آپ آف لائن ہیں
اتوار15؍ رجب المرجب 1442ھ 28؍ فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا پولیس کا سب سے اہم فریضہ ہے۔ ماضی کی بہ نسبت اگر پولیس کےموجودہ کردار کے حوالے سے بات کی جائے تو ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ہو، یا کچے کے جنگلات میں چھپے ڈاکوؤں سے مقابلہ، قومی شاہراہ پر لوٹ مار کرنے والے گروہوں کی سرکوبی ہو یا جرائم پیشہ عناصر اور سماجی برائیاں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا، پولیس ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑی نظر آتی ہے۔ پولیس کے جوان دلیری، بہادری سے حالات کا مقابلہ کرکے ڈاکوؤں و جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لارہے ہیں۔ 

کورونا وائرس کی وبا کے دوران جہاں زندگی کے تمام شعبہ جات بُری طرح متاثر ہوئے ، وہیں اس بات کا امکان بھی جنم لے رہا تھا کہ ڈاکو پولیس کی توجہ دیگر معاملات کی طرف مبذول ہونے کا فائدہ اٹھا کر سرگرم ہوسکتے ہیں۔ کورونا وائرس کے دوران اس سال سکھر کی لیبر کالونی میں سب سے بڑا قرنطینہ سینٹر بنایا گیا اور دیگر اسپتالوں میں انتظامات کئے گئے جہاں پولیس اہلکاروں نے 24 گھنٹے ڈیوٹیاں انجام دیں۔ اس صورتحال میں امن و امان کی فضاء کو بحال رکھنے اور ڈاکوئوں، جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھنے کے لئے ایس ایس پی عرفان علی سموں نے اپنی بہتر حکمت عملی کے ساتھ اس طرح کی پالیسی مرتب کی جس کے تحت پولیس نے کورونا وائرس کی ڈیوٹیاں بھی انجام دیں اور ڈاکوئوں، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن بھی جاری رکھا۔

سکھر پولیس کے لئے سال 2020 مجموعی طور پر کامیابیوں کا سال رہا۔متعدد ڈاکووں کو ہلاک، زخمی اور گرفتار کیا گیا،بھاری مقدار میں اسلحہ اور منشیات پکڑی گئیں اور 6 مغویوں کو مقابلے کے بعد بہ حفاظتبازیاب کرالیا گیا جبکہ پولیس نے دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کا مسروقہ سامان جس میں موٹر سائیکلیں اور موبائل فون شامل ہیں برآمد کرکے اصل مالکان کے حوالے کردیا۔ پولیس کی ڈاکوئوں اور جرائم پیشہعناصرکے خلاف پے در پے کارروائیوں کے بعد پولیس کو ڈاکوئوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر دھمکیوں کا بھی سامنا رہالیکن پولیس ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ڈٹی رہی ۔ اس وقت وہ شاہ بیلو، باگڑجی بیلو سمیت کچے کے متعدد علاقوں میں ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے۔ ایس ایس پی عرفان علی سموں خود آپریشن کی سربراہی کرتے ہوئے زیادہ وقت کچے میں قائم اپنے کیمپ میں گزارتے ہیں ۔

پولیس کے مطابق سال بھر میں 305 پولیس مقابلے ہوئے جن میں 15 ڈاکو مارے گئے اور ایک خطرناک مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس مقابلوں کے دوران مارے جانے والے ڈاکوئوں میں 5 ڈاکوئوں کے سر کی قیمت لاکھوں روپے مقرر تھی۔ ان مقابلوں کے دوران 105 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کئے گئے ۔گرفتار اور مارے گئے ڈاکوئوں کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا 350 سے زائد ڈاکوئوں کو گرفتار کیا گیاجب کہ 60 سے زائد ڈاکوئوں کے گرو ہ کا قلع قمع کیا گیا۔ 3200 سے زائد روپوش اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ 

ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ عناصر سے بھاری تعداد میں جو اسلحہ پکڑا گیا اس میں 20 کلاشنکوف، 21 شاٹ گن، 147 پسٹل، 4 رائفل، ایک ریوالور، ایک مائوزر، دیگر اقسام کی 3 گن، 233 کارتوس، 1909 رائونڈز برآمد کئے گئے۔ پولیس نے اسٹریٹ کرائم خاص طور پر موٹر سائیکل/ موبائل فون چوری کرنے اور چھیننے والے گروہ کے خلاف متعدد کامیاب کریک ڈاون کئے اور 57 گینگ ختم کرکے 85 ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے دو کروڑروپے سے زائد مالیت کی مختلف گاڑیاں جن میں خاص طور پر موٹر سائیکل اور موبائل فون، برآمد کی گئیں ۔برآمد کی جانے گاڑیوں میں 45 کاریں 520 موٹر سائیکلیں اور 102 دیگر گاڑیوں سمیت مجموعی طور پر 663 گاڑیاں شامل ہیں۔ہ مختلف اقسام کے لاکھوں روپے مالیت کے مسروقہ موبائل بھی برآمد کئے گئے ۔گاڑیاں، موبائل فون اور دیگر سامان اصل مالکان کے حوالے کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق باگڑجی کچے کے جنگلات میں ڈاکوئوں نے نو گو ایریا قائم کر رکھے تھے جن کا خاتمہ کرکے ڈاکوئوں کے ٹھکانوں کو مسمارو نذرآتش کردیا گیا اوروہاں پولیس کی مستقل چوکیاں قائم کرکے پولیس کمانڈوز کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے ۔ پولیس کے ان اقدامات سے عوام نے سکھ کا سانس لیا اور اب لوگوں کی باآسانی آمد و رفت بھی جاری رہتی ہے۔کچے کے جنگلات میں پولیس کمانڈوز جدید ہتھیاروں، بکتر بند گاڑیوں اور جدید آلات سے لیس ہیں جن کے پاس نائٹ وژن کیمرے اور دور تک مار کرنے والی دوربین بھی موجود ہیں تاکہ کسی بھی وقت ڈاکوئوں کی نقل یا حرکت یا کسی قسم کی کاروائی پر بروقت جواب دیا جاسکے ۔

یہ سال اس حوالے سے بھی اپنے ساتھ کئی انوکھی باتیں ساتھ لے کر جا رہا ہے کہ کچے کے بدنام ڈاکوئوں نے ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں کے تبادلے کا مطالبہکیا ہے اور پہلی بار ہوا ہے آپریشن کے دوران ڈاکوئوں کی ہلاکت کے بعد شاہ بیلو کے خطرناک ڈاکوؤں نے سوشل میڈیا پر اپنے دیگر ساتھیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ پولیس مسلسل ہمارے ساتھیوں کو مار رہی ہے اس لئے اب پولیس پر حملے کئے جائیں جس پر ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ڈاکووں کے پیغام یا دھمکی کی کوئی فکر نہیں نہ ہم ان چیزوں کو خاطر میں لاتے ہیں پولیس پوری طرح تیار اور 24 گھنٹے الرٹ ہے ۔ ڈاکو اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیں ، بصورت دیگر ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

پولیس کی جانب سےمنشیات فروشوں کے خلاف بھی کریک ڈائون کئے گئے خاص طور پر کچی شراب بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف پولیس کا گھیرا تنگ رہا ۔ کئی شراب کی بھٹیوں کو مسمار کرکے ہزاروں لیٹر کچی شراب اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان برآمد کرکے ملزمان کو قانون کی گرفت لایا گیا۔ قومی شاہراہ پر پولیس نے دو بڑی کارروائیوں میں چرس اور شراب اسمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے لاکھوں روپےمالیت کی بھاری مقدار میں چرس اور سینکڑوں بوتلیں پکڑ لیں اس کامیاب کاروائی میں حصہ لینے والی پولیس پارٹی کو انعام اور تعریفی اسناد دی گئیں۔ 

سال بھر میں پولیس نے مختلف علاقوں میں منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور آپریشن کرتے ہوئے جو منشیات برآمد کیں اس میں 310 کلو چرس 430 گرام ،ہیروئین 407 کلو، 321 گرام بھنگ برآمد کی گئی جب کہ 3015 بوتلیں مختلف برانڈ کی شراب برآمد کی گئیں۔ کچی شراب کی بھٹیوں پر چھاپہ مارکر کچی شراب کے تین جیری کین اور ایک ہزار لیٹر سے زائد شراب برآمد کی گئی۔ لاکھوں روپے مالیت کے ہزاروں کی تعداد میں نشہ آور مصنوعات گٹکہ اور دیگر اشیاء برآمد کی گئیں۔ ضلع بھر میں عوام کے تعاون سے معاشرتی برائیوں کی روک تھام کے لئے تمام تھانوں کی حدود میں اقدامات کئے گئے اور ان معاشرتی برائیوں کی روک تھام کو یقینی بنایا گیاہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید