آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
,

سالِ نو کی آمد پر ماضی میں کامیاب فلمیں پیش کی گئیں

اس مرتبہ سالِ نو کی آمد پر کوئی فلم ریلیز نہ ہو سکی۔ ایک دور وہ بھی تھا،جب سالِ نو کی آمد ہوتی تھی، تو فلموں کی ریلیز کے لیے ڈسٹری بیوٹر حضرات سرگرم ہو جایا کرتے تھے۔ نئے سال کے موقع پر فلم بینوں کے لیے نئی فلموں کا تحفہ بھی پیش کیا جاتا تھا۔ یہ سلسلہ پہلی بار 1950ء میں ریلیز ہونے والی نیشنل سپر آرٹ کے بینر تلے بننے والی فلم ’’جہاد‘‘ سے شروع ہوا۔ یہ فلم کشمیر کے موضوع پر پہلی پروپیگنڈہ فلم تھی،جس کے ہدایت کار ظہور راجہ تھے، جو اس فلم کے ہیرو بھی تھے۔ 

ماہ جنوری کے تناظر میں نمائش ہونے والی ماضی کی فلموں میں ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے صرف چند قابلِ ذکر اور سپرہٹ فلموں کا اگر تذکرہ کیا جائے تو اس سلسلے میں سب سے پہلی سپرہٹ فلم غلام ماہ جنوری 1953ء میں ریلیز ہوئی، جس کے فلم ساز و ہدایت کار انور کمال پاشا تھے۔ یہ فلم اپنے موضوع اور مکالموں کی وجہ سے بے حد پسند کی گئی۔ برصغیر کے عظیم مصنف کلیم احمد شجاع کی لکھی ہوئی اس فلم میں صبیحہ، سنتوش، شمیم، راگنی، اجمل اور ہمالیہ والا نے اہم کردار ادا کیے۔ اس فلم کا شمار ابتدائی کام یاب فلموں میں ہوتا ہے۔ 1955ء کے سالِ نو کی آمد پر جمال پکچرز کی فلم ’’قاتل‘‘ ریلیز ہوئی، جس کےفلم ساز آغا جی اے گل تھے اور ہدایت کار انور کمال پاشا تھے۔

یہ وہ دور تھا، جب پاکستان بھر کے سینما ہائوسز میں بھارتی فلمیں بے پناہ رش کے ساتھ دیکھی جا رہی تھیں۔ انور کمال پاشا کی جب ’’قاتل‘‘ ریلیز ہوئی تو اُس وقت انداز اور آن جیسی بلاک بسٹر بھارتی فلمیں سینما ہائوسز میں چل رہی تھیں۔ ان کے مدِمقابل انہوں نے قاتل ریلیز کر کے زبردست مقابلہ کیا۔ کراچی، حیدرآباد، لاہور پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ’’قاتل‘‘ نے بے پناہ رش لیا اور سپرہٹ رہی۔ اس فلم کے نغمات نے کراچی سے دہلی تک مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ 

ماسٹر عنایت حسین کی سدابہار موسیقی نے اس فلم کو ایک نغماتی فلم کا درجہ دیا۔ اس فلم کے مقبول ترین نغمات میں؎ ’’او مینا نہ جانے کیا ہو گیا‘‘اور’’ اُلفت کی نئی منزل کو چلا‘‘شامل تھے۔ فلم میں صبیحہ، سنتوش نے مرکزی کردار کیے، جب کہ نیّر سلطانہ، مسرت نذیر، اسلم پرویز کی یہ پہلی فلم تھی۔ کراچی کے سابقہ تاج محل سینما میں اس فلم نے شان دار سلور جوبلی منائی تھی۔ 1956ء کے آغاز میں ریلیز ہونے والی سپرہٹ نغماتی فلم ’’دُلّا بھٹی‘‘ نے عوام میں بے پناہ پذیرائی حاصل کی۔ 

ایورنیو پکچرز کی اس کاسٹیوم میوزیکل فلم میں سدھیر اور علائوالدین نے اہم کردار ادا کیے، صبیحہ خانم نے اس فلم میں پنجاب کی اَلہڑ مُٹیار نوراں کا یادگارکردار ادا کیا۔ نیلو نے اس فلم میں ایکسٹرا اداکارہ کے طور پر کام کیا۔ موسیقار جی اے چشتی کی دُھنیں پنجاب سے سُر بکھیرتی ہوئیں ہندوستان کے کونے کونے میں جب سُنی گئیں، تو سب نے کہا کہ ایسا سُریلا اور رَسیلہ میوزک پنجابی موسیقی میں وہ پہلی بار سُن رہے ہیں، منوّر سلطانہ کا گایا ہوا یہ گیت؎ ’’واسطہ ای رَبّ دا تو جاویں وے کبوترا‘‘ آج تک اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے، دل چسپ بات یہ ہے کہ اس قدر سپرہٹ ہونے والی اس پنجابی فلم کے ہدایت کار انور کمال پاشا نے اس کے ٹائٹل پر اپنا نام دینے کے بہ جائے ایم ایس ڈار کا نام دیا۔ اس فلم کی آمدنی سے آغا جی اے گل نے موجودہ ایورنیو اسٹوڈیو قائم کیا۔ ماہ جنوری میں ’’دُلّا بھٹی‘‘ کے ساتھ ایک اُردو فلم ’’انوکھی‘‘ بھی ریلیز ہوئی، جس کی موسیقی نے ہر طرف دُھوم مچا دی۔ بھارتی اداکارہ شیلا رومانی نے اس فلم میں اداکار شاد کے مقابل ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ 

معروف مزاحیہ اداکار لہری کی یہ پہلی فلم تھی۔اس فلم کا ایک نغمہ؎’’گاڑی کو چلانا بابو ذرا ہلکے ہلکے‘‘کو ایک دور میں سب سے مقبول نغمے کی سند حاصل رہی۔ 1960ء میں سالِ نو کی آمد پر کراچی میں ایک خُوب صورت جدید سینما ریوالی کا افتتاح اور فلم راہ گزر سے ہوا، جس میں صبیحہ اور اسلم پرویز نے مرکزی کردار ادا کیے۔ 1961ء کے ماہ جنوری میں بہ طور ہدایت کار شباب کیرانوی کی پہلی فلم ثرّیا ریلیز ہوئی۔ گھریلو اور معاشرتی فلم نے ہر طبقۂ فکر کے لوگوں میں پذیرائی حاصل کی۔ اس فلم میں اداکارہ نیّر سلطانہ نے ثرّیا کا یادگار کردار نبھایا۔ حبیب، رخسانہ، ناصرہ، زینت، علی بابا، اسد بخاری، ایم اسمٰعیل، رنگیلا، آزاد اس فلم کی کاسٹ میں شامل تھے۔ اس فلم ک ایک گانا؎ ’’آج میرے مُنّے کی سالگرہ ہے‘‘ اپنے دور کا ایک مقبول ترین نغمہ تھا، جو بچوں کی سال گرہ کے موقع پر ہر گھر میں گایا جاتا تھا۔

1962ء میں سالِ نو کی آمد ایک معرکۃ الآرا فلم ’’شہید‘‘ سے ہوئی، خلیل قیصر اس فلم کے پروڈیوسر اور ہدایت کار تھے۔ یہودی اجنبی کا کردار آغا طالش نے کیا۔ عرب سردار کا کردار علائوالدین نے،جب کہ تیسرا اہم کردار اداکارہ مسرّت نذیر نے کیا، جو ایک رقاصہ کا تھا۔ اس فلم کی کاسٹ میں حسنہ، اعجاز، ساقی، ہمالیہ والا، ایمی مینوالا، البیلا، امداد حسین، دلجیت مرزا کے نام بھی شامل تھے۔ فلم کی موسیقی رشید عطرے نے مرتب کی تھی، جو اس قدر مسحورکن تھی کہ آج بھی اس فلم کے نغمات سپرہٹ ہیں؎ ’’حبیبی حیّا حیّا‘‘، ’’اُس بے وفا کا شہر ہے‘‘، ’’میری نظریں ہیں تلوار‘‘ جیسے سپرہٹ نغمات اس قلم میں شامل تھے۔ یہ پہلی فلم تھی، جس نے 9 نگار ایوارڈ حاصل کیے تھے، جو تعداد کے لحاظ سے بہت زیادہ تھے۔ ریاض شاہد کی لکھی ہوئی اس فلم کو دُنیا کی بہترین فلموں میں شامل کیا جا تا ہے۔

1968ء کا سال فلمی صنعت کا ایک یادگار سال ثابت ہوا، جب نئے سال کے آغاز پر 2 جنوری کو عیدالفطر منائی گئی، اس موقع پر فلم ساز شباب کیرانوی کی گولڈن جوبلی نغماتی فلم سنگدل کراچی کے ریگل سینما پر ریلز ہوئی، جس کے ہدایت کار ظفر شباب تھے، ندیم، دیبا اس کے ہیرو ہیروئن تھے۔ اداکار مسعود اختر کی یہ پہلی فلم تھی، صاعقہ، رنگیلا، منور ظریف، سیما، زینت، تانی، ننھا کے علاوہ اداکارہ روزینہ اس فلم میں اہم کردار میں نظر آئیں۔ منظور اشرف کی سپرہٹ موسیقی میں ’’سُن لے جان وفا‘‘، ’’میرے شوخ صنم‘‘، ’’کہتےہیں سبھی مجھ کو‘‘، ’’دِل کو جلا ئے تیرا پیار‘‘ تمام گانے بے حد مقبول ہوئے۔ سنگدل کے ساتھ کراچی میں جوبلی سینما پر بہ طور ہدایت کار اقبال اختر کی پہلی کام یاب فلم ’’دوسری ماں ‘‘ ریلیز ہوئی، جس کے فلم ساز مارواڑی سلاوٹ جماعت کے سردار یاسین اور الطاف تھے۔ اس فلم میں شمیم آرا اور کمال نے مرکزی کردار ادا کیے تھے، جب کہ معروف اسٹیج اداکارہ نعیمہ گرج نے ماسٹر شوکی کے نام سے چائلڈ اسٹار رول کیا تھا۔ 

لہری، روزینہ، آزاد، نرالا، حنیف کے علاوہ اداکارہ سنگیتا اور کویتا کی والدہ مہتاب بانو بھی اس فلم کی کاسٹ میں شامل ہیں۔ فلم کے موسیقار لال محمد اقبال تھے، جن کی دُھنیں بے حد مقبول ہوئیں، خاص طور پر بچوں کا یہ گانا جو اکثر سالگرہ کے موقع پر سُنا جاتا ہے’’الف زَبر آ، میم زیر می آے نینا سالگرہ پر تجھ کو دُعا دوں اور کیا میرے لال‘‘ آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اکمل اور فردس کی سپرہٹ پنجابی معاشرتی فلم روٹی بھی ان دونوں فلموں کے ساتھ کوہ نور سینما پر ریلیز ہوئی تھی۔ 1970ء میں ماہ جنوری میں کراچی میں دس عدد فلمیں ریلیز ہوئیں، جو تعداد کے اعتبار سے ماہ جنوری میں نمائش ہونے والی پچھلے تمام سال سے زیادہ تھیں۔ 

ان تمام فلموں میں فلم ساز و ہدایت کار حسن طارق کی نغماتی میوزیکل رومانی کلر فلم ’’شمع اور پروانہ‘‘ اور ظفر شباب کی پنجابی فلم ’’کوچوان‘‘ قابل ذکر تھیں۔ شمع اور پروانہ میں رانی اور ندیم نے ٹائٹل رولز کیے، جب کہ اداکارہ شبنم نے ایک اَندھی لڑکی کے کردار میں عمدہ اداکاری کی۔ یہ فلم اپنی عمدہ موسیقی اور مقبول نغمات کی وجہ سے ایک یادگار فلم ثابت ہوئی۔’’میں تیرے اَجنبی شہر میں‘‘، ’’آج ہے محفل دید کے قابل‘‘، ’’میں تیرا شہر چھوڑ جائوں گا‘‘، ’’پیار کو جُرم سمجھتی ہے‘‘، ’’تیری تصویر کیا بنائے کوئی‘‘ اور باقی سارے نغمات بے حد مقبول ہوئے۔ یہ تمام نغمات موسیقار نثار بزمی کے فن کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے آج بھی گائے اور سُنے جاتے ہیں۔

1971ء کے نئے سال پر نذر شباب کی گرہستی، ایم اکرم کی کلر پنجابی فلم چڑھدا سُورج، بھٹی بردران کی ’’دُنیا مطلب دی‘‘ ہدایت کار کے خورشید کی’’نیند ہماری خواب تمہارے‘‘ ہدایت کار اقبال یوسف کی جاسوسی کلر فلم ’’نائٹ کلب‘‘ پاک ایران کے اشتراک سے بننے والی فلم آپریشن کراچی اور ہدایت کار کیفی کی پنجابی فلم ’’سچّا سودا‘‘ ریلیز ہوئیں۔ اس سال ماہ جنوری میں ایک درجن فلمیں ریلیز ہوئیں۔ 1972ء میں ماہ جنوری نئے سال کی آمد پر جو قابل ذکر فلمیں ریلیز ہوئیں، اُن میں شباب کیرانوی کی افسانہ زندگی کا، ہدایت کار پرویز ملک کی ’’میرے ہمسفر‘‘ ہدایتکار لئیق اختر کی خلش اور بطور ہدایت کار حسن عسکری کی پہلی پنجابی فلم ’’خون پسینہ‘‘ کے نام شامل ہیں۔ 

ماہ جنوری میں پیش کی جانے والی یہ ابتدائی چند سال کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا۔ چند قابل ذکر فلموں کے مختصر تذکرے پر مشتمل اس جائزے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب سینما انڈسٹری اورفلمی صنعت کا عروج تھا یہاں بعض فلموں کے صرف نام ہی تحریر کیے ہیں، کیوں کہ اس مختصر مضمون میں ان کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہ تھی، موجودہ صورتِ حال کے مقابلے میں ماضی کی ان یادگار اورکام یاب فلموں کا جائزہ آپ کے سامنے ہے، فلمیں آج بھی بن رہی ہیں، لیکن فلم بینوں میں وہ مقبولیت حاصل نہیں کر پارہی ہیں، جو ماضی کی فلموں کا طرّئہ امتیاز تھا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید