سرینگر(جنگ نیوز)مقبوضہ وادی میں حربوں اور چالوں کے باوجود مودی کی پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، دوسری جانب بھارتی فوج نے شوپیاں میں دو کشمیری نوجوانوں کا شہید کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی سیاسی پارٹیوں کے گپکار اتحاد کی مقامی انتخابات میں کامیابی کے بعد مودی حکومت نے ہفتے کو 75 سیاسی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ۔برطانوی میڈیا کے مطابق ڈسٹرک کونسل کے انتخابات رواں ہفتے کے اوائل میں اختتام پذیر ہوئے۔یہ انتخابات وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے گذشتہ برس کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ہوئے۔ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حریت رہنماؤں اور کالعدم جماعت اسلامی گروپ کے اراکین کی نئی نظربندی، حفاظتی تحویل کے تحت کی گئیں۔کشمیر کی ایک مقامی سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا ہے کہ یہ نظربندیاں عوام کے فیصلوں کو مجروح کرتی ہیں۔نیشنل کانفرنس سیاسی پارٹیوں کے اتحاد کی اہم رکن ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنمائوں فریدہ بہن جی اور یاسمین راجہ نے کہاہے کہ کشمیری اپنے ناقابل تنسیخ حق، حق خود اردت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فریدہ بہن جی اور یاسمین راجہ نے سرینگر سے جاری ایک مشترکہ بیان میں افسوس ظاہر کیا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے بیگناہ کشمیری نوجوانوں کا خون بہا رہی ہے۔دریں اثنا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے تازہ ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو نوجوانوں کو شوپیاں ضلع میں شہید کردیا۔یہ کارروائی کانیگام ضلع میں کی گئی اور اسی علاقے میں دو بھارتی فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔حریت رہنما غلام محمد خان سوپوری نے اپنے ایک بیان میں دونوں شہید نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔