیں کیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈھائی سال گزر چکے لیکن نیب کیس میں اب تک جرم کا نہیں پتہ چل سکا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا عجیب واقعہ ہے کہ تمام کیسز اپوزیشن پر ہیں، وزیر اربوں روپے ادوایات، چینی، گندم میں کھا جائیں لیکن کوئی نہیں پوچھے گا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھ پر کرپشن کا کیس نہیں، ایل این جی ٹرمینل لگانے پر کیس بنایا گیا، ایل این جی ٹرمینل کی سالانہ پیمنٹ 14 ارب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک موجودہ وزیر کے پاور پلانٹ کو ایل این جی کا پندرہواں حصہ جاتا ہے، جس سے 16 ارب کی سالانہ بچت کی جا رہی ہے۔

سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس وزیر کو 5 سال میں ڈھائی سو ارب بچا کر دیئے، وزیرِ پیٹرولیم کو چیلنج کرتا ہوں کہ بتائیں ایل این جی منصوبہ فائدہ مند ہے یا نہیں؟

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں گیس کی شدید قلت ہے، آج ملک میں نہ گیس ہے، نہ بجلی، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، جھوٹ بیچ کر اب ملک نہیں چلایا جا سکتا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کی ترامیم قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ریکارڈ میں موجود ہیں، وزیرِ اعظم این آر او نہیں دے سکتے، این آر او حکومت نے اپنے وزیروں کو دی۔


انہوں نے کہا کہ نیب جب تک رہے گا تب تک ملک نہیں چلے گا، آج نارووال اسپورٹس سٹی کا کیس چل رہا ہے، کل کرتار پور بھی چلے گا، کرتار پور منصوبہ 17 ارب کا ہے۔

نون لیگی رہنما نے مزید کہا کہ جس کو این آر او کی تکلیف ہے اس کو جواب بتا سکتا ہوں، ندیم بابر بتا دیں کہ انہوں نے کوئی سچ بولا ہو، حکومتی وزراء صرف جھوٹ ہی بول سکتے ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جھوٹوں کا ٹولہ ہے جو عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے، حکومتی وزیر پہلے فیصلہ کر لیں کہ بجلی مہنگی لگی ہے یا سستی۔

قومی خبریں سے مزید